جاوید غامدی کے عقائد و نظریات کا اسلامی عقائد سے تقابلی…

جاوید غامدی کے عقائد و نظریات کا اسلامی عقائد سے تقابلی جائزہ

  یاسر رسول

صفحہ 1 از 3

جاوید غامدی کے عقائد و نظریات کا اسلامی عقائد سے تقابلی جائزہ

جاوید غامدی کے عقائد و نظریات "اُمت مسلمہ اور تمام مکاتب فکر کے علماء دین کے متفقہ اور اجماعی عقائد و اعمال" سے بلکل الگ اور مختلف ہیں۔ غامدی نے سیدھے راستے کو چھوڑ کر غلط راستہ اپنایا ہے۔

اللہ (عزوجل) قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے

"جو شخص رسول اللہﷺ  کی مخالفت کرے گا اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر کسی اور راستے پر چلے گا حالانکہ اس پر صحیح راستہ واضع ہو چکا ہو تو اسے ہم اُسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور پھر اسے جہنم میں داخل کریں گے جو بہت بُرا ٹھکانہ ہے"۔

اب ہم 'جاوید احمد غامدی' کے نظریات کا اسلامی نظریات سے ملا کر پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔

 ذیل میں "جاوید غامدی کے  38  عقائد و نظریات" کا  "علماء اسلام کے متفقہ عقائد و نظریات" سے تقابلی جائزہ ہے جس کے بعد آپ کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا کہ کون صحیح راستے پر ہے اور کون غلط تعبیریں کرکے گمراہ ہوچکا ہے۔

فتنہ غامدی عقیدہ نمبر 1

"جو شخص صرف خدا اور آخرت پر یقین رکھتا ہو، خواہ یہودی ہو یا عیسائی یا کوئی اور مذہب کا ماننے والا ہو، وہ نجات پاسکتا ہے اور جنت میں جاسکتا ہے"۔

متفقہ اسلامی عقیدہ

کوئی شخص مکمل ایمان یعنی اللہ پر، فرشتوں پر، نبیوں پر، آسمانی کتابوں پر، آخرت پر اور اچھی بری تقدیر کے منجانت اللہ ہونے پر ایمان لائے بغیر نہ تو نجات پاسکتا ہے اور نہ جنت میں جاسکتا ہے۔ حدیث جبرائیل میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام)  کا  پہلا سوال یہ تھا کہ اسلام کیا ہے؟ اس کے جواب میں آنحضرتﷺ نے اسلام کے پانچ ارکان ذکر فرمائے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام)  کا  دوسرا سوال یہ تھا کہ: ایمان کیا ہے؟ آنحضرتﷺ  نے ارشاد فرمایا کہ: "ایمان یہ ہے کہ تم ایمان لاوٴ اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور ایمان لاوٴ اچھی بری تقدیر پر"۔

مگر آپ نوٹ کریں کہ مسلمانوں کا ایمان کمزور کرنے کے لیے 'جاوید احمد غامدی' کہتا ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے لیے مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ہندو، عیسائی اور یہودی بھی جنت میں جاسکتے ہیں۔ آسان الفاظ غامدی سمجھانا چاہ رہا ہے کہ چاہے آپ اسلام سے نکل کر یہودی نصرانی ہو جائیں پھر بھی جنت میں جاسکتے ہیں اس لیے اسلامی احکامات پر عمل کرنا یا نماز روزہ کی پابندی بھی ضروری نہیں۔ یہ فتنہ نہیں تو اور کیا ہے؟

فتنہ غامدی ، عقیدہ نمبر 2 

"توریت، زبور اور انجیل آج بھی خدا کی کتابیں ہیں اور ان پر عمل کرنے والا بھی جنت میں جائے گا "۔ (یعنی ہندو، عیسائی اور یہودی بھی اپنی کتابوں پر عمل کر کے جنت میں جاسکتے ہیں)۔

