تیسرا نکتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عہد عثمان رضی اللہ عنہ میں
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سلطنت اسلامیہ اطراف و اکناف عالم رنگ و بو میں پھیل گئی۔ امت اسلامیہ میں بے شمار قبائل اور قومیں داخل ہوئیں اور لوگ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم کے کثرت سے محتاج ہو گئے۔ چنانچہ ہر گھاٹی اور ہر نشیب و فراز (الحدب: پتھریلی اور بلند زمین۔ الصوب: سمت و جہت۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 1 صفحہ 349۔ تاج العروس للزبیری: جلد 3 صفحہ 213) سے تشنگان علوم شریعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مدرسۃ القرآن و الحدیث کی طرف امڈ پڑے، گویا عہد عثمان رضی اللہ عنہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام و مرتبہ مزید بلند ہو گیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ امہات المومنینؓ کے احترام و اہتمام میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کسی طرح کم نہ تھے۔ وہ ان کی اسی طرح خبرگیری کرتے تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو حج پر بھیجا اور اسی طرح ان کی خدمت و حفاظت کا اہتمام کیا جس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں حج پر جاتے ہوئے اہتمام کیا گیا تھا۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی بجائے جلیل القدر صحابی سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس مہم پر روانہ کیا۔ ان دونوں میں سے ایک امہات المؤمنینؓ کی سواریوں کے آگے ہوتا اور ایک ان کی سواریوں کے پیچھے ہوتا تاکہ ان کی مکمل حفاظت کی جا سکے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کے بارے میں سب لوگوں سے زیادہ باخبر تھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبے کا بخوبی علم تھا۔ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیث روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ جو اس بات کی قوی دلیل ہے کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی کس قدر، قدردان تھیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت روایت کی تاکہ وہ اگر زمام خلافت سنبھالیں تو کسی کہنے والے کے اصرار پر خلافت کی خلعت ہرگز نہ اتاریں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یَا عُثْمَانُ اِنْ وَلَّاکَ اللّٰہُ ہٰذَا الْاَمْرَ یَوْمًا، فَاَرَادَکَ الْمُنَافِقُوْنَ عَلٰی اَنْ تَخْلَعَ قَمِیْصَکَ(قَمَّصَکَ: یعنی اللہ نے تجھے پہنائی ہے اور قمیض سے مراد خلافت ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 4 صفحہ 108)
الَّذِیْ قَمَّصَکَ اللّٰہُ، فَلَا تَخْلَعْہُ۔ یَقُوْلُ ذٰلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ: ’’اے عثمان! اگر اللہ عزوجل کسی دن تمھیں خلافت کی ذمہ داری بخشے اور منافقین چاہیں کہ تم یہ خلعت (خلافت) اتار دو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں پہنائی ہے تو اسے مت اتارنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔‘‘
سیّدنا نعمان بن بشیر (یہ نعمان بن بشیر بن سعد ابو عبداللہ انصاری جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ ہیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے یہ کوفہ کے گورنر بنے پھر حمص (شام) کے گورنر بنے۔ یہ بڑے ہی سخی، شریف اور شاعر تھے۔ 2 ہجری میں پیدا ہوئے اور 65 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 472 الاصابۃ: جلد 6 صفحہ 440) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: یہ حدیث لوگوں کو بتانے سے آپ کو کس نے روکا؟ انھوں نے فرمایا: مجھے بھلا دیا گیا تھا۔
(صحیح سنن ابن ماجہ للالبانی رحمہ اللہ)
نیز انہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض الموت میں فرمایا: میرا جی چاہتا ہے کہ میرے پاس میرا ایک صحابی ہو۔ ہم نے کہا: اے رسول اللہ! کیا ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ ہم نے کہا اے رسول اللہ! کیا ہم آپﷺ کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کو بلا لیں۔ آپﷺ خاموش رہے۔ ہم نے کہا: اے رسول اللہ! کیا ہم آپﷺ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجیں تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ٹھیک ہے۔‘‘ پس وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے تنہائی میں گفتگو فرمائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باتیں کرتے جاتے اور عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوتے جاتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والے قیس بن ابی حازم (قیس بن ابی حازم: ابو عبداللہ البجلی الاحمسی رحمہ اللہ۔ ان کے باپ کا نام حسین بن عوف یا کچھ اور تھا اپنے زمانے کے مشہور ثقہ اور حافظ حدیث تھے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے مدینہ کی جانب عازم سفر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے تھے۔ یہ کوفہ میں اپنے وقت کے مشہور محدث تھے۔ 97یا 98ہجری میں فوت ہوئے۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 4 صفحہ 201۔ تہذیب التہذیب لابن حجر: جلد 4 صفحہ 561) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خادم ابو سہلہ نے حدیث بیان کی کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا جس دن شرپسندوں نے محاصرہ کیا اس دن انھوں نے فرمایا: ’’بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے اور میں اسی پر کاربند ہوں۔‘‘ ایک روایت میں ہے ’’میں اسی پر صبر کرتے ہوئے قائم رہوں۔‘‘قیس نے کہا: لوگ کہتے ہیں اس سے اسی دن کی وصیت مراد ہے۔
