شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 7

شیعوں کے دانشوروں کو دعوت اصلاح

ہماری تمنا ہے کہ ہم شیعہ مذہب میں جو چند اشکالات پاتے ہیں ان کا ذکر کریں۔ اور ہم ان کے عقلمندوں کو مخاطب کرتے ہیں جو حق کی تلاش میں ہیں ان پر غور کریں یہ اشکالات ہمارے نہیں شیعوں کی کتابیں ان سے بھری ہیں ان سے ان کے عقیدہ کی اضطرابی حالت واضح ہوتی ہے، لہٰذا یہ تنہا بیٹھ کر اور اخلاصِ نیت سے ان پر غور کریں۔ امید ہے یہ غور کریں گے اور اگر یہ غور کریں گے یقیناً راہِ حق پا جائیں گے۔

  1. شیعہ حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ سیدنا علیؓ بن ابی طالب امام معصوم ہیں اس کے بعد ان کی کتابوں (الکافی فی الفروع جلد 6 صفحہ 115 تہذیب الاحکام) کتاب الاستبصار وغیرہ کتب میں ہے کہ انہوں نے اپنی بیٹی سیدہ امِ کلثومؓ جو کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی حقیقی بہن تھیں۔ ان کا نکاح سیدنا عمر بن خطابؓ سے کیا۔ اس سے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ سیدنا علیؓ غیر معصوم ہیں ان کے بقول انہوں نے بیٹی کا نکاح کافر سے کیا۔ یہ ان کے مذہب کی بنیاد کے خلاف ہے۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ سیدنا عمرؓ مسلمان تھے کہ انہوں نے سیدنا علیؓ کی دامادی کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔ اب شیعہ حضرات کو سیدنا عمرؓ پر تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ 
  2. شیعہ کے بقول حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کافر تھے۔ جبکہ حضرت علیؓ ہیں جو کہ امام معصوم ہیں ان کی خلافت پر رضامند ہیں یکے بعد دیگر دونوں سے بیعت ہوئے ان کے خلاف بغاوت نہ کی اس سے ثابت ہوا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ معصوم نہ تھے۔ دوسری صورت ہے کہ سیدنا علیؓ کا یہ اقدام درست تھا کہ انہوں نے ان دو مومن سچے اور عادل خلفاء کی بیعت کی تو شیعہ اپنے معصوم امام کے نافرمان ہوئے یہ ان دونوں کو گالیاں دیتے ہیں اب بتائیں کس کی بات مانیں۔
  3.  سیدہ فاطمہؓ کی وفات حسرت آیات کے بعد سیدنا علیؓ نے متعدد خواتین سے شادی کی۔ اور ان سب بیویوں سے اولاد ہوئی۔ 1۔ عباس بن علیؓ بن ابی طالب 2۔ عبداللہ بن علیؓ بن ابی طالب 3۔ جعفر بن علیؓ بن ابی طالب ہے 4۔ عثمان بن علیؓ بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ان کی امی کا نام ام البنین بنتِ حزام بن دارم ہے۔ 

(کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ علی اریلی)۔ 

اور سیدنا علیؓ کے بیٹے 1۔ عبد اللہ بن علیؓ بن ابی طالب 2۔ ابوبکر بن علیؓ بن ابی طالب ۔ ان کی والدہ لیلیٰ بنتِ مسعود ارمیہ ہے۔ (حوالہ مذکور)۔

1۔ ان کے بیٹے یحییٰ بن علیؓ بن ابی طالب بھی ہیں 2۔ محمد اصغر بن علیؓ بن ابی طالب 3۔ عون بن علیؓ بن ابی طالب ہیں ان کی امی سیدہ اسماء بنتِ عمیسؓ ہیں۔ ان کی بیٹیاں 1۔ رقیہ بنتِ علیؓ بن ابی طالب2۔ عمر بن علیؓ بن طالب یہ 35 برس کے تھے جب یہ فوت ہوئے یہ رقیہ کے حقیقی بھائی ہیں ان کی امی امِ حبیب بنتِ ربیعہؓ ہیں۔ (حوالہ مذکور)۔

 1 امِ حسن بنتِ علیؓ بن ابی طالب2۔ رملہ کبریٰ بنتِ علیں بن ابی طالب۔ ان دونوں کی امی امِ مسعود بنتِ عروہ بن مسعود ثقفیؓ ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ کبھی کوئی باپ اپنے دل کے ٹکڑوں کے نام اپنے دشمنوں کے نام پر رکھ سکتا ہے اور دیکھیں پھر باپ بھی غیرت مند ہو۔ امام بھی ہو اور غیرتِ دینی سے مالا مال بھی ہو اور قریشی ہو یہ دیکھیں حضرت علیؓ بن ابی طالب اپنے جگر گوشوں کے نام ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ رکھتے ہیں۔ 

