عدل و مساوات
علی محمد الصلابیاسلامی حکومت کے اہم مقاصد میں سے یہ چیز ہے کہ اسے اسلامی نظام کی بنیادوں پر قائم کرنے کی پوری کوشش کی جائے تاکہ ایک مسلم معاشرہ وجود میں آ سکے، انہی اہم بنیادوں میں سے عدل و مساوات بھی ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے امت کے سامنے اپنے پہلے خطاب میں ان اصول و قواعد کو بیان کیا ہے آپؓ نے منصبِ خلافت سنبھالتے وقت امت کے سامنے جو خطبہ دیا تھا اس کا ایک ایک حرف آپؓ کے عدل و مساوات کی منہ بولتی تصویر ہے بلاشبہ حضرت عمرؓ کے نزدیک عدل سے مراد اسلام کا وہ عادلانہ نظام ہے جو کسی اسلامی سماج اور اسلامی حکومت کے قائم کرنے میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے ایسا معاشرہ جس کی قیادت ظالم ہاتھوں میں ہو اور وہ عدل سے نا آشنا ہو اسے اسلامی معاشرہ نہیں کہا جا سکتا۔ عوام کے درمیان انفرادی طور پر یا جماعتی اور ملکی سطح پر عادلانہ نظام قائم کرنا کوئی نفلی کام نہیں ہے جس کو حاکم وقت یا امیر وقت کے مزاج اور خواہش پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ لوگوں میں اس کا قیام اسلامی نقطئہ نظر سے اسلام کے مقدس اور اہم ترین فرائض میں سے ہے اور امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ عدل و انصاف واجب ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب السلام: حدیث 2219)
مفسر قرآن فخر الدین الرازیؒ کا قول ہے کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے۔
(القیود الواردۃ علی سلطۃ الدولۃ فی الإسلام: صفحہ 167،168 )
حاکمِ وقت پر عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرنا واجب ہے، اس کی تائید قرآنی آیات اور سنت نبویہﷺ سے ہوتی ہے کیونکہ اسلامی ملک کا تقاضا ہے کہ ایسا اسلامی معاشرہ وجود میں آئے جس میں عدل و مساوات کی حکمرانی ہو اور ظلم تمام تر اشکال میں ناپید ہو اور اس کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہر انسان جو اپنے حق کا طالب ہو اس کے لیے میدان کشادہ ہو، راستہ ہموار ہو تاکہ آسان اور مختصر راستوں کے ذریعہ سے اپنا حق لے سکے اسے کسی مشقت یا رشوت ادا کرنے کی ضرورت نہ پڑے نیز اسلامی حکومت کے اہم مقاصد میں یہ بھی ہے کہ وہ تمام اسباب و وسائل جو حصولِ حق کی راہ میں رکاوٹ بنیں انہیں ختم کر دے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے ملک میں یہی کیا۔ آپؓ نے دروازہ کے دونوں پٹ کھول دیے تاکہ رعایا اپنے حقوق پا سکے، آپؓ نے بنفسِ نفیس رعایا کی خبرگیری کی، اسے ہر متوقع ظلم سے بچایا اور حکام و رعایا کے درمیان عدل کی وہ خوب صورت مثال قائم کی جو تاریخ کا زرّیں باب ہے۔ آپؓ فریقین کے درمیان عدل قائم کرتے اور فیصلہ حق کے ساتھ کرتے تھے۔ آپؓ یہ نہیں سوچتے تھے کہ جن کے خلاف فیصلہ ہوا ہے وہ دشمن ہیں یا دوست، مال دار ہیں یا فقراء۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوّٰٖمِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعۡدِلُوۡا اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ۞ ( سورۃ المائدہ: آیت 8)
ترجمہ:’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو، عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘
