سیدنا حسینؓ کا مزار مبارک - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا حسینؓ کا مزار مبارک

  مولانا اقبال رنگونی

حضورﷺ نے سیدنا حسینؓ کی شہادت کی پیشنگوئی  پہلے ہی فرما دی تھی چنانچہ آپؓ کی شہادت دس محرم 21 ھ جمعہ کے دن ہوئی اس وقت آپؓ کی عمر مبارک 57 سال اور ساڑھے چھ ماہ تھی آپؓ کا مزار مبارک عراق میں مرجع خلائق ہے اور ہزارہا لوگ دن رات آپؓ کے مزار پر سلام کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور آپؓ کے لیے ایصال ثواب کرتے ہیں اور برکتیں حاصل کرتے ہیں اپنے غم اور رنج کا اظہار کرتے ہیں یہاں ایک بہت بڑی اور نہایت خوبصورت مسجد تعمیر کی گئی ہے اور زائرین کے لیے یہاں عمدہ انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

علامہ عزالدین ابن اثیرؒ لکھتے ہیں: 

وقبره مشهور یزار (اسدالغابہ: جلد 2 صفحہ 27) 

آپؓ کی قبر مشہور اور زیارت گاہ خلائق خاص و عام ہے۔ 

حضرت امام نوویؒ لکھتے ہیں:

وقبره مشهور يُزار ويتبرك بہ، وحزن الناس عليہ كثيراً، وأكثروا فيہ المراثی۔

(تہذيب الاسماء: جلد 1 صفحہ 163) 

شیخ الاسلام مولانا تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اپنے سفرنامہ میں سیدنا حسینؓ کے مزار کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اسے بھی پیش نظر رکھ لیجیے: سیدنا حسینؓ کے مزار کے بارے میں دو روایتیں بہت مختلف ہیں عام طور پر مشہور یہ ہے کہ آپؓ کا جسم مبارک تو کربلا ہی میں مدفون ہے لیکن سر مبارک کیونکہ یزید کے پاس دمشق لے جایا گیا اس لیے وہ یہاں مدفون نہیں پھر سر مبارک کے مزار کے نام سے مختلف شہروں میں بڑی بڑی عمارتیں بنی ہوئی ہیں اگر یہ روایت درست ہو کہ سر مبارک یزید کے پاس شام لے جایا گیا تو اس کا دمشق میں مدفون ہونا تو کچھ سمجھ میں آتا ہے لیکن ایک عظیم نشان مزار قاہرہ (مصر) میں جامعہ ازہر کے سامنے بھی بنا ہوا ہے اور یہ پورا محلہ سیدنا الحسین کے نام سے مشہور ہے بہر صورت! سر مبارک کے بارے میں تو روایت بہت مختلف ہے لیکن جسم مبارک کے بارے میں قرین قیاس یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کربلا میں مدفون ہو گا اگرچہ اس کی خاص جگہ کا تعین تاریخی اعتبار سے خاصا مشکوک ہے امام ابو نعیم مشہور محدث اور مؤرخ ہیں ان سے کسی نے سیدنا حسینؓ کے مزار کی جگہ دریافت کی تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار فرمایا۔ 

(تاریخ بغداد: جلد 1 صفحہ 144 للخطیب) 

کربلا میں دوسرے مزارات سیدنا حسینؓ کے بھائی حضرت عباس اور صاحبزادہ علی اکبر وغیرہ کے ہیں یہاں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی سانحہ کربلا کے دل گداز واقعات ایک ایک کر کے نگاہوں کے سامنے آتے رہے اس وقت دریائے فرات یہیں قریب بہتا ہو گا اب یہاں سے کچھ دور چلا گیا ہے خانوادہ رسول اللہﷺ ان کے عالی مقام افراد نے مدینہ طیبہ کو چھوڑ کر اس دشت کربلا میں جان دینے کو یقیناً کسی دنیا طلبی کی خاطر گوارا نہیں کیا تھا ان کا مقصد رضاۓ الٰہی کے حصول کے سوا کچھ اور نہ تھا۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را ۔(جہاں دیدہ: صفحہ 76) 

