مرتدین کے سلسلہ میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مؤقف
علی محمد الصلابیجب ارتداد کی لہر اٹھی تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہوئے فرمایا: تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے ہدایت سے نوازا، پس کافی ہو گیا اور عطا کیا پس بے نیاز کر دیا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے محمدﷺ کو مبعوث فرمایا، اس وقت علم کی قدر و قیمت نہ تھی، اسلام اجنبی اور دھتکارا ہوا تھا، اس کی رسی بوسیدہ ہو چکی تھی، اس کے کپڑے پرانے ہو چکے تھے، اس کے ماننے والے اس سے بھٹک گئے تھے، اللہ تعالیٰ اہل کتاب سے ناراض ہو گیا تھا، ان کو کوئی خیر ان کے خیر کی وجہ سے نہیں دیتا تھا اور ان سے کوئی شر ان کے شر کی وجہ سے نہیں پھیرتا تھا، انہوں نے اپنی کتاب میں تبدیلی کر ڈالی اور اس میں دوسری چیزیں شامل کر دیں، اور عرب اپنے آپ کو اللہ رب العزت سے محفوظ سمجھتے رہے، نہ اس کی عبادت کرتے نہ اس سے دعا کرتے، اللہ نے ان کی معیشت تنگ کر دی، اللہ نے پتھریلی زمین میں بدلیوں کے ساتھ دین کو سایہ فگن کیا اور محمدﷺ کے ذریعہ سے ان کو آخری امت قرار دیا اور ان کو امت وسط بنایا اور ان کے متبعین کے ذریعہ سے ان کی مدد کی اور دوسروں پر ان کو فتح عطا کی اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو اٹھا لیا تو شیطان نے پھر اپنا قبضہ جمایا اور ان کے ہاتھ پکڑے اور ان میں سے ہلاک ہونے والے بغاوت پر آمادہ ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡــئًا وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 144)
ترجمہ: اور محمد ﷺ ایک رسول ہی تو ہیں۔ ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال ہوجائے یا انہیں قتل کردیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا۔
تمہارے اردگرد کے دیہاتیوں نے اپنی بکریاں اور اونٹ جو زکوٰۃ میں دیتے تھے روک لیے ہیں۔ آج سے بڑھ کر وہ اپنے دن میں کبھی زیادہ کمزور نہ تھے۔ کاش وہ اس کی طرف لو آئیں! اور تم آج سے بڑھ کر زیادہ قوی نہ تھے۔ رسول اللہﷺ نے تمہیں اللہ کے حوالے کر دیا ہے اور وہ کافی ہے، اس نے آپ کو راہ بھولا پایا تو ہدایت سے نوازا، نادار پایا تو تونگر کر دیا۔
ارشاد ربانی ہے:
وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 103)
ترجمہ: اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔
اللہ کی قسم! میں اس کے دین کے لیے قتال کرنا جاری رکھوں گا یہاں تک کہ اللہ اپنا وعدہ مکمل کر دے اور ہمارے لیے اپنا عہد پورا کر دے۔ اہل جنت میں سے جن کو شہادت ملنی ہے شہادت مل جائے اور جن کو باقی رہنا ہے وہ زمین میں باقی رہ جائیں۔ اللہ کا فیصلہ برحق ہے اور اس کی بات بدلتی نہیں۔ ارشاد الہٰی ہے:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡـئًــا وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞ (سورۃ النور آیت 55)
ترجمہ: تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 315)
بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن میں سرفہرست سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے، آپؓ کو مشورہ دیا کہ مانعین زکوٰۃ کو ان کی حالت پر چھوڑ دیں اور مال کے ذریعہ سے ان کی تالیف قلب (دلجوئی) کریں تا کہ ایمان ان کے دلوں میں پیوست ہو جائے پھر وہ اس کے بعد زکوٰۃ ادا کریں گے لیکن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس مشورہ کو نہ مانا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 315)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: جب رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو عرب میں سے مرتد ہونے والے مرتد ہو گئے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپؓ ان لوگوں سے کس بنیاد پر قتال کریں گے جبکہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:
امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ ، فمن قالہا فقد عصم منی مالہ ونفسہ الا بحقہ، وحسابہ علی اللہ۔
ترجمہ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں، یہاں تک کہ لوگ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیں۔ جس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیا اس نے اپنے مال و جان کو محفوظ کر لیا مگر یہ کہ اسلام کا حق آ جائے، اور اس کا حساب اللہ کے حوالے ہے۔
(البخاری: صفحہ 1400 مسلم: صفحہ 20)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ میں اس سے ضرور قتال کروں گا جو نماز و زکوٰۃ کے درمیان تفریق کرے گا۔ زکوٰۃ مال کا حق ہے، واللہ اگر انہوں نے بکری کا بچہ جو رسول اللہﷺ کو زکوٰۃ میں دیتے تھے روک لیا تو میں ان سے اس کے روکنے کی وجہ سے قتال کروں گا۔
سیدنا عمرؓ نے فرمایا: واللہ یہ تو ایسی بات ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے، پھر میں نے پہچان لیا کہ یہی حق ہے۔
اس کے بعد سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مرتدین سے قتال کرنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایمان پوری امت کے ایمان پر بھاری ہے۔
(حروب الردہ: محمد احمد باشمیل: صفحہ 24)
اس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرؓ کے سامنے ایک اہم فقہی مسئلہ واضح فرمایا جو ان کے ذہن سے اوجھل تھا وہ یہ کہ جس حدیث سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے استدلال کیا تھا اس میں ایک جملہ ہے جو مانعین زکوٰۃ سے قتال کے وجوب پر دلالت کرتا ہے، وہ ہے
فاذا قالوہا عصموا منی دماء ہم وامولاہم الا بحقھا۔
ترجمہ: جب اس کلمہ کا اقرار کر لیں تو انہوں نے اپنا خون و مال محفوظ کر لیا، اِلا یہ کہ اس کلمے کا حق آجائے۔
(مسلم: صفحہ 21)
اور یقیناً مرتدین سے قتال کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے الہام شدہ تھی اور اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کا تقاضا بھی یہی تھا اور اس کے علاؤہ دوسرا کوئی موقف اختیار کرنا ہزیمت و ناکامی اور جاہلیت کی طرف لوٹنے کا پیش خیمہ ہوتا۔ اگر اللہ نہ ہوتا اور پھر سیدنا ابوبکرؓ کی یہ فیصلہ کن قرارداد نہ ہوتی تو تاریخ کا رخ بدل جاتا اور اس کی حرکت تبدیل ہو جاتی اور گھڑی کی سوئیاں پیچھے کی طرف لوٹنے لگتیں اور پھر جاہلیت لوٹ آتی اور زمین میں شر و فساد کو برپا کرتی۔
(الشوری بین الاصالۃ والمعاصرۃ: صفحہ 86)
جب بہت سے قبائل عرب نے بیت المال کو زکوٰۃ دینے سے انکار کیا یا مطلقاً زکوٰۃ کی فرضیت کے منکر ہوئے، اس موقع پر جو کلمات سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی زبان سے نکلے وہ طویل اور فصیح و بلیغ خطبہ اور بڑی کتاب کے برابر تھے، اسلام کا دقیق فہم، دین پر شدید غیرت اور عہد نبوی میں جس شکل میں دین تھا اس کو اس کی ہیئت پر باقی رکھنے کا عزم ان کے مختصر کلمات سے نمایاں ہوتے ہیں۔ وہ کلمات یہ تھے: وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا اور دین پورا ہو گیا ہے، میرے جیتے جی اس میں کمی نہیں ہو سکتی۔
(المرتضیٰ للندوی: صفحہ 70)
اور ایک روایت میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا: اے خلیفہ رسول! لوگوں کے ساتھ تالیف قلب اور نرمی کا برتاؤ کیجیے۔ فرمایا: سیدنا عمرؓ! جاہلیت میں بڑے بہادر اور اسلام میں اتنے بزدل؟ وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے اور دین پورا ہو گیا ہے، میرے جیتے جی اس میں کمی نہیں ہو سکتی۔