سیّدنا عمرؓ اپنے عدل و انصاف کا نمونہ تھے جس نے دلوں کو فتح کر لیا اور عقلیں حیرت زدہ رہ گئیں، آپؓ کی نگاہ میں عدل و انصاف اسلام کی ایک عملی دعوت تھی جس سے لوگوں کے دلوں کو ایمان کے لیے وسیع کیا جا سکتا ہے۔ آپؓ رسول اللہﷺ کے طرزِ عمل پر چلتے رہے، آپؓ کی سیاست اس عدل پر قائم تھی جس سے تمام انسان مستفید ہورہے تھے آپؓ واقعیت اور حقیقت کے میدان میں اپنے عادلانہ عمل میں ایسے کامیاب رہے جس کی کوئی مثال نہیں اور جسے قبول کرنے سے عقلیں ششدر ہیں، یہاں تک کہ آپؓ کا نام اور عدل لازم و ملزوم ہو گئے تھے جس کسی کو آپؓ کی سیرت سے ادنیٰ واقفیت ہے اس کے لیے بہت مشکل ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دے۔ اس بڑی کامیابی کے پیچھے چند اسباب اور عوامل تھے جو آپؓ کے لیے معاون ثابت ہوئے:
1۔ آپؓ کی مدتِ خلافت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مدتِ خلافت سے طویل رہی۔ آپؓ کی مدت خلافت دس سالوں سے بھی زیادہ رہی جب کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت صرف دو سال کچھ مہینوں پر ختم ہو گئی۔
2۔ آپؓ حق پر مضبوطی سے قائم رہنے والے تھے، بلکہ اس سلسلہ میں دوسروں کی نسبت اپنے اور اپنے اہل و عیال پر زیادہ ہی سخت تھے، جیسا کہ ہم اس کا مشاہدہ عنقریب کریں گے۔
3۔ اللہ سے جلد ملاقات پر آپؓ کا ایمان اس قدر مضبوط تھا کہ ہر کام میں لوگوں کی رضامندی سے پہلے اللہ کی رضامندی کے طالب ہوتے تھے، صرف اللہ سے ڈرتے اور انسانوں میں کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔
4۔ صحابہؓ اور تابعینؒ کے دلوں میں اسلامی شریعت کی گرفت قوی تھی جس کی وجہ سے حضرت عمرؓ کے تمام کاموں کو سب کی طرف سے فوراً تائید، مثبت جواب اور تعاون مل جاتا تھا۔
(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: الصلابی: صفحہ 455)
5۔ لوگوں میں آپؓ کے عدل و انصاف کی چند مثالیں:
آپؓ نے ایک مسلمان کے خلاف یہودی کے حق میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا، یہودی کے کفر نے آپؓ کو اس بات پر نہیں ابھارا کہ آپؓ اس پر ظلم کریں اور عدل سے ہٹ جائیں۔
امام مالک رحمہ اللہ (تفسیر الرازی: جلد 10 صفحہ 141) نے سعید بن مسیبؓ کی سند سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس ایک مسلمان اور یہودی جھگڑا لے کر آئے، حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ یہودی حق پر ہے لہٰذا آپؓ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا، تو یہودی نے کہا: اللہ کی قسم! آپؓ نے حق کے ساتھ فیصلہ کیا۔
آپؓ نے اپنے گورنروں کو یہ حکم دیا تھا کہ حج کے موسم میں آپؓ سے ملاقات کیا کریں، جب وہ یکجا ہو جاتے تو آپؓ فرماتے: ’’اے لوگو! میں نے اپنے گورنروں کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا کہ وہ تمہاری چمڑی ادھیڑ لیں اور مال ہڑپ کر لیں، ان کو میں نے بھیجا ہے تاکہ تمہارے (آپسی مظالم کے) درمیان حائل ہوں اور مالِ غنیمت کو تمہارے درمیان تقسیم کریں لہٰذا جس کے ساتھ اس کے خلاف برتاؤ کیا گیا ہو وہ کھڑا ہو جائے،‘‘چنانچہ ایک آدمی کے علاوہ کوئی کھڑا نہ ہوا۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین! آپؓ کے گورنر نے مجھے سو کوڑے مارے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے گورنر سے فرمایا: تم نے اس کو کیوں مارا ہے؟ (اور اس آدمی سے کہا) اٹھو، اور ان سے بدلہ لو۔ (اسی دوران) حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپؓ ایسا کرتے ہیں تو یہ سلسلہ لمبا ہو جائے گا اور آپؓ کے بعد جو بھی آئے گا اس کے لیے یہ چیز سند بن جائے گی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: کیا میں بدلہ نہ دلاؤں، حالانکہ میں نے رسول اللہﷺ کو بذاتِ خود بدلہ دلاتے ہوئے دیکھا ہے؟ حضرت عمرو بن عاصؓ نے کہا: ہم کو اجازت دیجئے ہم اسے راضی کر لیں۔ آپؓ نے فرمایا: لے جاؤ اسے راضی کر لو۔ چنانچہ دو سو دینار یعنی ہر کوڑے پر دو دینار کے بدلے اسے راضی کر لیا۔
(نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین: حمد محمد عبد الصمد: صفحہ 145)
اگر وہ اسے راضی نہ کر پاتے تو آپؓ اسے بدلہ دلاتے۔
مصر کا ایک باشندہ آپؓ کے پاس حضرت عمرو بن عاصؓ کے بیٹے کی شکایت لے کر آیا، عمرو بن عاصؓ اس وقت مصر کے گورنر تھے اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں ظلم سے آپؓ کی پناہ چاہتا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا: تو نے اچھی پناہ گاہ ڈھونڈی۔ اس نے کہا: میں نے حضرت عمرو بن عاصؓ کے بیٹے سے دوڑ میں مقابلہ کیا اور میں اس سے آگے نکل گیا۔ اس پر وہ مجھے کوڑے سے مارنے لگا اور کہا میں معزز فرد کا بیٹا ہوں۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کے پاس خط لکھا اور انہیں اپنے بیٹے کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا حضرت عمرو بن عاصؓ آئے تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا: مصری کہاں ہے؟ کوڑا لو اور مارو، وہ اسے مارنے لگا اور حضرت عمرؓ کہتے تھے: ’’معزز فرد کے بیٹے کو مار۔‘‘حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس نے مارا، اللہ کی قسم اس نے اس کو خوب مارا اور ہماری تمنا تھی کہ اسے مارا جائے، وہ اسے مسلسل کوڑے مارتا رہا یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ اب نہ مارا جائے۔ پھر حضرت عمرؓ نے مصری سے کہا: حضرت عمرو بن عاصؓ کے سر پر مارو، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ان کے لڑکے نے مجھے مارا تھا اور میں نے اس سے بدلہ لے لیا۔ تو حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ سے کہا: تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا رکھا ہے، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟ حضرت عمرو بن عاصؓ نے فرمایا: اے امیر المؤمنین! نہ میں نے اس واقعہ کو جانا اور نہ وہ (مصری) میرے پاس آیا۔
(الوسیط فی القرآن الکریم: الصلابی: صفحہ 96)
خلفائے راشدینؓ کی حکومت عدل کی بنیادوں پر قائم رہی، شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہؒ نے کیا ہی خوب بات کہی ہے :
’’بے شک اللہ تعالیٰ عدل پسند حکومت کی مدد کرتا ہے اگرچہ وہ کافر ہو اور ظالم حکومت کی مدد نہیں کرتا اگرچہ وہ مسلم ہو۔ عدل ہی سے افراد کی اصلاح ہوتی ہے اور اموال میں برکت ہوتی ہے۔‘‘
(المؤطا: کتاب الأقضیۃ: باب الترغیب فی القضاء بالحق: حدیث 2)
سیّدنا عمرؓ نے اپنے ملک میں مساوات اور برابری کی جن بنیادوں پر حکومت قائم کی وہ ان اہم بنیادوں میں سے ایک ہے جسے اسلام نے نافذ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰكُمۡ مِّنۡ ذَكَرٍ وَّاُنۡثٰى وَجَعَلۡنٰكُمۡ شُعُوۡبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ۞ (سورۃ الحجرات: آیت 13)
