سیدنا حسینؓ کی روایات
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ حضورﷺ کے وصال کے وقت چونکہ سات سال کے تھے اس لیے حدیث سننے کے مواقع بہت کم ملے اور اس عمر میں سنے بھی ہوں تو یاد رکھنا آسان نہیں ہوتا سیدنا حسینؓ سے آٹھ روایات ملتی ہیں آپؓ نے حضورﷺ کی وہ احادیث یاد رکھیں اور انہیں آگے پہنچایا۔(الاصابۃ: جلد 1 صفحہ 331)
حافظ ابن عبدالبرؒ نے آپؓ سے حضور اکرمﷺ کی روایات نقل کی ہیں۔ (استیعاب)
آپ نے سیدنا علی، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما اور سیدہ فاطمہؓ سے بھی روایت لی ہیں اور آپؓ سے روایت کرنے والوں میں آپؓ کے صاحبزادے علی اور زید آپؓ کے بھائی سیدنا حسن صاحبزادی فاطمہ اور سکینہ رضی اللہ عنہم اور دیگر حضرات ہیں۔
( تہذیب: جلد 4 صفحہ 345، الاصابۃ: جلد 1 صفحہ 331)
حضرت امام شمس الدین ذہبیؒ (748ھ) نے آپؓ سے روایت کرنے والوں میں عبید بن حنین، ہمام الفرزدق، عکرمہ، شعبی، طلحہ عقیلی، آپؓ کے بھتیجے زید بن حسن اور آپؓ کے پوتے محمد باقر کا بھی ذکر کیا ہے تاہم مؤخرالذکر کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے آپؓ کا دور نہیں پایا تھا۔
مُحَمَّدُ بنُ عَلِی الْبَاقِرْ وَلَمْ یَدْرَکْهٗ
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 188)
مسند احمد کی ایک روایت میں ہے۔ یہ روایت آپؓ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ آپؓ سے نقل کرتی ہیں:
عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْۃِ الْحُسَیْنِ، عَنْ أَبِیھَا الْحُسَیْنِ بْنِ عَلَیَّ، عَنِ النّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّم قَالَ:"مَامِنْ مُسْلِمٍ، وَلَا مُسْلِمَۃٍ یُصَابُ بِمُصِیْبَۃٍ، فَیَذْکُرُھَا وَأِنْ طَالَ ثعَھْدُھَا- قَالَ عَبَّادٌ: قَدُمَ عَھْدُھَا-فَیُحْدِثُ لِذَلِکَ اسْتِرْجَاعًا، إِلا جَدَّدَ اللهُ لَهُ عِنْدَ ذَلِکَ، فَأعْطَاہُ مِثْلَ أجْرِھَا یَوْمَ أُصِیْبَ بِھَا
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 231)
آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جس کسی مسلمان مرد و عورت کو کوئی مصیبت پہنچے خواہ اسے گزرے ہوئے کتنا ہی وقت گزر چکا ہو اور وہ اسے جب بھی یاد آ جائے اس پر وہ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ کہہ لیا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اس پر وہی اجر دیں گیں جو اس مصیبت کے دن اس کو پہنچنے (اور اس پر صبر کر کے انا للہ پڑھنے) پر عطا فرمایا تھا۔
امام ابنِ ماجہؒ نے اپنی سنن میں بھی یہ روایت نقل کی ہے۔ ( صفحہ 166)
حضرت امام بخاریؒ (256ھ) نے اپنی صحیح میں اور امام احمدؒ (241ھ) نے اپنی مسند میں آپؓ سے مروی روایتوں کو کئی جگہ نقل کیا ہے ان میں آپؓ سیدنا علیؓ اور حضور اکرمﷺ کے مولی ابو رافع سے روایت کرتے ہیں تاہم بعض روایات میں آپؓ سے براہ راست بھی ملتی ہیں۔
عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ حُسَیْنٍ، عَنْ أَبِیْھَا-قَالَ عَبْدُالرَّحْمَنِ: حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّم:"لِلسَّائِلِ حَقٌّ وَإِنْ جَاءَ عَلَی فَرَسٍ۔
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 230)
ترجمہ: حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سائل کا حق ہوتا ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر مانگنے آیا ہو۔
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ أَبِیهِ: أَنَ النّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّم قَالَ:"الْبَخِیلُ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ، ثُمَّ لَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ"
(مسند احمد: جلد 1 صفحہ 231)
حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ شخص بخیل ہے کے جس کے سامنے میرا نام آئے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے
عَنْ عَلَیَّ بْنِ حُسَیْنٍ، عَنْ أبِیْهِ، رَضِیَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّم:"مِنْ حُسْنِ إِسْلامِ الْمَرْءِ تَرْ کُهُ مَالَا یَعْنِیْهِ۔ (ایضاً: صفحہ 331)
حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کے اسلام کی خوبی کم گفتگو اور لا یعنی باتوں سے اجتناب کرنا ہے۔
عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ شَیْبَانَ، قَالَ:قُلْتُ لِلحُسَیْنِ بْنِ عَلِیِّ رَضِیَ اللّهُ عَنْهُ: ما تَعْقِلُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِﷺ؟ قَالَ: صَعِدْتُ غُرْفَۃً، فَأَخَذْتُ تَمْرَۃً، فَلُکْھَا فِی فِیَٔ. فَقَالَ الَنَّبِیُّﷺ:"أَلْقِھَا، فَإِنَّھَا لَاتَحِلُّ لَنَا الصَّدَ قَۃُ (ایضاً)
ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسینؓ سے پوچھا کہ آپؓ کو حضور اکرمﷺ کی کوئی بات یاد ہو تو ارشاد فرمائیے آپؓ نے فرمایا کہ ایک دن میں بالاخانے پر چڑھ گیا تھا وہاں صدقہ کے کھجور پڑے ہوئے تھے ان میں سے میں نے ایک کھجور لیا اور منہ میں ڈالا ہی تھا کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اس کو باہر نکال دو اس لیے کہ ہمارے لیے صدقہ کا مال جائز نہیں ہے۔
عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلَیَّ، عَنِ النّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّم، قَالَ: الْحَرْبُ خَدْعَۃً۔ (مسند بزار: جلد 4 صفحہ 187)
حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنگ ایک دھوکہ ہے (معلوم نہیں کس وقت کہاں سے کیا معاملہ پیش آ جائے)
عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلَیَّ، عَنِ النّبِیِّﷺ حدیثا فی ابن صائد: اختلفتم وأما بَیْنَ أَظْھُرِ کُمْ فَأَنْتُمْ بَعْدِی أَشَدُّ اخْتِلافًا.
(استیعاب: جلد 1 صفحہ 145)
حضور اکرمﷺ نے ابن صائد کے ذکر میں (لوگوں کے اختلاف دیکھتے ہوئے) فرمایا کہ تم لوگ اختلاف میں پڑ گئے حالانکہ میں ابھی تمہارے درمیان موجود ہوں میرے بعد تم لوگ سخت اختلاف بھی دیکھو گے۔