(مشکاۃ المصابیح: المناقب: صفحہ 6034)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین سے قتال کے سلسلہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مؤقف و خیالات کو سنا اور انہیں وضاحت کے ساتھ سننے کے بعد ہی جنگ کا فیصلہ کیا، سیدنا ابوبکرؓ قرارداد اور فیصلہ میں جلدی اور پختہ رائے کے مالک تھے۔ صحیح اور درست بات واضح ہو جانے کے بعد اس میں ایک لحظہ بھی تردد نہ کرتے اور عدم تردد پوری زندگی میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی واضح صفت تھی۔
(الشوری بین الاصالۃ والمعاصرۃ: صفحہ 87)
مسلمان سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی رائے کی صحت پر مطمئن ہوئے، اس کو اختیار کیا اور صحیح سمجھا۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے دور اندیش، زیرک اور ارتداد کی عظیم آفت اور پریشان کن حالات میں سب سے زیادہ مطمئن تھے۔
(حرکۃ الردۃ للعتوم: صفحہ 165)
اسی لیے سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے زیادہ سمجھدار اور بہترین رائے رکھنے والے تھے۔
(البدء والتاریخ المَقْدِسی: جلد 5 صفحہ 153)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بصیرت اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ تیز تھی، کیونکہ آپؓ نے معاملہ کو اس ایمانی بصیرت سے سمجھا جو تمام کے ایمان پر بھاری تھا، وہ یہ کہ زکوٰۃ کو شہادتین سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جس نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حق کو تسلیم کرے جو اس کے مال میں فرض کیا جائے درآں حالانکہ یہ مال اصل میں اللہ ہی کا ہے اور زکوٰۃ کے بغیر صرف لا الٰہ الا اللہ کا قوموں کی زندگی میں کوئی وزن نہیں اور جس طرح لا الٰہ الا اللہ کے دفاع میں تلوار اٹھانا مشروع ہے اسی طرح زکوٰۃ کے دفاع میں تلوار اٹھانا مشروع ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہی صحیح اسلام ہے اور اس کے برعکس اسلام نہیں۔
(حیاۃ ابی بکر: محمود شلبی: صفحہ 123)
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو کتاب کے بعض حصے پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔
فرمان الہٰی ہے
اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡكِتٰبِ وَتَكۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ يَّفۡعَلُ ذٰلِكَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡىٌ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُرَدُّوۡنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الۡعَذَابِ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ۞ (سورۃ البقرۃ آیت 85)
ترجمہ: تو کیا تم کتاب (تورات) کے کچھ حصے پر تو ایمان رکھتے ہو اور کچھ کا انکار کرتے ہو ؟ اب بتاؤ کہ جو شخص ایسا کرے اس کی سزا اس کے سوا کیا ہے کہ دنیوی زندگی میں اس کی رسوائی ہو ؟ اور قیامت کے دن ایسے لوگوں کو سخت ترین عذاب کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مؤقف جس میں کوئی نرمی، کوئی سودے بازی اور تنازل نہ تھا، یہ اللہ کی طرف سے ایک الہام شدہ مؤقف تھا۔ اللہ رب العالمین کے احسان کے بعد، اس دین کی سلامتی اور اپنی اصلی حالت میں بقاء کے سلسلہ میں اس مؤقف کا بڑا اہم کردار رہا۔ سب نے اس کا اقرار کیا اور تاریخ نے اس بات کی شہادت دی کہ ظالم کا ارتداد اور اسلام کی ایک ایک کڑی کو توڑنے کی سازش کے مقابلہ میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جو مؤقف اختیار کیا یہ وہی مؤقف تھا جو انبیاء علیہم السلام و رسل نے اپنے دور میں اختیار کیا تھا اور یہی خلافت نبوت ہے جس کا حق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ادا کر دیا اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کی تعریف و ستائش اور دعا کے مستحق قرار پائے۔
(المرتضیٰ للندوی: صفحہ 72)