ترجمہ: ’’اے لوگو! بے شک ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمھیں قومیں اور قبیلے بنا دیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا، پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
بے شک حاکم اور محکوم، مرد وعورت، عرب و عجم، سفید و سیاہ سب لوگ اسلام کی نگاہ میں برابر ہیں۔ اسلام نے جنس، رنگ، نسب، طبقہ، حاکم اور محکوم کی بنیادوں پر انسانوں کی ہر تفریق کو مٹا دیا ہے۔ شریعت کی نگاہ میں سب کے سب برابر ہیں۔
(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 293، 294)
اس اصول کو زندہ کرنے میں حضرت عمرؓ کا کارنامہ بہترین نمونہ بن کر سامنے آیا۔ لہٰذا اس مقام پر آپؓ کے ان بعض مواقف کا تذکرہ کیا جاتا ہے جن سے آپؓ کے ملک میں عدل و مساوات کی بنیادوں کو استحکام ملا:
1۔ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں مدینہ اور اس کے قرب و جوار کے لوگ قحط سالی کے شکار ہوئے، مدینہ کو ایسے وقت میں پانی کی سخت ضرورت تھی جب کہ زمین سے ریت اور دھول اڑ رہی تھی،
(وسطیۃ أہل السنۃ بین الفرق: محمد باکریم: صفحہ 170)
اسی لیے اس سال کو ’’عام الرمادۃ‘‘ یعنی ریت والا سال کہا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس موقع پر قسم کھا لی کہ پنیر، دودھ اور گوشت وغیرہ اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک کہ لوگ پہلے جیسی زندگی نہ پا لیں۔ اتفاق سے بازار میں گھی کا ایک ڈبہ اور دودھ کی ایک مشک آئی، حضرت عمرؓ کے غلام نے چالیس درہم میں ان دونوں کو خرید لیا اور حضرت عمرؓ کے پاس لایا اور کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے آپ کی قسم کو پورا کر دیا اور ثواب کو بڑھا دیا، بازار میں دودھ کی ایک مشک اور گھی کا ڈبہ آیا تھا ہم نے اسے چالیس درہم میں خرید لیا ہے حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم نے دونوں کو خرید کر حد سے تجاوز کیا ہے، ان دونوں کو صدقہ کر دو، مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ کسی چیز کے کھانے میں اسراف کروں اور کہا: مجھے رعایا کی حالت کیسے معلوم ہو سکتی ہے جب تک کہ میں بھی اس مصیبت سے نہ گزروں جس سے وہ گزر رہے ہیں۔
(السیاسۃ الشرعیۃ: صفحہ 10 )
یہ ہے اس قحط سالی کے موقع پر آپؓ کا مؤقف، جسے ’’عام الرمادۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔
مہنگائی کے ایام میں بھی آپؓ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی، لوگ ایک سال مہنگائی کے دور سے گزرے، گھی مہنگا ہو گیا، حضرت عمرؓ تیل کھانے لگے، جس سے آپؓ کا پیٹ گڑگڑانے لگا، آپؓ نے پیٹ کو مخاطب کر کے کہا: تم جتنا چاہو گڑگڑاؤ، تم اس وقت تک گھی نہ کھاؤ گے جب تک کہ لوگ اسے نہ کھانے لگیں۔
(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: صفحہ 501)
2۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں مساوات کے اصول کی تنفیذ کسی ایک معاملہ پر منحصر نہ رہی، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مخصوص معاشرتی احوال تک میں اس کا نفاذ ہوا حتیٰ کہ اس کی مثال خادم و مخدوم میں بھی دیکھی گئی۔ چنانچہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ حج کرنے گئے۔ صفوان بن امیہ نے ان کے لیے کھانا پکایا، وہ (صحابہؓ) ایک بڑے برتن میں کھانا چار آدمی اٹھا کر لائے، کھانا سب کے سامنے رکھا گیا، سب کھانے لگے اور خادم کھڑے رہے تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا: کیا تم انہیں اپنے سے دور رکھتے ہو؟ سفیان بن عبداللہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہے اے امیر المؤمنین! البتہ خود کو ان پر ترجیح دیتے ہیں حضرت عمرؓ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے، اپنے خادموں پر خود کو ترجیح دیتے ہیں (یعنی پہلے خود کھاتے ہیں پھر ان کو کھلاتے ہیں) اللہ ان کے ساتھ ایسا ہی کرے۔ پھر خادموں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: تم لوگ بھی بیٹھو اور کھاؤ، چنانچہ خادم بھی بیٹھ گئے اور کھانے لگے اور امیر المؤمنین نے نہیں کھایا۔
(فقہ التمکین فی القرآن الکریم: صفحہ 501)
جب تک سارے مسلمانوں کو کھانا میسر نہ ہوتا آپؓ خود نہیں کھاتے تھے، آپؓ ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھتے تھے عام الرمادۃ میں شام کے وقت ایک روٹی کھاتے، تیل میں توڑ کر ثرید بنا لیتے، مسلسل کئی دنوں تک یہی حالت تھی، یہاں تک کہ ایک دن صحابہؓ نے چند اونٹوں کو ذبح کیا، (تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 98، بحوالہ نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 87) اور لوگوں کو کھلایا اور ایک کپ بھر کر اچھا گوشت آپؓ کے پاس لایا گیا، اس میں کوہان اور کلیجے کی چند بوٹیاں تھیں، آپؓ نے کہا: یہ کہاں سے آیا؟ صحابہؓ نے کہا: امیر المؤمنین! ان اونٹوں کا گوشت ہے جنہیں ہم نے آج ذبح کیا تھا۔ آپؓ نے فرمایا: تھو تھو، میں کتنا برا حاکم ہوں، کہ بہترین گوشت میں کھاؤں اور دوسرے لوگ ہڈیاں کھائیں، پھر روٹی اور تیل لایا گیا، آپؓ اسے اپنے ہاتھ سے توڑا اور اس کا ثرید بنایا۔
سیّدنا عمرؓ عدل و مساوات کے اصول کو صرف مدینہ ہی میں نہیں نافذ کرنا چاہتے تھے بلکہ تمام ریاستوں میں اپنے تمام گورنروں کو اسی بات کی تعلیم دینا چاہتے تھے یہاں تک کہ کھانے پینے کے بارے میں بھی۔
3۔ حضرت عتبہ بن فرقدؓ جب آذربائیجان گئے تو انہیں ضیافت میں حبیص (ایک قسم کی مٹھائی) پیش کی گئی، جب آپ نے اسے کھایا تو بہترین میٹھا پایا اور کہا: اگر اسی طرح امیر المؤمنین کے لیے بنایا جاتا تو بہتر ہوتا۔
چنانچہ حضرت عمرؓ کے لیے دو بڑی ٹوکری بھر کر میٹھی چیز تیار کی، پھر اسے دو آدمیوں کے ساتھ اونٹ پر لاد کر سیدنا عمرؓ کے پاس بھیج دیا گیا، جب وہ دونوں اسے لے کر آپؓ کے پاس آئے اور کھولا تو آپؓ نے پوچھا: یہ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میٹھی چیز ہے، پھر آپؓ نے اسے چکھا، اور اسے میٹھا پایا۔ آپؓ نے پوچھا: کیا سارے مسلمان اپنے گھر میں اسی سے شکم سیر ہوتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپؓ نے فرمایا: جب ایسی بات ہے تو ان دونوں ٹوکریوں کو واپس لے جاؤ۔ پھر آپؓ نے عتبہ بن فرقدؓ کے نام خط لکھا:
’’حمد و صلاۃ کے بعد! یہ نہ تیرے باپ کی کوشش سے ہے نہ تیری ماں کی کوشش سے، تم اپنے گھر میں جس چیز سے شکم سیر ہوتے ہو اسی سے تمام مسلمانوں کو شکم سیر کرو۔‘‘
(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 101 )
