Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خلافت و امامت

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

اب ہم شیعہ سنی کا معرکۃ الآرا مسئلہ خلافت و امامت شروع کرتے ہیں اور اس پر کسی قدر تفصیل سے روشنی ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ یہی مسئلہ تمام نزاعات کا اصل الاصول ہے۔

مسئلہ خلافت میں اہلِ سنت و الجماعت کا یہ اعتقاد ہے کہ خلافت کا زمانہ حضورِ اکرمﷺ نے تیس سال بتلایا تھا۔ جن نفوسِ مقدسہ کی دینی و اسلامی خدمات بیش از بیش تھیں بموجب وعدہ الٰہی اس مخصوص زمانہ میں ان کو یہ اعزاز بالترتیب حاصل ہوا۔ اولاً باتفاق اہلِ حل و عقد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پھر عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ پھر علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ منصبِ خلافتِ رسولﷺ پر متمکن ہوئے۔ سب کی خلافت جائز خلافت تھی۔ یہی ترتیب رب العباد کو منظور تھی اور اپنے وعدے کے مطابق حق تعالیٰ نے ان بزرگانِ اسلام کو یہ جلیل القدر منصبِ خلافت عطاء فرمایا تھا۔ خلافت و امامت ایک ہی چیز ہے امامت اصولِ دین سے نہیں ہے۔

اہلِ تشیع کا مذہب ہے کہ امامت اصولِ دین سے ہے حق امامت بعد وفات رسول اللہﷺ حضرت علیؓ کا تھا ان کی امامت منصوص تھی۔ اللہ و رسولﷺ نے انہی کی امامت پر نص کی لیکن خلفائے ثلاثہؓ زبردستی تختِ خلافت پر بیٹھ گئے۔ اُن کی خلافت ناجائز خلافت تھی۔ ان کا زمانہ جور و جفا کا تھا۔ عدل و انصاف کا زمانہ حضرت علی المرتضیٰؓ کا تھا اور بس اس موقعہ پر حسبِ ذیل امور تنقیح قائم کر کے ہر ایک امر پر ہم بالتفصیل مدلل بحث کریں گے۔