سوڈانی شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سوڈانی شیعہ

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 3

سوڈانی شیعہ

اب ہم افریقی ملک سوڈان کے بارے میں حالات بتانا چاہتے ہیں۔ سوڈان ایک ایسا ملک ہے جسے جنگوں نے اور انقلابات زمانہ نے کمزور کر دیا ہے اور اسے گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ یہ تباہ کن فقر و فاقہ کے پہاڑ کی زد میں کراہ رہا ہے۔ بھوک نے اسے نڈھال کر دیا ہے۔ اور اس میں پناہ گزینوں کی نیند حرام ہو چکی ہے، یہ ہلاکت خیز طوفانوں کی زد میں چلا آ رہا ہے۔ شرانگیز قوتیں اس پر چڑھ آئی ہیں اور ہر جگہ سے یہ انتقام کا نشانہ بن رہا ہے۔ اس کے ہر حصہ میں صوفیوں نے اپنے منحرف نظریات کی طنابیں ڈال رکھی ہیں۔ 

انہی ظروف و حالات نے شیعوں کے لیے یہ سرزمین شاداب کر دی ہے انہوں نے اپنی قوتیں یکجا کیں اور اپنی خفیہ طاقتیں مجتمع کر کے یہاں پھینک دیں، مثلاً نائیجیریا بنین، سنگال، کامرون، وغیرہ میں یہاں انہوں نے معمولی تگ و دو اور تھوڑے وقت میں بڑے بڑے نتائج بہ آسانی حاصل کر لیے تھے وجہ یہ ہے کہ سنی اپنے سوڈانی بھائیوں سے دور تھے، شیعوں کو کامیابی کا موقع مل گیا۔ سوڈان میں ایک شیخ نے المناک لہجہ میں کہا تھا: 

سبحان الله ليس فی السودان الا مسلم مالكی او جنوبی وثنی وها نحن نسمع اليوم بنصارىٰ ورافضة وملحدين وعلمانيين 

"ہم تو سوڈان میں مسلمان یا بت پرست کا نام سنا کرتے تھے۔ اب ہم عیسائی، شیعہ، بے دین اور علمانیوں کا نام بھی یہاں سے سن رہے ہیں۔“

 جو بھی سوڈان میں شیعہ دعوت پر غور کرے گا اسے یہ چیز نظر آئے گی کہ یہ اپنی پرخباثت دعوت کے میدان میں کئی محاذوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی پوری توجہ کا مرکز ہے یہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ جتنا ہمارے لیے لوگوں کو شکار کرنا ان حالات میں ممکن ہے شاید اس کے بعد کبھی نہ ہو، اس کے لیے یہ کئی مراکز سے کام کر رہے ہیں۔ 

نمبر(1) طلبہ کا مرکز ہے۔ یہ شیعوں کی دعوت کا مرکز ہیں، یہ یونیورسٹیوں کے طلباء ہیں، لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی، یہ شیعوں کے ہاں خاص مقام رکھتے ہیں ان کے مؤثر ہونے کا اندازہ لگائیں، خرطوم یونیورسٹی میں تین سالوں کے درمیان شیعوں نے تیرہ مرتبہ مختلف ناموں کے تحت ان سے رابطہ کیا ہے۔ دوسرے شہروں کی یونیورسٹیوں کا اندازہ خود لگا لیں۔ یہ رابطہ جو ہے اس میں ثقافتی اور دعوتی سرگرمیاں مضبوط ہوئی تھیں اور انہی ناموں سے یہ ملاقات کرتے تھے۔ فکر شیعہ سے یہ کتنے زیادہ اور شدت کے ساتھ متاثر ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ تربیتِ اسلامیہ کے اساتذہ کے ساتھ یہ مسلمہ مسائل پر زبردست مناقشہ اور سوال و جواب کرتے ہیں۔ مثلاً عدالتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، شیخینؓ کی خلافت، ام المومنین سیدہ عائشہؓ کی براءت اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی براءت ثابت ہے یا نہیں؟ وغیرہ مسائل پر یہ ٹھیک ٹھاک بحث کرتے ہیں۔ ایک استاد سے انہوں نے ایسی تکرار کی کہ خرطوم یونیورسٹی کا یہ استاد لاجواب ہو گیا اس سے اندازہ لگائیں یہ شیعی فکر اور نقطۂ نظر ان میں کس قدر شدید انداز میں دخل اندازی کر چکا ہے۔ ان طلباء میں دعوت شیعہ اتنی زیادہ کامیاب ہو چکی ہے کہ ان یونیورسٹیوں کے اساتذہ، طلباء اور دعوت دینے والے ہر مجلس میں بات ہی اسی موضوع فکر شیعہ پر کرتے ہیں۔

