معرکۂ فحل سے کچھ پہلے رومیوں کے پاس سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی سفارت
علی محمد الصلابیمعرکہ فحل سے کچھ پہلے اور مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان چند ایک جھڑپیں ہو جانے کے بعد رومیوں کے کمانڈر جنرل نے مسلمانوں سے کہلوا بھیجا کہ ہمارے پاس اپنا کوئی سفیر بھیجیں، تمہارے مطالبات اور مقاصد کو ہم اس سے جاننا چاہیں گے اور اپنے عزائم سے اس کو آگاہ کریں گے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی طرف سے بات چیت کرنے کے لیے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر بھیجا، رومیوں نے حضرت معاذؓ کے استقبال کے لیے تیاریاں کیں، زیب و زینت کی عمدہ سے عمدہ چیزوں، قیمتی و چمکدار اسلحہ، نگاہیں خیرہ کر دینے والے بیش قیمت قالینوں اور پردوں سے مجلس سجائی تاکہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اپنے مقصد سے بہک جائیں یا کم از کم نفسیاتی طور پر دب جائیں اور یہ شان وشوکت انہیں مرعوب کر دے۔ لیکن حضرت معاذ نے ان کی اس زیب وزینت کی محفل کو کوئی اہمیت نہ دے کر سب کو اچنبھے میں ڈال دیا، حضرت معاذؓ نے زہد و تواضع کا مظاہرہ کر کے دل گرفتگی کی تمام تدبیروں اور بہکاوے کی تمام چالوں کو ناکام کر دیا، بلکہ رومیوں کے خلاف اس موقع کو بطور ہتھیار استعمال کیا، بایں طور کہ اپنے گھوڑے کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھی، رومی کمانڈر کے غلام کو اسے دینے سے انکار کر دیا، حضرت معاذؓ کے استقبال کے لیے جو مجلس سجائی گئی تھی اس پر بیٹھنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اپنے کمزوروں کا حق مار کر تم جس فرش و قالین کی مجلس سجاتے ہو میں اس پر نہیں بیٹھوں گا اور ننگی زمین پر بیٹھ گئے، پھر کہنے لگے:
’’میں اللہ کے بندوں میں سے اس کا ایک بندہ ہوں، اللہ کی زمین پر بیٹھتا ہوں، اللہ کا مال لے کر اپنے بھائیوں پر ظلم نہیں کرتا ہوں۔‘‘
(الاکتفاء/ الکلاعی: جلد 3 صفحہ 194)
ان کے درمیان اور بھی گفتگو ہوئی، انہوں نے حضرت معاذؓ سے اسلام کے بارے میں پوچھا، آپ نے انہیں اسلام کا تعارف کرایا، انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مسلمانوں کا عقیدہ پوچھا، آپ نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی:
اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ ۞(سورۃ آل عمران آیت 59)
ترجمہ: اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے، اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ان سے کہا: ہوجاؤ۔ بس وہ ہوگئے۔
حضرت معاذ بن جبلؓ نے ان کے سامنے مسلمانوں کا مقصد واضح کیا اور یہ آیت پڑھ کر سنائی:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ يَلُوۡنَكُمۡ مِّنَ الۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُوۡا فِيۡكُمۡ غِلۡظَةً ۞ (سورۃ التوبة آیت 123)
ترجمہ: اے ایمان والو! ان کافروں سے لڑو جو تم سے قریب ہیں۔ اور ہونا یہ چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی محسوس کریں۔
رومیوں نے توہین آمیز لہجے میں کہا کہ اہل فارس پر مسلمانوں کو اس لیے فتح مل گئی تھی کہ ان کا بادشاہ مر گیا تھا، روم والوں پر تمہاری فتح نہ ہوگی کیونکہ ان کا بادشاہ زندہ ہے اور افواج کا کوئی شمار ہی نہیں۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نہایت بے باکی سے کہا: اگر تمہارا بادشاہ ہرقل ہے تو ہمارا بادشاہ اللہ ہے اور ہمارا امیر ہم ہی میں سے ایک آدمی ہے، اگر وہ قرآنی ہدایات اور نبوی تعلیمات کے مطابق ہم میں کام کرتا ہے تو ہم اسے اپنا امیر مانتے ہیں اور اگر وہ اس سے ہٹ جاتا ہے تو اسے منصب سے ہٹا دیتے ہیں۔ وہ ہم سے الگ تھلگ ہو کر نہیں رہتا، نہ تکبر کرتا ہے اور نہ ہم پر اقتدار کا رعب جماتا ہے اور رومی افواج کی کثرت کے جواب میں یہ آیت تلاوت فرمائی:
کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً بِاِذۡنِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ۞ (سورۃ البقرة آیت 249)
ترجمہ: نہ جانے کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔
اور آخر میں جب رومی معاذ رضی اللہ عنہ کو مرعوب نہ کر سکے اور نگاہیں چکا چوند کر دینے والے اسباب آرائش سے بھی ان سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو اصل موضوع کی طرف لوٹے اور مسلمانوں سے اس شرط پر صلح کی درخواست کی کہ بلقاء اور متصل علاقے مسلمان لے لیں اور مصالحت ہو جائے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبردار کیا اور کہا: ہمارے سامنے تین چیزیں ہیں، ان میں سے کسی ایک کو قبول کرنا ہو گا، اسلام، جزیہ یا پھر جنگ۔ یہ سننا تھا کہ وہ سب بہت ناراض ہوئے اور کہا: جاؤ اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جاؤ، وہ دن دور نہیں جب ہم تمہیں رسیوں میں باندھیں گے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: رہا رسیوں میں باندھنا، تو یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ البتہ ہمارا آخری فرد جان دینے تک لڑتا رہے گا یا ہم تمہیں ذلیل و رسوا کر کے یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ اتنا کہہ کر سیدنا معاذؓ واپس لوٹ آئے۔
(الاکتفاء: الکلا: جلد 3 صفحہ 194)
اس طرح اس سفارت میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی شخصیت ایک مدبر سیاسی، ماہر فوجی اور حکیم داعی کی حیثیت سے نمودار ہوئی، جو اپنے دشمن کے دلائل کا منہ توڑ جواب دیتے اور چبھتے ہوئے الزامی اعتراضات کرتے رہے، ان کے عیوب اور رعایا پر جبر و تسلط کو گناتے ہوئے انہی کے مذہب کا واسطہ دیتے اور اسلام کی طرف بلاتے رہے۔ جہاں تک ان کے مرعوب کرنے اور نفسیاتی جنگ کی بات ہے تو حضرت معاذؓ نے اس کا جواب خوف و دھمکی سے نہیں دیا، بلکہ واقعیت پسندی کا مظاہرہ کیا اور اپنا مقصد صاف لفظوں میں بتا دیا۔ پھر اپنی قیادت کے پاس واپس آگئے اور مسلم قیادت نے جو کچھ انہوں نے کیا اور رومیوں سے کہا اس کی تائید کی۔
(الأنصار فی العصر الراشدی: صفحہ 207)
مسلمان اپنے دشمن سے جنگ کرنے سے پہلے اسے اسلام کی دعوت دیتے تھے۔