4ـ آپؓ نے لوگوں میں عدل و مساوات قائم کرنے کی ایک مثال اس وقت قائم کی جب آپؓ کے پاس مال آیا اور آپؓ اسے لوگوں کے درمیان تقسیم کرنے لگے، لوگوں نے بھیڑ لگا دی، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ لوگوں سے مزاحمت کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے اور آپؓ تک پہنچ گئے۔ آپؓ نے انہیں ایک درّہ لگایا اور کہا: تم زمین میں اللہ کے سلطان سے نہیں ڈرے اور ازدحام کو چیرتے ہوئے آگے نکل آئے، تو میں نے سوچا کہ تم کو بتا دوں کہ اللہ کا سلطان بھی تم سے قطعاً نہیں ڈرتا۔
(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 101)
ہمیں معلوم ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک تھے جنہیں دنیا میں جنت کی بشارت مل گئی تھی، آپؓ عراق، مدائن اور کسریٰ کے فاتح تھے، ان چھ افراد میں سے ایک تھے جنہیں مجلس خلافت کے لیے سیّدنا عمرؓ نے متعین کیا تھا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات کے وقت آپؓ سے خوش تھے، آپؓ شہسوار اسلام کہے جاتے تھے، لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ان کے ساتھ بھی عدل و مساوات کی کتنی بہترین مثال قائم کی۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 87)
5ـ ابن الجوزیؒ سے روایت ہے کہ حضرت عمرو بن عاصؓ نے جب کہ آپؓ مصر کے گورنر تھے، حضرت عمر بن خطابؓ کے بیٹے عبدالرحمن پر شراب نوشی کی حد نافذ کی لوگ یہی جانتے تھے کہ کوئی بھی شرعی حد شہر کے عام میدان میں نافذ ہوتی ہے تاکہ وہ سزا سب کے لیے باعث عبرت ہو، لیکن حضرت عمرو بن عاصؓ نے خلیفہ کے صاحبزادے پر گھر کے اندر جا کر حد نافذ کی، جب حضرت عمرؓ کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو حضرت عمرو بن عاصؓ کو ایک خط لکھا:
’’اللہ کے بندے عمر امیر المؤمنین کی طرف سے مجرم ابن العاص کے نام! اے عاص کے بیٹے! مجھے تجھ پر اور میرے عہد و پیمان کے خلاف تیری جرأت پر حیرت ہے، تمہارے بالمقابل میں نے بعض ان بدری صحابہؓ کی مخالفت کی جو تم سے بہتر تھے، میں نے تمہیں اس لیے منتخب کیا تھا کہ تم میری طرف سے دفاع کرو گے اور میرے عہد کو نافذ کرو گے، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بھی اسی (خامی) میں لت پت ہو جس میں میں لت پت ہوں، اگر میں تم کو عہدہ سے برطرف کرتا ہوں تو یہ بھی اچھی بات نہیں ہے، تم نے عبدالرحمن کو اپنے گھر میں مارا جب کہ جانتے ہو کہ یہ میرے مزاج و عہد کے خلاف ہے، عبدالرحمن تمہاری رعایا کا ایک فرد ہے، جو کچھ تم دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہو وہی اس کے ساتھ کرو۔ لیکن تم نے کہا کہ یہ امیر المؤمنین کے صاحبزادے ہیں۔ تمہیں معلوم ہے کہ اگر میرے نزدیک کسی پر اللہ کا حق واجب ہے تو اس میں اس کے لیے کوئی مروت و رعایت نہیں، لہٰذا جب تم کو یہ خط ملے تو اسے (عبدالرحمن کو) پالان پر رکھے ہوئے کپڑے کا چوغا پہنا کر روانہ کرو تاکہ اس کی سزا کو لوگ جان سکیں۔‘‘
(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 147)
پھر انہیں مدینہ لایا گیا اور کھلے عام ان پر حد جاری کی گئی۔
ابنِ سعدؓ نے اس واقعہ کو روایت کیا ہے اور ابنِ زبیر نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ نیز عبدالرزاق نے بسند صحیح ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے پورا واقعہ تفصیل سے لکھا ہے۔
