Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جنازہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا جنازہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہیں پڑھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رضا مندی نہ ہوئی تھی۔ یہ لوگ اس کے متعلق بخاری کی ایک حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہؓ کی وفات کی اطلاع نہ دی تھی۔ میں کہتا ہوں یہ محض غلط ہے۔ جب کتب طرفین سے رضا مندی کا ہو جانا ثابت ہے تو جنازہ نہ پڑھنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ بخاری کی حدیث سے شیعہ کا استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ حضرت علیؓ کی اطلاع نہ دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خاتون جنت کی وفات کی حضرت ابوبکرؓ کو اطلاع نہ ہوئی ہو۔ جب کسی کے گھر میت ہو جاتی ہے تو گھر والوں کا یہ فرض نہیں ہے کہ ہر شخص کو اس کی اطلاع دیتے رہیں بلکہ ایسے واقعہ سے شہر کا ہر باشندہ واقف ہو جاتا ہے۔ یہ کب ممکن ہے کہ بنت رسولﷺ والدہ حسین رضی اللہ عنہ کی وفات ہو اور خلیفۃ المسلمین اس سے بے خبر رہیں بالخصوص جیسا کہ کتب میں ہے۔ حضرت علیؓ اور اسماء بنت عمیسؓ نے حضرت فاطمہؓ کو غسل دیا۔ اسماء بنت عمیسؓ حضرت ابوبکرؓ کی زوجہ تھیں۔ پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ بیوی میت کو غسل دے رہی ہو اور شوہر کو وفات ہی کی خبر نہ ہو۔ یہ سب باتیں یار لوگوں کی افتراء ہیں۔

یہ تو درست ہے کہ جناب سیدہ رضی اللہ عنہا نے حضرت علیؓ سے یہ وصیت فرمائی تھی کہ ان کا جنازہ رات کو اُٹھایا جائے تا کہ ستر میں فرق نہ آئے اور اسی وصیت کی بنا پر جنازہ رات کو اُٹھایا گیا اور آپ کو جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے ہی جنازہ پڑھایا جیسا کہ طبقات ابن سعد جز و ہشتم صفحہ 19 میں ہے:

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بن عمر حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ رُبيع عَنْ مُجَا لِدٍ عَنِ الشُّعْبِي قَالَ صَلَّى عَلَيْهَا أَبُوبَكْرٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ وَعَنَهَا أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ابْنُ أَبِي الْمَسَاوِرِ عَنْ حمادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ صَلَّى أَبُو بِكُرِ نِ الصِّدِّيقُ عَلَى فَاطِمَةَ بِئْتِ رَسُولِ اللَّهِﷺ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا.

یعنی فاطمہ بنت رسولﷺ کی نماز جنازہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں۔“

اب ہم فدک کے متعلق مکمل بحث کر چکے۔ ہر ایک ذی بصیرت شخص سمجھ سکتا ہے کہ رسول کا قبضہ فدک پر متولیانہ تھا۔ آپ صرف امین تھے اور بطور خازن فدک کی آمدنی جمع کر کے اپنے اہل بیت کو سالانہ قوت دے کر باقی غرباء و مساکین امت پر خرچ کر دیا کرتے تھے۔ دائرۃ الاصلاح لاہور نے ایک مختصر رسالہ اس مبحث میں لکھا ہے 

(باغ فدک کے متعلق حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند قدس سرہ نے ایک مستقل کتاب ہدیۃ الشیعہ تصنیف فرمائی ہے جس میں حضرت قاسم العلوم کے قلم معجز رقم سے عجیب و غریب معارف و حقائق ظاہر ہوئے۔ اہل علم و بصیرت حضرات کے لیے بہت مفید ہے۔ (احقر مظہر حسین غفرلہ )

ذیل میں چند کلمات اس رسالہ سے درج کر کے اس بحث کو ختم کیا جاتا ہے۔ وَهُوَ ھذا