 (2) وہ طلباء مرکز ہیں جو یونیورسٹی کی نچلی سطح پر ہیں شیعوں نے ان پر اثر ڈال رکھا ہے مگر ان میں وہ اتنے کامیاب نہیں جتنے پہلی قسم کے طلباء میں کامیاب ہیں، سوڈانی قبیلوں میں شیعی مدارس کھولے جا رہے ہیں تاہم کئی ان میں سے بند ہو رہے ہیں۔ 

(3) وہ طلباء ہیں جو مدارسِ قرآنیہ میں سے ہیں ان میں بھی انہیں کامیابی مل رہی ہے۔ یہ پرانے زمانے سے کافی تعداد میں ہیں ان کے شیوخ مال سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ شیوخ خود اپنے دین اور عقیدہ سے نا آشنا ہوتے ہیں مگر ان کی اپنے طلباء پر تاثیر بہت ہوتی ہے اور یہ شیعہ جب ان کی زیارت کے لیے جاتے ہیں تو ساتھ ان کے لیے غذا، پوشاک اور تحائف لے کر جاتے ہیں، کتب اور مصاحف بھی تحائف میں دیتے ہیں اور طلباء پر بھی تقسیم کرتے ہیں، ان ملاقاتوں کے دوران دروس اور لیکچرز دیتے ہیں۔ اور خرطوم یونیورسٹی کے ماتحت تعلیمی مراکز اور ادارے میں ممتاز آنے والے طلباء میں بھی تحائف تقسیم کرتے ہیں۔ ان اداروں سے سندیں حاصل کرنے کے بعد انہیں ایران میں تعلیم دلواتے ہیں۔ اس طرح یہ طالب علم سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے تلووں تک شیعیت میں پھنس جاتا ہے۔

 محور:1 محور و مرکز، شیعوں کا یہ صوفی ہیں، سوڈان میں شیعہ ان کے ذریعے ہی اپنے مقاصد پورے کر رہے ہیں۔ یہ صوفیوں کے طریقوں اور سلسلوں کا مرکز و محور ہیں، ان صوفیوں کی ایک قسم تو عملاً شیعہ ہی ہیں بلکہ شیعوں کے داعی ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں، شیخ محمد ریح حمد بھی ان میں سے ہے، یہ آدمی صوفیوں میں سے ہے اس کے پیروکار کثیر تعداد میں ہیں۔ اس نے بڑا اہتمام کیا ہے حتیٰ کہ یہ بہت بڑے منصب تک پہنچا ہے یہ ذکر و ذاکرین کی کانفرنس کا جوائنٹ سیکرٹری ہے۔ یہ کانفرنس صوفیوں کے

سلسلوں کو بڑے اہتمام کے ساتھ رکھتی ہے، ایک شیخ ابوزرون ہے۔ سوڈان کی سطح تک اس کے پیروکار بھی بہت بڑی تعداد میں ہیں یہ سرِعام لوگوں سے میل ملاقات رکھتا ہے، اس نے جب سے یہ شیعہ سیاہ لباس پہن رکھا ہے کبھی نہیں اتارا۔ صوفیوں کی ایک دوسری قسم ہے جو رافضیوں کی طرف مائل ہے کیونکہ ان سے انہیں مالی سہارا بہت ملتا ہے مگر یہ شیعیت میں شامل نہیں ہوئے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی مساجد شیعوں کے لیے کھول رکھی ہیں۔ اس کے پیروکاروں اور مریدوں کے دل بھی شیعوں کے لیے کھلے ہیں۔ یہ قدم آگے اور قدم پیچھے والی گونا گوں کی کیفیت میں ہیں۔ شیخ یاقوت ان میں سے ہی ہے۔ یہ سوڈان میں صوفیوں کے بہت بڑے سلسلہ والے ہیں، اس شیخ کی شیعہ مسلسل ملاقات کرتے رہتے ہیں، شیخ ددبدر بھی ان میں سے ہے، ایرانی داعی شیعہ نے افریقہ کے براعظم کی سطح پر جو کہ محمد شاہدی ہے، نے بھی اس شیخ سے ملاقات کی تھی۔ 

صفحہ 1 از 3