(الخلفاء الراشدون: صفحہ 243)
اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ شریعت میں عدل و مساوات کا کتنا اعلیٰ مقام ہے، امیر المؤمنین کا لڑکا مجرم ہے، لیکن وقت کا گورنر اس کی سزا معاف نہیں کرتا اور جب حضرت عمر فاروقؓ کو خبر پہنچتی ہے کہ ان کے لڑکے کے ساتھ رعایت کی گئی ہے تو اسے سخت سزا دی اور اس کے ذمہ دار کو جو فاتحِ مصر تھے سخت ترین ڈانٹ پلائی اور لڑکا جس سزا کا مستحق تھا اسے نافذ کرایا۔ بلاشبہ یہ سب کارروائیاں حدودِ الہٰیہ کی حفاظت اور اپنے لڑکے کی اصلاح و درستگی کی خواہش پر مبنی تھیں، جب اپنی قریب ترین اولاد کے لیے آپؓ کا یہ رویہ تھا تو پھر دوسروں کے بارے میں آپؓ کیا سوچ سکتے ہیں۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ الإسلامیۃ والتاریخ الإسلامی: جلد 1 صفحہ 88 )
6۔ عدل و مساوات کی تاریخ میں ایک اہم ترین مثال جبلہ بن ایہم کے ساتھ عمر بن خطابؓ کا وہ واقعہ بھی ہے جسے مؤرخین حضرات مساوات کی تنفیذ میں عدم مروت کے باب میں ذکر کرتے ہیں۔ واقعہ کی تفصیل یہ ہے:
جبلہ، ہرقل کی جانب سے بنو غسان کا آخری حکمران تھا اور غسانی لوگ رومی سلطنت کی ماتحتی میں شام میں رہتے تھے اور شاہ روم غسانیوں کو ہمیشہ جزیرہ عرب کے باشندوں خاص طور پر مسلمانوں سے جنگ کرنے پر ابھارتا رہتا تھا لیکن جب اسلامی فتوحات کی سرحدیں وسیع ہو گئیں اور رومیوں نے مسلمانوں کے ہاتھوں پے درپے ہزیمتیں اٹھائیں تو شام میں بسنے والے عرب قبیلوں نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنا شروع کر دیا، غسانی حکمران نے بھی اسلام قبول کر لیا، نیز اس کے ساتھ اس کے دوسرے ساتھی بھی اسلام لے آئے، پھر اس نے حضرت عمر فاروقؓ سے مدینہ آنے کی اجازت مانگی، حضرت عمرؓ کو اس کے قبولِ اسلام اور مدینہ آنے کی خبر سن کر بہت خوشی ہوئی، چنانچہ وہ مدینہ آیا، اور لمبی مدت تک وہاں قیام کیا حضرت عمرؓ اس کی دیکھ بھال کرتے رہے اور اسے مبارک باد دیتے رہے ایک مرتبہ وہ غسانی حج کے لیے گیا، اتفاق سے طوافِ کعبہ کے دوران بنو فزارہ کے ایک آدمی کے پاؤں سے اس کا ازار دب گیا اور پھر کھل کر نیچے گر گیا، غسانی حکمران اس پر غصے ہو گیا چونکہ وہ ابھی نو مسلم تھا اور فزاری کو زور دار تھپڑ مارا، جس سے اس کی ناک ٹوٹ گئی، فزاری بھاگتے ہوئے اپنی مصیبت کی شکایت لے کر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپؓ نے جبلہ کو بلوایا اور اس سے پوچھا اس نے جو کچھ ہوا تھا اس کا اقرار کیا۔
سیّدنا عمرؓ نے فرمایا: اے جبلہ! تم نے اپنے اس بھائی پر کیوں ظلم کیا اور اس کی ناک کیوں توڑی؟
غسانی نے جواب دیا کہ میں نے تو اس گنوار کے ساتھ بڑی نرمی کی ہے، اگر خانہ کعبہ کی حرمت و تقدس کا لحاظ نہ ہوتا تو میں اس کی آنکھیں نکال دیتا۔
سیدنا عمرؓ نے اس سے فرمایا: تم نے اقرار کر لیا ہے، اب یا تو تم اس آدمی کو راضی کر لو ورنہ میں اس کو تم سے بدلہ دلواؤں گا۔
جبلہ بن ایہم یہ سب دیکھ کر مزید دہشت میں پڑ گیا اور کہنے لگا: یہ کیسے ہو سکتا ہے، وہ ایک عام آدمی اور میں ایک بادشاہ؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسلام نے تم دونوں کو برابر کر دیا ہے۔
