سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ بنو قریظہ میں
علی محمد محمد الصلابیغزوۂ بنو قریظہ میں حضرت علیؓ بطور مقدمۃ الجیش اس وقت تک علمبردار رسول رہے جب تک کہ بنو قریظہ کے بارے میں سیدنا سعد بن معاذؓ نے اپنا فیصلہ نہیں سنایا۔
ابن ہشام اس کی تفصیل یوں بیان کرتے ہیں کہ مسلمان بنو قریظہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، حضرت علیؓ نے پکار کر کہا: اے ایمان کے لشکر! علیؓ اور زبیر بن عواؓم آگے بڑھے اور سیدنا علیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں وہ مزہ چکھنا چاہتا ہوں جو حضرت حمزہؓ نے چکھا تھا، یا پھر اس قلعہ کو فتح کر کے رہوں گا۔ اب بنوقریظہ نے کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم سعد بن معاذ کے حکم پر اترتے ہیں۔
(معین السیرۃ: الشامی: صفحہ 94)۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس متقی اور صاف دل انسان جسے اعلائے کلمۃ اللہ کے راستہ میں بہادری دکھانے اور قربان ہوجانے کی توفیق دی تھی، ( یعنی حضرت علیؓ کی) آواز سے دشمنانِ اسلام کے دلوں میں رعب اور دہشت طاری کر دی، اسی طرح اپنے گروہ سے حضرت علیؓ کا خطاب بھی قابلِ غور ہے کہ آپ نے اسے ’’اے ایمان کے لشکر‘‘ جیسے محبوب ترین نام سے پکارا، جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخاطب کیا کرتا ہے، درحقیقت یہ ایمانی نداء تھی جس میں عقیدہ کی صداقت، عمل کی درستگی اور جہاد فی سبیل اللہ کی تصویر جھلک رہی تھی۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 1421، السیرۃ النبویۃ: ابن ہشام: جلد 3 صفحہ 263)۔
جب بنو قریظہ کے بارے میں حضرت سعد بن معاذؓ کا یہ فیصلہ ہوا کہ ان کے جنگجو قتل کر دیے جائیں، عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں، اور ان کے مال و جائیداد کو تقسیم کر دیا جائے۔
(الخلیفتان عثمان وعلی بین السنۃ والشیعۃ: أنور عین: صفحہ 78)۔
تو جنگجوؤں کو قتل کرنے میں جنابِ علی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما پیش پیش تھے۔
(السیرۃ: ابن ہشام: جلد 3 صفحہ 263، صحیح البخاری: حدیث نمبر 412۔ أمتاع الأسماع: المقریزی: جلد 1 صفحہ 247)۔