Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتنہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ اور اس کے نتیجہ میں جنگ جمل و صفین کے حالات کی تحقیق کی اہمیت

  علی محمد الصلابی

اکثر سلف اور علمائے امت سے یہی منقول ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات کی تفاصیل میں بحث و کرید سے توقف کیا جائے، اور اس کو اللہ کے حوالے چھوڑ کر ان کے لیے اللہ کی رضا کی دعا کی جائے اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ یہ سب مجتہد تھے اور ان شاء اللہ اجر کے مستحق ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع اور زبان درازی سے پرہیز کیا جائے کیوں کہ اس سے شریعت پر طعن لازم آتا ہے اس وجہ سے کہ وہی اس شریعت کے حاملین ہیں، اور انہی کے واسطہ سے یہ دین ہم تک پہنچا ہے، چنانچہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ سے اہل صفین سے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اس خون سے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے تو میں اپنی زبان کو اس میں ملوث کرنا پسند نہیں کرتا۔ 

(حلیۃ الاولیاء: جلد 9 صفحہ 114)، عون المعبود: جلد 12 صفحہ 274)

اور بعض اسلاف سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو جواب میں یہ آیت کریمہ پیش کر دی: 

تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞ (سورۃ البقرة آیت 134)

ترجمہ: وہ ایک امت تھی جو گزر گئی، جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے، اور تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا عمل کرتے تھے۔

اس ممانعت کی ایک وجہ ہے اور وہ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن و تشنیع کا خوف، تاکہ اس سے اللہ کا غضب حاصل نہ ہو، اور جب یہ سبب زائل ہو جائے تو پھر بظاہر اس میں کوئی حرج نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان رونما ہونے والے اختلافات سے متعلق ایسی تحقیق جس سے ان پر مطلقاً طعن و تشنیع لازم نہ آئے، تو پھر کوئی حرج نہیں کہ اس کے اسباب و دوافع، تفصیلات و نتائج، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد کے معاشرہ پر اس کے اثرات سے متعلق بحث و تحقیق کی جائے۔ چنانچہ ابنِ کثیرؒ اور طبریؒ وغیرہ نے اسلامی تاریخ کے اس نازک دور سے متعلق بہت کچھ تحریر کیا، اور اس فتنہ سے متعلق بہت سے امور و قضایا کی تفصیلات بیان کی ہیں، جب کہ ان میں سے کچھ علماء تو وہ ہیں جنھوں نے طرفین یا طرفین میں سے کسی ایک کو مورد الزام ٹھہرایا اور ان روایات اور نصوص پر اعتماد کیا جس میں صحیح اور غلط سب گڈمڈ ہیں۔

(احداث واحادیث فتنۃ الہرج: دیکھیے۔ عبدالعزیز دیکھیے: خان: صفحہ 79)

ایسے اسباب و وجوہ آج پائے جاتے ہیں جو اہل سنت کے علماء و طلبہ کو اس فتنہ کی گہرائیوں میں غوطہ زنی اور اس کی تفصیلات میں بحث و تحقیق کی دعوت دیتے ہیں، من جملہ ان اسباب کے یہ ہیں:

دور حاضر کی وہ تالیفات جو صحابہ و تابعین کے درمیان فتنہ کے واقعات پر مشتمل ہیں وہ تین طرح کی ہیں:

1: وہ کتب و مؤلفات جن کے مصنفین کی تربیت اسلامی تاریخ سے بغض و عناد سے پر ہے اور وہ مغربی افکار کے سائے میں پلے بڑھے اور یا وہ اسلامی تاریخ سے جاہل ہیں، ان لوگوں نے اسلامی تاریخ میں کوئی اچھی چیز نہیں دیکھی، پھر صحابہ و تابعین پر زبان طعن و تشنیع دراز کی اور ان دشمنانِ اسلام کے اہداف کی خدمت کی جنھوں نے اس فتنہ اور اس کی تفصیلات پر ریسرچ کر کے اس کی ایسی تفسیر پیش کی ہے جو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسلام کو اس کے اصول میں مطعون قرار دیتی ہے، اور ان واقعات کو جاہ و منصب اور کرسی کے حصول کے لیے سیاسی جنگ قرار دیتی ہے، جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے ایمان و تقویٰ اور صدق مع اللہ سے عاری اور طالب دنیا اور لیڈری کے شوقین نظر آتے ہیں۔ ریاست و قیادت کی خاطر اس کی پروا نہیں کہ لوگوں کے خون بہیں، ان کی جانیں ضائع ہوں، بر سر بازار ان کی عزتیں نیلام ہوں، اور حرمتیں پامال ہوں۔ اس بہتان عظیم کی زمام کار جس نے سنبھالی اس میں سر فہرست طہٰ حسین ہے، اس نے اپنی ناپاک کتاب ’’الفتنۃ الکبریٰ‘‘