غسانی نے کہا: میں نے سوچا تھا کہ جاہلیت کے مقابلہ میں اسلام میں زیادہ معزز ہو کر رہوں گا۔
آپؓ نے فرمایا: یہ سب چھوڑو، اگر تم اس آدمی کو راضی نہیں کر لیتے تو اس کو تم سے بدلہ دلواؤں گا۔
جبلہ نے کہا: تب تو میں نصرانی ہی ہو جاتا ہوں۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر تم نصرانی ہو جاتے ہو تو میں تم کو قتل کروں گا، کیونکہ تم اسلام لا چکے ہو، لہٰذا اگر مرتد ہوئے تو تمہیں قتل ہی کروں گا۔
(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 235)
اب جبلہ کو یقین ہوچکا تھا کہ جھگڑنے سے کوئی فائدہ نہیں اور حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ حیلہ بہانہ کرنا کچھ بھی سود مند نہیں ہے، اس لیے اس نے حضرت عمر فاروقؓ سے مہلت مانگی تاکہ اس معاملہ میں کچھ غور کر لے۔ سیدنا عمرؓ نے اسے جانے اور سوچنے کا موقع دے دیا۔ جبلہ نے غور و فکر کے بعد ایک فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ بھی ایسا جس میں وہ غلطی ہی پر تھا اس نے فیصلہ کیا کہ رات کی تاریکی میں اپنی قوم کے ساتھ مکہ چھوڑ کر قسطنطنیہ بھاگ نکلے۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور (قسطنطنیہ) نصرانی بن کر پہنچا، لیکن بعد میں اپنے اس فیصلہ پر وہ بہت شرم سار ہوا اور اس واقعہ کو بہترین اشعار میں بیان کیا، جسے تاریخ برابر دہراتی اور نقل کرتی ہے۔
اس واقعہ میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شریعت کے مبدأ مساوات کی حفاظت کے کتنے حریص تھے۔ یقیناً اسلام نے حاکم اور رعایا کے درمیان مساوات قائم کی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مساوات کی مثالیں عملی شکل میں زندہ جاوید رہیں نہ کہ زبان، تحریر اور اشعار تک اس کا نعرہ محدود رہے کہ جسے صرف زبانیں گنگناتی رہیں۔
(ابن خلدون: جلد 2 صفحہ 281، بحوالہ نظام الحکم: القاسمی: جلد 1 صفحہ 90 )
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیّدنا عمرؓ نے مساوات کے ان اصولوں کو نافذ کیا جنہیں ربّ العالمین کی شریعت میں ذکر کیا گیا ہے۔ آپؓ نے اس کی زندہ و پائندہ مثالیں قائم کیں جو لوگوں کے ذہنوں میں نقش ہو گئیں، آپؓ شفقت پدری کے آگے نہ جھکے، بھاری بھرکم القاب سے خائف ہو کر اپنے فیصلوں سے نہیں پلٹے اور نہ کسی کی تبدیلی مذہب یا فاتح ملک کی آن بان نے آپؓ کو مرعوب کیا مساوات کا عظیم اصول آپؓ کے نزدیک حقیقی شکل میں موجود اور زندہ تھا، اسے حاکم و محکوم اور ہر مقہور و مظلوم نے محسوس کیا۔ یہی وجہ ہے کہ خلافتِ راشدہ کے مسلم معاشرہ میں مساوات کے اصولوں کی تنفیذ کا بہترین ثمرہ ملا اور احساس مساوات کے اصولوں کی تنفیذ کا بہترین ثمرہ ملا اور احساس مساوات نے اس دور کے لوگوں پر بہت اچھا اثر چھوڑا، انہوں نے اعزاز و برتری، سرداری اور اولیت کے دعوؤں کی زمانے سے چلی آرہی عصبیت کو پھینک دیا اور جاہلیت پر مبنی حسب و نسب کی تفریق کو مٹا دیا۔ کسی بھی اعلیٰ منصب پر فائز آدمی نے ادنیٰ درجہ کے آدمی پر ظلم کرنے کو نہ سوچا، نہ کوئی کمزور اپنا حق پانے سے مایوس رہا۔ حقوق و واجبات میں سب برابر رہے، خلافتِ راشدہ کے مسلم معاشرہ میں مساوات کے اصول نئی روشنی بن کر چمکے جس سے اسلام نے اسلامی معاشرہ کے چپے چپے کو روشن کر دیا، یقیناً صالح معاشرہ کے وجود میں مساوات کے اصولوں کا زبردست اثر تھا۔