ثانیاً: ڈاکٹر کامل مصطفٰی الشیبی کے شبہات - ردِ رافضیت |…

ثانیاً: ڈاکٹر کامل مصطفٰی الشیبی کے شبہات

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

ڈاکٹر کامل مصطفیٰ الشیبی نے اپنی کتاب الصلۃ بين التصوف والتشيع(تصوف اور تشیع کا باہمی تعلق)میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ ابن سبا کوئی اور نہیں، بلکہ درحقیقت جلیل القدر صحابی عمار بن یاسرؓ ہی ہیں۔ (عمار بن ياسر بن عامر بن مالك، كان حليفاُ لبني مخزوم وكان والده من السابقين فی الاسلام ابن حجر، الإصابة مرجع سابق:  جلد  2 صفحہ  505)

 حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ بات کہنے والے (ہدایت الوحکیم الہلی)ہیں جو برطانوی یونیورسٹیوں میں سےایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہے، اورڈاکٹر علی الوردی نےاپنی کتاب وعاظ السلاطين(سلاطین کے واعظین) میں اسی بات کی تکرار کی ہے اور ڈاکٹر کامل الشیی نے اس مؤقف کی پرزور تائید کرتے ہوئے کہا ہے:

اور یہ دلائل مقنع (اطمینان بخش)اور منطقی ہیں، لیکن انہیں ایسے مراجع و نصوص کی ضرورت ہے جو عمار بن یاسرؓ کوابن السوداءاور ابن سباکا نام دیے جانے کی تائید کرتے ہوں۔ پھر ڈاکٹر الشیبی کچھ ایسے دلائل و براہین پیش کرنے لگے جن کے بارے میں انہیں یہ وہم ہوا کہ وہ ان کے اس دعوے کی تائید کرتے ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے کہ: ابن سبا ابن السوداءکے نام سے جانا جاتا تھا، اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ عمارکی کنیت بھی کس طرح ابن السوداء کہی جاتی تھی، عمارؓ ایک یمنی باپ کی اولاد تھے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابنائے سبا (سبا کے بیٹوں) میں سے تھے کیونکہ ہر یمنی کے بارے میں یہ کہنا درست ہے کہ وہ ابنِ سبا(سبا کا بیٹا)ہے، اور تمام اہلِ یمن اپنا نسب سباء بن يشجب بن قحطان سے جوڑتے ہیں۔ اور قرآنِ کریم میں ہے: ہدہد نے سلیمان علیہ السلام سے کہا تھا کہ وہ ان کے پاس ”سبا“ سے آیا ہے، اور اس سے اس کی مراد یمن ہی تھا۔ مزید برآں، عمارؓ و علیؓ سے شدید محبت رکھتے تھے، ان کے لیے لوگوں کو دعوت دیتے تھے، اور ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو ان کی بیعت پر ابھارتے تھے۔ اور عمار، سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت میں مصر بھی گئے تھے اور وہاں لوگوں کو سیدنا عثمانؓ کے خلاف اکسانے لگے، جس پر وہاں کا گورنر ان سے نالاں ہو گیا اور ان پر سخت گرفت کرنے کا ارادہ کیا۔ اور یہ واقعہ بعینہِ اس خبر سے مشابہت رکھتا ہے جو ابنِ سبا کی طرف منسوب ہے کہ وہ مصر میں مقیم ہو گیا تھا، اور اس نے ”فسطاط“کو اپنی دعوت کا مرکز بنا لیا تھا اور وہاں سے اپنے حامیوں کو خطوط لکھنا شروع کیے تھے۔اسی طرح ابنِ سباء کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے کہ: عثمان نے خلافت ناحق لی ہے، اور اس کے حقیقی حق دار علی بن ابی طالب ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خود سیدنا عمار بن یاسرؓ کا اپنا کلام ہے چنانچہ ایک دن سیدنا عثمانؓ کی بیعت کے فوراً بعد انہیں مسجد میں بلند آواز سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا: اے گروہِ قریش! یاد رکھو، اگر تم نے اس امرِ خلافت کو اپنے نبی کے اہلِ بیت سے ایک بار یہاں اور ایک بار وہاں پھیر دیا، تو میں تمہارے بارے میں اس بات سے مامون نہیں ہوں کہ اللہ اسے تم سے چھین کر دوسروں میں بانٹ دے، جس طرح تم نے اسے اس کے اصل حق داروں سے چھین کرنا اہلوں کے سپرد کر دیا ہے۔ اور ابنِ سباء کی طرف یہ بات بھی منسوب کی جاتی ہے کہ وہی وہ شخص تھا جس نے معرکۂ بصرہ (جنگِ جمل) کے دوران سیدنا علیؓ اور سیدہ عائشہؓ کے مابین صلح کی کوششوں کو سبوتاژ کیا تھا، اوراگر وہ نہ ہوتا تو ان دونوں کے درمیان صلح مکمل ہو جاتی، جیسا کہ راوی بیان کرتے ہیں۔جو شخص معرکۂ بصرہ (جنگِ جمل) کے تفصیلی احوال کا مطالعہ کرتا ہے، وہ سیدنا عمارؓ کو اس میں ایک سرگرم اور متحرک کردار ادا کرتے ہوئے پاتا ہے چنانچہ وہی تھے جو سیدنا حسنؓ اور مالک اشتر کے ہمراہ کوفہ گئے تاکہ لوگوں کو علیؓ کے لشکر میں شامل ہونے پر آمادہ کریں۔ اور جنگ کے دوران سیدنا علیؓ کے پہلو بہ پہلو سیدنا عمارؓ کا کھڑا ہونا ہی ان اسباب میں سے تھا جو سیدنا زبیرؓ کی ندامت اور جنگ سے دستبرداری کا باعث بنا۔ اور مؤرخین نے ابنِ سبا کے بارے میں کہا ہے کہ اسی نے ابو ذر غفاریؓ کو ان کی(نام نہاد) اشتراکی دعوت پر ابھارا تھا حالانکہ اگر ہم سیدنا عمارؓ کا ابو ذرؓ کے ساتھ تعلق کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان کا باہمی ربط انتہائی گہرا اور مضبوط تھا، کیونکہ وہ دونوں ایک ہی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے اور وہ ہے علیؓ کا مکتبِ فکر۔ اور یہ تینوں حضرات باہم اکٹھے ہوتے، آپس میں مشورے کرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون فرماتے تھے۔ ڈاکٹر کامل الشیبی کہتا ہے کہ:

ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ابنِ سبا کوئی اور نہیں بلکہ خود عمار بن یاسرؓ ہی تھے کیونکہ قریش عمار کو عثمانؓ کے خلاف اٹھنے والی تحریک کا سرغنہ سمجھتے تھے، لیکن وہ شروع شروع میں ان کے نام کی صراحت نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے کنایۃً انہیں ابنِ سبا یا ابنِ السوداء(سیاہ فام خاتون کا بیٹا) کا علامتی نام دے دیا۔راویوں نے پردے کے پیچھے چھپے حقائق سے بے خبر رہتے ہوئے اس معاملے کو اسی طرح آگے نقل کر دیا۔ پھر ڈاکٹر کامل مصطفیٰ الشیبی نے کچھ ایسی دلیلیں اور نصوص پیش کرنا شروع کیں جن کے بارے میں ان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ عمار بن یاسرؓ کو ابن السوداءاور ابنِ سبا کا نام دیے جانے کی تائید کرتی ہیں۔

حوالہ جات:

( الوردی علی 1956م مقال من طلاب الشهرهۃ،مجلۃ الثقافة الإسلامية السنة الأولى بغداد العدد11)

(الوردي علي 1954م وعاظ السلاطين بغداد صفحہ 272-274، والشيبي، كامل مصطفى، والصلۃ بين التصوف والتشيع ط2 دار المعارف مصر : صفحہ41 وما بعدها)

 (الوردي وعاظ السلاطين مرجع سابق : صفحہ 272،  274 ، وانظر الشيبي ، مرجع سابق :  صفحہ41 وما بعدها۔)

صفحہ 1 از 4