(سنن ابن ماجہ: حدیث: 113۔ مسند احمد: جلد 6 صفحہ 51، حدیث 24298۔ مسند ابی یعلیٰ: جلد 8 صفحہ 234، حدیث 4805۔ مستدرک حاکم: جلد 3 صفحہ 106۔ حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابن ماجہ میں اسے صحیح کہا ہے۔ الوادعی رحمہ اللہ نے (الصحیح المسند: 1608) پر اسے صحیح کہا ہے اور شعیب ارناؤوط نے مسند احمد کی تحقیق میں اسے صحیح کہا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے درمیان یونہی احترام و تقدس کا رشتہ قائم رہا۔ دونوں ایک دوسرے کا خوب لحاظ کرتے۔ بالآخر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک دن اپنے گھر میں ہی ظالمانہ و مفسدانہ محاصرے کے بعد مظلومانہ طور پر شہید کر دیے گئے۔
چنانچہ سب سے پہلے خونِ عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہی کیا اور یہ کہ ان پر ظلم کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ آئندہ صفحات میں ان شاء اللہ اس کی تفصیل آئے گی۔
اسی طرح عثمان رضی اللہ عنہ اپنی زندگی کی آخری لمحات تک سیدہ عائشہ سمیت تمام ازواج مطہرات امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی خدمت و عزت و احترام میں کوشاں رہے۔
ان دنوں میں فسادیوں اور شورش پسندوں کا مدینہ منورہ پر غلبہ ہو گیا اور ان کی خباثتوں میں یہاں تک اضافہ ہو گیا کہ جب ہماری امی سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عثمان رضی اللہ عنہ تک جبکہ وہ اپنے گھر میں محصور تھے، پانی پہنچانے کی کوشش کی تو ان ظالموں نے بڑھ کر اس خچر کی رسیاں کاٹ ڈالیں جس پر ام حبیبہ رضی اللہ عنہا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے پانی لا رہی تھیں اور ممکن تھا کہ وہ خود بھی خچر سے گر پڑتیں۔ (نَدَّ: خچر بدک گیا۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر: جلد 5 صفحہ 35۔)
لیکن اس سے پہلے وہاں لوگ جمع ہو گئے اور انھوں نے شر پسندوں کو اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل سے باز رکھا۔
پھر لوگوں کے دلوں میں مفسدوں کی شر انگیزیوں کے باعث خوف چھا گیا اور اکثر لوگ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔ اس سال جب حج کے ایام شروع ہوئے تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج پر روانہ ہوئیں۔ کسی نے کہا: اگر آپؓ مدینہ میں رہتیں تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔ انھوں نے جواب دیا اگر میں مدینہ میں ہوتی تو مجھے اندیشہ تھا کہ میرے ساتھ بھی وہی سلوک ہوتا جو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد 7 صفحہ 209)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے بعد مدینہ منورہ واپس آ رہی تھیں تو انھیں شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کی افسوس ناک خبر راستے میں مل گئی۔ وہ وہاں سے مکہ واپس چلی گئیں وہ بالکل خاموش تھیں۔ بالآخر انھوں نے مسجد حرام میں داخل ہو کر حطیم کے اندر اپنے آپ کو چھپا لیا۔ جب لوگ ادھر آئے تو انھیں یوں مخاطب کیا: ’’اے لوگو! مختلف شہروں اور چشموں سے سازشی لوگ (الإرب: سازش۔ کہا جاتا ہے فلاں سازشی ہے اور مکار و فریبی ہے۔ (ادب الکاتب۔) آئے اور مدینہ میں رہنے والے غلاموں کو ساتھ ملایا اور اس سے پہلے بھی نو عمر لوگ ایسی سازش کے لیے استعمال ہو چکے تھے۔ اگرچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اصلاح احوال کی بھرپور کوشش کی۔ متعدد معاملات میں ایسے اقدام کیے کہ ان کے علاوہ چارہ نہ تھا۔ تو ان کی ان کاوشوں اور اصلاحات کو بہانہ بنا کر شورش پسندوں نے سازش کو عملی جامہ پہنایا اور جب وہ دلائل اور حجت کے میدان میں لاجواب ( خلجوا: الاختلاج: و الاضطراب، مضطرب ہو گئے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: جلد 2 صفحہ 138۔)ہو گئے اور ان کا باطل پر جمع ہونا ثابت ہو گیا تو انھوں نے حدود سے تجاوز کرنے میں جلدی کی۔ چنانچہ وہ حرمت والے شہر میں، حرمت والے مہینوں میں ایک حرام خون بہانے کے مرتکب ہو گئے۔ انھوں نے حرمت والا شہر اپنے لیے حلال کر لیا اور حرام طریقے سے اموال لوٹے۔ اللہ کی قسم! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک انگلی زمین کے تہہ در تہہ خزانوں سے بہتر ہے اور اللہ کی قسم! جس نام نہاد عیب کو بہانہ بنا کر ان ظالموں نے ظلم ڈھائے اگر وہ ثابت بھی ہو جاتا تو عثمان رضی اللہ عنہ اس سے اس طرح بری ہوتے جس طرح خالص سونا میل کچیل سے علیحدہ ہوتا ہے یا میلا کپڑا صاف ہو جاتا ہے۔
(نبأ الشیء: تجافی و تباعد، دور چلا گیا۔ (مختار الصحاح للرازی: صفحہ 644)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ پہلی گفتگو تھی جو اس حقیقت کی دلیل ہے کہ ان کے دل میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی کس قدر قدر و منزلت تھی اور یہ کہ ان پر جتنے بھی اتہام اور الزامات لگائے جاتے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انھیں مکمل طور پر ان سے بری الذمہ ہونے کا یقین رکھتی تھیں۔ یہ صحیح ہے کہ امور خلافت میں کبھی کبھار وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالف رائے بھی ظاہر کرتی تھیں۔ لیکن یہ سب کچھ خیر خواہی کی نیت سے ہوتا تھا۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ
(صحیح مسلم، حدیث: 55۔ سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے)
’’دین خیر خواہی کا نام ہے۔‘‘
وہ دونوں (سیدنا عثمان اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما ) مجتہد تھے وہ صرف حق کی تنفیذ چاہتے تھے، ان دونوں کو ہر حال میں ایک یا دو اجر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