متفقہ اسلامی عقیدہ 

توریت، زبور اور انجیل اللہ عزوجل کی ہی کتابیں تھیں مگر وہ محفوظ نہ رہ سکیں، یہود و نصاریٰ نے ان میں من پسند تحریفیں کردی تھیں جبکہ قرآن پاک کے نازل ہونے کے بعد وہ سب کتابیں اور ان میں موجود شریعتیں منسوخ ہوگئیں۔ قرآن پاک ہی اب نئی شریعت ہے، یہود و نصاریٰ کے تحریف شدہ کتابوں کی اصلیت کی کوئی گارنٹی نہیں رہی اور نہ ہی ان کی پرانی شریعتیں قابل عمل ہیں کیونکہ ہر رسول کی نئی شریعت آنے کے بعد پرانی شریعتیں خودبخود منسوخ ہو جاتی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے بھی تمام شریعتیں ختم کرکے قرآن کی شریعت اپنانے کا حکم دیا۔

دراصل جاوید غامدی نے توریت، زبور اور انجیل کی موجودہ کتابوں کو اس لیے خدا کی کتابیں کہا کیونکہ ایسا کہنے سے ایک تو مسلمان قرآن پاک کو کم اہمیت دیں گے، دوسرا مسلمان دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو بھی حق پر سمجھ کر انہیں اسلام لانے کی تبلیغ کرنا چھوڑ دیں گے۔ یہ ایک طرح کی ایسی برین واشنگ ہے جس کے زریعے مسلمانوں کو اصل اسلام سے دور کر کے نیا اسلام تھما کر کفار کی خوشنودی حاصل کی جا رہی ہے۔

فتنہ غامدی ، عقیدہ نمبر 3

" نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد کسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا "۔

متفقہ اسلامی عقیدہ

جو شخص دین کے بنیادی ارکان، شعائر اسلام اور ضروریاتِ دین میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرے تو اسے کافر قرار دیا جاسکتا ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 4

"قرآن کی صرف ایک ہی قرأت درست ہے، باقی سب قرأتیں عجم کا فتنہ ہیں"۔

متفقہ اسلامی عقیدہ

قرآن مجید کی سات یا دس (سبعہ یا عشرہ) قرأتیں متواتر اور صحیح ہیں اور یہ 14 سو سال سے چلتی آرہی ہیں۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 5

"قرآن کا ایک نام میزان بھی ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

میزان، قرآن پاک کے ناموں میں سے کوئی نام نہیں ہے اور نہ ہی کسی قرآنی آیت یا حدیث سے ثابت۔ قرآن پاک کو نیا نام دیکر غامدی نے فتنہ کھڑا کیا ہے۔ جاوید غامدی نے کبھی قرآن کو میزان قرار دیا ہے تو کبھی سنت کو میزان ٹہرایا۔ کبھی ایک میزان کبھی دو میزانیں۔ ایک جگہ لکھتا ہے "قرآن میزان ہے۔۔چنانچہ تولنے کے لیے یہی ہے۔ اس دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس پر اسے تولا جاسکے۔

(میزان، صفحہ22، طبع دوم، اپریل 2002)

ہر چیز اسی میزان (قرآن) پر تولی جائے گی۔

(میزان حصہ اول، صفحہ140، اشاعت 1985)

پھر آگے چل کر دوسری جگہ سنت کو بھی میزان کہہ دیا۔ چنانچہ اپنے رسالے"اشراق" میں لکھتا ہے۔ "قارئین محترم ! اشراق ایک تحریک ہے، علمی تحریک۔۔۔۔فکر و نظر کو قرآن و سنت کی میزان میں تولنے کی تحریک ۔۔۔۔"

(ماہنامہ اشراق، بابت اپریل، مئی، جون، جولائی، اگست، اکتوبر، نومبر، دسمبر 1991)

اس طرح غامدی نے ایک طرف قرآن کو میزان قرار دیا اور پھر دوسری طرف سنت کو بھی میزان مان لیا۔ یہ چیز ان کی مکاری کو عیاں کرتی ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 6

"سورہ نصر مکی ہے"

متفقہ اسلامی عقیدہ

سورہ نصر مکی نہیں بلکہ مدنی ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 7

"قرآن میں اصحاب الاخدود سے مراد دور نبوی کے قریش کے فراغنہ ہیں"

متفقہ اسلامی عقیدہ

اصحاب الاخدود کا واقعہ بعثت نبوی سے بہت پہلے زمانے کا ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 8

"سورہ لہب میں ابولہب سے مراد قریش کے سردار ہیں"

متفقہ اسلامی عقیدہ

ابولہب سے نبیﷺ کے کافر چچا اور مکے کے کافروں کا سردار"ابولہب" ہی مراد ہے۔

فتنہ غامدی، عقیدہ نمبر 9

صفحہ 1 از 3