(4)۔ نہج البلاغہ 136 میں لکھا ہے اور یہ کتاب شیعوں کی معتبر ترین کتاب ہے کہ سیدنا علیؓ نے خلافت سے استعفیٰ دیا، کہا:

دعونی والتهسوا غيری۔

"مجھے چھوڑ دو کسی اور کو خلیفہ ڈھونڈ لو۔“

شیعوں کے نزدیک امامت فرض ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان کے نزدیک معصوم امام اتنے اہم فریضہ خلافت سے استعفیٰ پیش کر رہے ہیں یہ شیعہ مذہب کے باطل ہونے کی دلیل ہے اسے سچا کرنے کے لیے ہماری مشکل دور کی جائے۔

(5)۔ بقول شیعوں کے کہ سیدہ فاطمہؓ جگر گوشہ رسول اللہﷺ ہیں۔ اور یہ سچ ہے کہ سیدہ عفیفہ و شریفہ فاطمہؓ محمد مصطفیٰﷺ کے دل کا ٹکڑا ہیں۔ اور پھر یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ کے دورِ خلافت میں ان کی اہانت کی گئی۔ ان کی پسلی توڑی، ان کے گھر کو جلانے کی کوشش کی گئی اور ان کے پیٹ کا بچہ محسن ساقط ہو گیا۔ تو سوال یہ ہے کہ سیدنا علیؓ، جو کہ اللہ کے شیر ہیں حیدرِ کرار اور شجاع ترین ہیں انہوں نے اپنی بیوی پر ظلم کا بدلہ کیوں نہ لیا۔ 

(6)۔ بڑے بڑے سادات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اہلِ بیتؓ کے ساتھ رشتہ داریاں قائم رکھیں۔ اور آپس میں شادیاں کیں ہماری اس بات پر سنی اور شیعہ کتب گواہ ہیں نبی اکرمﷺ نے سیدہ عائشہؓ بنتِ ابی بکرؓ اور سیدہ حفصہؓ بنتِ عمرؓ سے شادی کی اور اپنی بیٹیوں سیدہ رقیہؓ اور سیدہ امِ کلثومؓ کا نکاح یکے بعد دیگرے تیسرے خلیفہ راشدین سیدنا عثمانؓ سے کیا جو مشہور سخی اور ذوالنورین ہیں۔ سیدنا عثمانؓ نے اپنے بیٹے ابان کی شادی سیدہ امِ کلثوم بنتِ عبداللہ بن جعفرؓ بن ابی طالب سے کی، آگے سیدنا عثمانؓ کے پوتے مردان کی جو کہ ابان کا بیٹا تھا کی شادی امِ قاسم بنتِ حسن بن حسن بن علیؓ بن ابی طالب سے ہوئی ۔ زید بن عمرو بن عثمانؓ کی شادی سیدہ سکینہ بنتِ حسینؓ سے ہوئی۔ آگے عبداللہ بن عمرو بن عثمانؓ کی شادی سیدہ فاطمہ بنت حسین بن علیؓ بن ابی طالب سے ہوئی تھی۔

ہم نے خلفائے ثلاثہؓ کی آل و اولاد اور اہلِ بیتؓ کی اولاد کی شادیوں کا ذکر کیا ہے اب سوال یہ ہے اگرچہ عوام کے سامنے تو ایسا نہیں کرتے مگر خاص مقام پر ہر شیعہ کو علم ہے کہ ان نیک ہستیوں پر طعن و تشنیع اور سب و شتم اور لعنت کی جاتی ہے اور اپنے حسینی مراکز میں ان پاکبازوں پر لعنت کرتے ہیں آخر اس کا جواز کیا ہے۔

یہ بھی ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے بیٹے کا نام عمر رکھا۔ جو امِ حبیب بنتِ ربیعہ سے پیدا ہوئے تھے یہ طف یعنی کربلا میں اپنے بھائی سیدنا حسینؓ کے ساتھ شہید ہوئے تھے اپنے حسینی مراکز میں یا تعزیوں میں تم سیدنا حسینؓ کا ذکر و ماتم تو بہت کرتے ہو ان کے بھائی عمر کا کبھی جو مظلوم شہید ہیں ذکر نہیں کیا۔ سیدنا حسن بن علیؓ نے اپنے بیٹے کا نام ابوبکر رکھا اس کے بعد والے کا نام عمر رکھا تھا (الارشاد المفیدہ 640 جلاء العیون مجلس 582) اب بتائیں اہلِ بیتؓ جن کے نام پر اپنی اولادوں کے نام رکھتے رہے۔ ان پر لعن طعن کا جواز نکلتا ہے۔

صفحہ 1 از 7