(دیکھیے: الفتنۃ الکبریٰ: عثمان علی و بنوہ)

میں یہی کچھ کیا ہے۔ حقیقت میں یہ کتاب مسلم نوجوان کی عقلوں کے لیے اسم بامسمٰی عظیم فتنہ ہے۔ طہٰ حسین نے اس کتاب کے اندر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زبان طعن و تشنیع دراز کی ہے، ان کی نیتوں سے متعلق شکوک پیدا کیے ہیں، اور اعدائے اسلام کی خدمت کی خاطر ان پر ناپاک اتہامات لگائے ہیں۔ 

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 80)

طہٰ حسین کے منہج سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے۔ بظاہر ان حضرات نے ان تاریخی روایات پر کلی اعتماد کیا جسے طبریؒ اور ابن عساکرؒ جیسے مؤرخین نے جمع کر دیا ہے، جس میں جھوٹ و سچ، غلط و صحیح سب گڈمڈ ہے، انہوں نے ان مؤرخین کے منہج کا خیال کیے بغیر ان سے روایات نقل کر لیں جو بہت بڑی غلطی ہے۔

(ایضاً)

اسی طرح یہ حضرات اپنی تالیفات میں رافضی فکر اور اسلامی تاریخ سے متعلق شیعی تالیفات سے متاثر ہیں۔

(احداث واحادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 80)

روافض نے اپنی تالیفات میں اسلامی تاریخ کا جنازہ نکالا ہے، جیسا کہ کلبی (یہ محمد بن سائب کلبی ہے ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ ان سبائیوں میں سے تھا جو اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت علیؓ نے وفات نہیں پائی ہے، اور وہ دوبارہ دنیا میں لوٹ کر آئیں گے۔ اس کی وفات 146ھ میں ہوئی۔ دیکھیے: میزان الاعتدال للذہبی: جلد 3 صفحہ 558، الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 7 صفحہ 270 ،271)

 ابو مخنف (یہ لوط بن یحییٰ بن سعید بن مخنف الازدی ہے۔ کوفیوں میں سے تھا۔ ابن عدی کہتے ہیں: یہ کٹر شیعی تھا، مؤرخ تھا، 157ھ میں وفات ہوئی، اس کی بہت سی تصنیفات ہیں مثلاً: الردۃ: الجمل: صفین: وغیرہ۔

اور نصر بن مزاحم المنقری (یہ نصر بن مزاحم بن سیار المنقری الکوفی ہے۔ امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: یہ کٹر رافضی تھا، محدثین نے اس کو متروک قرار دیا ہے، اس کی وفات 211ھ میں ہوئی اس کی تصنیفات میں وقعتہ صفین مطبوع ہے، اور الجمل، مقتل الحسین بھی اس کی تالیفات میں سے ہیں۔ دیکھیے: میزان الاعتدال: جلد 4 صفحہ 253) 

کی روایات میں ہے۔ واضح رہے کہ یہ بات تاریخ طبری میں بھی پائی جاتی ہے، لیکن طبری نے ان روایات کو سند کے ساتھ ذکر کیا ہے تاکہ اہل علم پر ان روایات کی حقیقت مخفی نہ رہے۔

(اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ: ناصر الغفاری: جلد 3 صفحہ 1457)

اسی طرح مسعودی کی مروج الذہب اور یعقوبی کی تاریخ اس طرح کی روایات سے بھری پڑی ہیں۔ علامہ محب الدین خطیب رحمۃاللہ نے العواصم من القواصم کی تعلیق میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ تاریخ کی تدوین کا آغاز خلافت بنو امیہ کے بعد ہوا ہے، اور تشیع کی چادر تلے باطنی اور شعوبی ہاتھوں کا خیر کے نقوش کو میٹنے اور روشن صفحاتِ تاریخ کو سیاہ کرنے میں عظیم کردار رہا ہے۔

(ایضاً)

یہ مکر و جعل سازی اس شخص پر منکشف ہو جاتی ہے جو ابن العربی کی کتاب العواصم من القواصم کا مطالعہ، علامہ محب الدین خطیبؒ کی تعلیقات کے ساتھ کرتا ہے۔ رافضی علماء نے بشریت کی تاریخ میں افضل ترین لوگوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم سے ہزاروں صفحات سیاہ کر رکھے ہیں، اور مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنے کے لیے اپنا پورا وقت اور ساری کوشش صرف کر دی ہے۔

(اصول مذہب الشیعۃ الامامیۃ: ناصر الغفاری: جلد 3 صفحہ 1459)

یہ رافضی مواد جس سے کتب تواریخ بھری پڑی ہیں آپ کو شیعی کتب حدیث مثلاً الکافی، البحار، اور علماء شیعہ کی لکھی ہوئی قدیم کتب مثلاً ’’احقاق حق‘‘ اور جدید کتب مثلاً ’’کتاب الغدیر‘‘ میں ملیں گی۔ اور اعدائے اسلام مستشرقین وغیرہ نے اسلام کے خلاف جو کچھ لکھا ہے یہی شیعی روایات و کتب ان کا مرجع رہی ہیں، روحانی حیثیت سے شکست خوردہ نسل جب آئی تو اس نے اپنے لیے یورپ کو اپنا قدوہ و اسوہ بنایا اور جو کچھ استشراقی قلموں نے تحریر کیا تھا ان مغربیت زدہ حضرات نے اسے ہضم کیا اور اسی کو اپنی اصل و اساس قرار دے کر ان کے افکار و شبہات کو اسلامی ممالک میں پھیلانے میں لگ گئے۔ مسلمانوں کے افکار و ثقافت پر اس کا بہت برا اثر پڑا۔ ان تمام برائیوں کی اصل رفض و تشیع رہی، مستشرقین کے آراء و افکار اور تشیع کے ساتھ ان کے تعلق کا تحقیقی مطالعہ اہم ترین موضوع ہے، اور وہ تحقیق و بحث کا مستحق ہے۔ علامہ ابن حزم (ت 456ھ) کے دور سے ہی روافض کے شبہات و اکاذیب اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف ان کی افترا پردازیوں سے دشمن کافر نے استفادہ شروع کر دیا تھا۔

(اصول مذہب الشیعہ الامامیۃ الاثنی عشریۃ: جلد 3 صفحہ 1459)

ب: بعض معاصر علمائے امت کی تصنیفات جو بالجملہ مفید ہیں

(یہ کسی حیثیت سے بھی مفید نہیں ہیں بلکہ شیعی کتب سے بھی زیادہ مضر ہیں اور اعدائے اسلام اور روافض کے لیے بہترین ہتھیار کا کام دیتی ہیں جو اہل سنت کے خلاف استعمال کرتے ہیں کیوں کہ ان کے مصنفین اپنے آپ کو اہل سنت کہتے ہیں۔) (مترجم)

 لیکن واقعات کو پیش کرنے کا طریقہ اور بعض صحابہ و تابعین کے مواقف کی تفسیر میں بہت زیادہ نا انصافی ہے مثلاً ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃاللہ کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘

(اس کتاب کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف کی کتاب ’’خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت‘‘ کا مطالعہ ضروری ہے۔) (مترجم)

اور محمد ابوزہرہ رحمۃاللہ کی کتاب ’’تاریخ الامم الاسلامیۃ‘‘ اور ’’الامام زید بن علی‘‘۔ یہ کتابیں بعض صحابہ پر حملوں اور بنو امیہ پر طعن و تشنیع سے بھری ہیں، انہیں خصائل حمیدہ اور عمل صالح سے عاری قرار دیا گیا ہے۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 81) 

ظاہر ہوتا ہے کہ ان علماء نے تاریخی روایات کی تحقیق سے کام نہیں لیا، اور رافضی و شیعی روایات کو اختیار کر لیا، انہی پر اپنی تحقیق و تجزیہ کی بنیاد رکھی۔ اللہ انہیں اور ہمیں معاف فرمائے۔ 

ج: وہ تالیفات جس کے مؤلفین نے تاریخی روایات کے نقد کے سلسلہ میں علمائے جرح و تعدیل کا منہج اختیار کیا ہے، اور صحیح و ضعیف میں تمیز کی خاطر سند و متن کے سلسلہ میں انہیں محدثین کے اصولوں پر جانچا ہے، یہ تالیفات قابل قدر اور بہترین کوشش ہیں۔ اس طرح ان کتابوں سے اس باطل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ان تاریخی واقعات کی صحیح تفسیر سامنے آ سکتی ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضل و ایمان اور جہاد سے متعارض نہیں۔

(ایضاً)

ان بہترین تالیفات میں ڈاکٹر یوسف العش کی ’’تاریخ الدولۃ الامویۃ‘‘ ابوبکر ابن العربی کی کتاب ’’العواصم من القواصم‘‘ پر محب الدین خطیبؒ کی تعلیقات، صادق عرجون کی ’’عثمان بن عفان‘‘، ڈاکٹر سلیمان بن حمد العودہ کی ’’عبدالله بن سبا و اثرہ فی احداث الفتنۃ فی صدر الاسلام‘‘ محمد مخزون کی’’ تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ‘‘، ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری کی ’’الخلافۃ الراشدہ‘‘، (احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 82)

 عثمان الخمیس کی ’’حقبۃ من التاریخ‘‘، ڈاکٹر محمد حسن شُراب کی ’’المدینۃ النبویۃ فجر الاسلام والعصر الراشدی‘‘ اور ’’العواصم من القواصم‘‘ اور ’’المنتقی‘‘ وغیرہ پر محب الدین خطیبؒ کی تعلیقات وغیرہ کتب و رسائل ہیں جو اس منہج پر تیار کیے گئے ہیں۔ 

اس بیان سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ایسی کتب و تصنیفات کا پایا جانا ضروری ہے جو ان باطل خیالات اور غلطیوں کی تردید کریں۔ اسلامی تاریخ اور مقام صحابہ کو مسخ کرنے والوں کی تردید اسی وقت ممکن ہے جب ان تاریخی واقعات اور اخبار و روایات کی جرح و تعدیل اور تصحیح و تضعیف کی میزان پر چھانٹ پھٹک کی جائے اور ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 83) 

علامہ ابن تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

جب بدعتی سر اٹھائیں اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر باطل اتہام باندھیں، تو ایسی صورت میں دفاع اور علم و عدل کے ساتھ ان کے دلائل کا ابطال ضروری ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 192)

امام ذہبی رحمۃاللہ نے اس سلسلہ میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جن کتابوں کے اندر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کذب بیانی اور افترا پردازی کی گئی ہے ان کو نظر آتش کر دیا جائے۔ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین رونما ہونے والے اختلافات اور قتال کے سلسلہ میں یہ ثابت ہے کہ لب کشائی کرنے سے اجتناب لازم ہے اور کتب اور دواوین کے اندر برابر اس طرح کی روایات آتی ہیں جن میں سے اکثر منقطع و ضعیف اور بعض کذب محض ہیں، اور یہ کتب ہمارے اور ہمارے علماء کے ہاتھوں میں ہیں، لہٰذا ان کو سمیٹ دینا اور چھپا دینا چاہیے بلکہ ان کو دریا برد کر دیا جائے تاکہ دل صاف ہو جائیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اور ان کے لیے ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کی دعا کا سلسلہ باقی رہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 10 صفحہ 92)

لیکن امام ذہبی رحمۃاللہ کی ان کتابوں کو نذر آتش کرنے کی تجویز ممکن نہیں رہی، کیوں کہ یہ کتابیں پھیل چکی ہیں اور بہت سے نشریاتی ادارے اور گندے عزائم کے لوگ ان کتابوں کو شائع کر رہے ہیں، لہٰذا اب اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ رہا کہ ان کتابوں پر بحث و تحقیق کی جائے، ان کی غلطیوں اور کذب بیانی کو واضح کیا جائے تاکہ مسلمانوں کی نسلیں عقیدہ و عمل میں انحراف سے محفوظ رہیں۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 84)