جن حضرات نے لکھا ہے کہ ابن زیاد نے آپؓ کا سر مبارک یزید کے پاس دمشق بھیجا تھا اور وہاں یزید نے آپؓ کے چہرے اقدس کے ساتھ گستاخانہ معاملہ کیا تھا گو کہ حافظ ابن کثیرؒ (774ھ) اسے آثار کثیرہ کی وجہ سے اظہر قول بتلاتے ہیں تاہم حافظ ابن تیمیہؒ (728ھ) اسے درست نہیں سمجھتے اور اس سلسلے میں جو آثار ہیں اس کے اسناد کو آپ مجہول اور منقطع کہتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یزید کے دربار میں جن صحابہؓ کا نام لے کر یہ واقعہ نقل کیا جاتا ہے وہ صحابہؓ تو اس وقت شام میں تھے ہی نہیں وہ عراق میں تھے۔ 

وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ مَجْهُولٍ أَنَّ هَذَا كَانَ قُدَّامَ يَزِيدَ، وَأَنَّ الرَأْسَ حُمِلَ إِلَيْهِ وَأَنَّهُ هُوَ الَّذِي نَكَتَ عَلَى ثَنَايَاهُ. وَهَذَا مَعَ أَنَّهُ لَمْ يَثْبُتْ، فَإِنَّ الَّذِينَ حَضَرُوا نَكْتَهُ بِالْقَضِيبِ مِنَ الصَّحَابَةِ لَمْ يَكُونُوا بِالشَّامِ وَإِنَّمَا كَانُوا بِالْعِرَاقِ. 

(منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 558) 

آپ اپنی کتاب راس حسین میں بھی یہی بات لکھتے ہیں: 

ولكن بعض الناس روى بإسنادمنقطع أن هذا النكت كان بحضرة يزيد بن معاوية) وهذا باطل فإن أبا برزة، وأنس بن مالك، كانا بالعراق لم يكونا بالشام، ويزيد بن معاوية كان بالشام، لم يكن بالعراق حين مقتل الحسين فمن نقل أنه نكث بالقضيب بحضرة هذين قدامه فهو كاذب قطعا كذبا معلوما بالنقل المتواتر

(راس الحسين: صفحہ 199) 

آپ ایک اور جگہ لکھتے ہیں

وَأَمَا حَمْلُهُ إِلَى عِنْدِ يَزِيدَ فَبَاطِلٌ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ 

(ايضاً: صفحہ 142) 

عمان کے دکتور حامد محمد الخلیفہ لکھتے ہیں:

فهي روايات لا صحة لها (ريحانۃ النبی: صفحہ 117) 

بعض اکابر علماء کا بیان ہے کہ آپؓ کا سر مبارک جنت البقیع میں آپؓ کی والدہ سیدہ فاطمہؓ کے پاس دفن ہے حافظ ابو یعلی الہمدانی کہتے ہیں کہ آپؓ کا سر مبارک آپؓ کی والدہ کے قریب دفن کر دیا گیا تھا اور فرماتے ہیں کہ تمام اقوال میں یہی صحیح ترین قول ہے اور ماہر انساب زبیر بن بکار اور محمد بن حسن المخزومی بھی یہی کہتے ہیں۔ (التذکرہ: جلد 2 صفحہ 295) 

مؤرخین نے اپنی اپنی تحقیق کی روشنی میں آپؓ کے سر مبارک کی تدفین کا مقام الگ الگ جگہ بتایا ہے حقیقت کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے تاہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حسینؓ اور آپؓ کے اقرباء اور رفقاء کی ان شہادتوں اور ان کے مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو اپنی عمومی اور خصوصی دعاؤں میں یاد رکھیں اور ان سب کے ایصال ثواب میں کوتاہی نہ کریں اللہ تعالیٰ نواسہ رسولﷺ جگر گوشہ بتول سیدنا حسینؓ کی قبر کو نور سے منور فرمائے آپؓ کے درجات بلند سے بلند فرمائے اور سب مسلمانوں کی جانب سے آپؓ کو اور آپؓ کے پورے گھرانے کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین