ناطق فیصلہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاس بارے میں کہ خلافت و امامت ایک ہی چیز ہے اور جس کو مہاجرین و انصار بالاتفاق خلافت کے لیے نامزد کر دیں وہی امام ہے اور جس میں خوشنودی رب العباد ہے ناطق فیصلہ جناب امیر علیہ السلام صادر ہو چکا ہے چنانچہ آپ کا قول نہج البلاغت مطبوعہ طہران: صفحہ 398، جلد 2، صفحہ 7 مطبوعہ بیروت میں لکھا ہے:
وَإِنَّمَا الشورىٰ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَإِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى رَجُلٍ وَسَمَّوْهُ إِمَامًا كَانَ ذَلِكَ لِلَّهِ رِضَى۔
ترجمہ: شوریٰ مہاجرین و انصار کا حق ہے پس جس شخص پر وہ اتفاق کر لیں اور اس کو امام نامزد کریں اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے۔
پس خطبہ میں جناب امیر نے ناطق فیصلہ دے کر ہمیں اہلِ تشیع کے خلاف ڈگری دے دی ہے کہ امام اور خلیفہ وہی ہے جسے مجلسِ شوریٰ نامزد کر دے اور اسی بات پر اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوتا ہے اب اس فیصلہ کے بعد ہمیں مزید دلیل کی ضرورت نہیں ہے ایسا ہی جناب ممدوح نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ امام اور خلیفہ کا معصوم ہونا بھی ضروری نہیں ہے چنانچہ نہج البلاغت: صفحہ 60 میں ہے:
إِنَّةً قَالَ لَابُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِيرِ بَرٍ أَوْ فَاجِرٍ يَعْمَل فِی امْرَتِهِ الْمُؤْمِنُ يَسْمَعُ فَيْهَا الْكَافِرُ وَيَبْلُغُ فيْهَا الرَّجِلُ وَتَامَنُ فِيهَا السَّبُلُ وَيُوخَذُ بِهِ لِلضَّعِيفِ مِنَ القَوَى لِيَسْتَرِيحَ بَرٌّ وَيُسْتَراحَ مِنْ فَاجِرٍ۔
ترجمہ: اور فرمایا آدمیوں کے لیے چارہ نہیں ہے امام سے نیک ہو یا بد اُس کی حکومت میں مؤمن عمل کرے (آخرت کے لیے) اور کافر (مال دنیا سے) متمتع ہو اور اس کی امارت میں پیادہ (منزلِ مقصود) کو پہنچ سکے۔ راستے محفوظ ہوں اور کمزور زبردست سے اپنا حق لے سکے تاکہ نیکو کار (بھلا مانس) امن و آسائش میں رہے اور بد معاشوں سے کھٹکا نہ رہے۔ اس خطبہ میں جناب ممدوح نے قطعی فیصلہ فرما دیا ہے کہ خلیفہ (امام) کا تقرر اس لیے ہے کہ پبلک کو آرام و آسائش ہو۔ مؤمن تو مؤمن کافر بھی دنیوی امور میں آزاد رہے۔ کسی راہرو کو راہزنوں کی لوٹ مار کا ڈر نہ ہو۔ مظلوم کا بدلہ ظالم سے لیا جائے۔ عدل و انصاف کا دور دورہ ہو۔ نیک معاش انسان پر بد رویّہ اشخاص دست برد نہ کر سکیں۔ آپ نے ابتداء ہی میں اس بات کا تصفیہ فرما دیا کہ امام میں معصومیت شرط نہیں ہے بلکہ ہر نیک و بد مؤمن یہ عہد حاصل کر سکتا ہے۔ جناب امیرؓ نے یہ خطبہ خارجیوں کے جواب میں فرمایا جو آپ کو اس وجہ سے خلیفہ نہیں مانتے تھے کہ ان کے خیال میں آپ نیک نہ تھے۔ آپ فرماتے ہیں میں خواہ نیک ہوں یا بد، درجہ امارت سے تو گر نہیں سکتا کیونکہ اس میں معصومیت شرط نہیں ہے۔
اب شیعہ صاحبان بتلائیں کہ جناب امیرؓ تو تمہارے خلاف فیصلہ صادر کرتے ہیں اب تمہارے ہاتھ میں شرطِ عصمت امام کی کون سی دلیل ہے؟
رہا یہ امر کہ امامت اصولِ دین سے ہے سو واضح ہو کہ شیعہ صاحبان کا اس کے متعلق بھی عجیب عقیدہ ہے ان کے نزدیک اصول چار ہیں۔
1: توحید 2: عدل 3: نبوت 4: امامت
(شیعہ اس قدر نہیں کہتے۔ بلکہ انکا عقیدہ ہے کہ اسلام کی بنائیں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، ولایت ہیں اور ان میں سے افضل ولائت ہے جیسا کہ اصولِ کافی: صفحہ 368 میں ہے:
عنہ ابی جعفر بنی السلام علی خمسة اشیاء علی الصلوٰاۃ والزکوٰۃ والحج والصوم والولائت قال زرارۃ وای شیئی من ذلک افضل فقال الولایۃ افضل۔
ترجمہ: سیدنا باقر رحمۃاللہ فرماتے ہیں اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور ولایت اور ان میں افضل ولایت ہے لیکن تعجب ہے کہ قرآن میں نماز، روزہ، زکوٰۃ کے متعلق تو تاکیدی احکام موجود ہیں لیکن ولایت کے بارے میں اشارہ بھی نہیں۔ شائد شیعہ کے مزعومہ قرآن جو امام غائب کے ساتھ غائب ہوا اس میں ہو)
سو یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن نے جہاں اصولِ دین بیان فرمائے ہیں وہاں امامت کے متعلق صراحتاً یا کنایتاً بھی کوئی حکم بیان نہیں ہوا اور نہ ہی رسولِ اکرمﷺ نے امامت علی المرتضیٰؓ کے متعلق کوئی نص فرمائی۔ پھر شیعہ کا امامت کو اصولِ دین میں داخل کرنا قول بے دلیل ہے جس کے متعلق بحث کرنے کی کوئی ضروت نہیں ہے۔ امرِ اول کی نسبت کافی بحث ہو چکی ہے اور یہ تنقیح بحق اہلِ سنت خلاف اہلِ تشیع ثابت ہے۔ اب امرِ تنقیح نمبر 2 کی بحث شروع ہوتی ہے ہے۔