3۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ مشورہ کہ لوگوں کو ایک قرأت پر جمع کر دو:
سیدنا عثمان غنیؓ نے مہاجرین و انصار کو جمع کیا اور لوگوں کو ایک قرأت کا پابند بنانے کے لیے ان سے مشورہ کیا، ان میں ممتاز صحابہؓ شریک تھے اور سب سے پیش پیش حضرت علیؓ تھے۔ حضرت عثمانؓ نے امت مسلمہ کے ان پاکیزہ نفوس اور ہدایت یافتہ قائدین ملت کے سامنے اس پیچیدہ مسئلہ کو رکھا اور سب نے گہرائی سے اس کا جائزہ لیا، بحث و تمحیص کی اور حضرت عثمانؓ بھی برابر شریک رہے، اور جب سب کی رائے آپ کو اور آپ کی رائے دوسروں کو معلوم ہو گئی تو ان بزرگ ہستیوں کا اجماع حکومت اسلامی کے ہر خطہ کے تمام افراد کو معلوم ہو گیا اور کسی نے کہیں کوئی اعتراض یا مخالفت نہ کی اور قرآن کی یہ شان بھی نہیں ہے کہ امت کے کسی فرد سے اس کی حیثیت پوشیدہ رہے چہ جائیکہ علمائے دین اور نمایاں ائمہ اس سے غافل رہ جائیں۔
(عثمان بن عفان: صادق عرجون: صفحہ 175)۔
واضح رہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے مصحف قرآنی کو جمع کر کے دین میں کوئی بدعت ایجاد نہیں کی۔ ایسا آپ سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ بھی کر چکے تھے، نیز حضرت عثمانؓ نے تنہا اپنی مرضی سے یہ کام نہیں کیا بلکہ اعیان صحابہؓ سے اس سلسلہ میں مشورہ کیا اور سب کو یہ بات پسند آئی اور اپنی خوشی کا اظہار انھوں نے یہ کہتے ہوئے کیا کہ آپ نے کیسی اچھی بات سوچی اور کتنا عمدہ کام کیا۔
(فتنہ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 78)
جس وقت حضرت عثمان غنیؓ قرآن کے مختلف شخصی تیار کردہ نسخوں کو جلا رہے تھے اس وقت مصعب بن سعد صحابہ کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ حضرت عثمانؓ کے اس کام سے صحابہ کرامؓ بہت خوش تھے۔
(التاریخ الصغیر: البخاری: جلد 1 صفحہ 94) اس کی سند حسن لغیرہ ٖہے۔)
اور اس کام پر حضرت علیؓ جب کسی کو حضرت عثمانؓ پر عیب لگاتے ہوئے سنتے تو کہتے: اے لوگو! عثمان کے سلسلہ میں تم انتہا پسندی کے شکار نہ ہو جاؤ، ان کے حق میں بھلی ہی بات کہو، مصاحف قرآن کے ساتھ انھوں نے جو کچھ کیا ہم سب پوری جماعت کے سامنے کیا، میں خلیفہ ہوتا تو میں بھی وہی کرتا جو انھوں نے کیا۔
(فتح الباری: جلد 9 صفحہ 18، اس کی سند صحیح ہے)
ایک دوسری روایت میں حضرت علیؓ کا قول اس طرح منقول ہے:
’’جب لوگوں نے قرأت قرآن میں اختلاف کیا اور حضرت عثمانؓ کو اس کی اطلاع ہوئی، تو انھوں نے ہم اصحابِ رسولﷺ کو جمع کیا اور سب کی موجودگی میں لوگوں کو ایک قرأت پر متفق کرنے کے سلسلہ میں ہم سے مشورہ لیا، ہم سب کی رائے عثمان کی رائے سے موافق تھی۔ سنو! اگر میں بھی اس منصب پر ہوتا جس پر عثمان ہیں، تو اسی طرح کرتا جس طرح عثمان نے کیا۔‘‘
(کتاب المصاحف لابن ابی داود: 29، 30) خلافۃ علی بن ابی طالب: عبدالحمید علی: 80)