فتنہ گوہرشاہی - دورِ حاضر کے فتنے | دفاع اسلام

فتنہ گوہرشاہی

  ثناء اللہ خان احسن

صفحہ 1 از 4
بقول گوہر شاہی نماز، روزہ، حج، زکٰوۃ سے بڑھ کر دل کا اللہ اللہ کرنا ہے۔ مذہب کوئی بھی ہو لیکن اگر دل اللہ اللہ کرتا ہے تو جنت اور بخشش یقینی ہے۔
مہدیت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا گوہرشاہی!
کلمہ میں محمد رسول اللہﷺ کی جگہ اس ظالم نے گوہر شاہی رسول اللہ لکھوایا!
نا محرم عورتوں سے مصافحہ، معانقہ اور جسم دبوانا درست قرار دینے والا!
اپنے چلّے میں مستانی سے ملاقات اور اس کے ساتھ شب باشی کی فحش روئیداد تحریر کرنے والا!
بھنگ اور چرس کو جائز قرار دینے والا!
گوہر شاہی کے تمام مرید گوہر شاہی کے انتقال کو گوہر شاہی کی موت تسلیم نہیں کرتے بلکہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ گوہر شاہی جسم سمیت روپوش ہو گئے، یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح گوہر شاہی بھی اپنا جسم چھوڑ کر غیبتِ صغریٰ میں چلے گئے ہیں اور قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ گوہر شاہی بھی دوبارہ آئیں گے۔
فتنہ گوہر شاہی کی ابتداء:
سن 80 ہجری کی دہائی میں کراچی کے لوگوں نے جگہ جگہ دیواروں پر اور فٹ پاتھوں پر لگے بورڈز پر ایک گول یا تکونی فولادی شیٹ پر انسانی قلب کی تصویر اور اس کے درمیان اسم ذات اللہ جلی حروف میں لکھا ہوا، اور نیچے فقط گوہر شاہی کا نام کندہ دیکھا۔ روحانیت کے متلاشی یا دین سے لگاؤ رکھنے والے افراد اس کی کھوج میں کوٹری، جامشورو پر واقع آستانۂ گوہر شاہی جا پہنچتے۔ جس کی وجہ سے لوگ ان کی جانب متوجہ ہوتے تھے اور ان کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ وہ ہے روحانی علاج معالجہ۔ یعنی جسمانی اور روحانی بیماریوں کا علاج کیا جاتا تھا ان کے تمام مراکز پر۔ جن میں جن اتارنا اور کالے جادو کی کاٹ اور دم درود وغیرہ شامل تھا۔ یہ بالکل ابتداء کی بات ہے چونکہ مقصد نیک دکھائی پڑتا تھا لہٰذا لوگ متوجہ ہوتے تھے اور فیض یاب ہونے والے بڑے بڑے چندے بھی دیتے تھے تنظیم کو، لیکن اس وقت بھی گوہر شاہی خواتین کے حصے میں مسند نشین ہو کر علاج فرماتے تھے۔ ابتداء پکّے اور مضبوط عقیدے والے تو چند بار کے بعد لاحول بھیج کر تائب ہو جاتے لیکن مقام صد حیرت ہے کہ جانے کیسے مسلمان لوگ اس جیسے ملعون پر بھی ایمان لا کر اس کے اندھے پیروکار بن جاتے ہیں۔ نہ صرف معتقد بنتے ہیں بلکہ اس کی موت کے بعد بھی اس کے شیطانی عقائد کا پرچار کرتے ہیں۔
جن لوگوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور امتِ مسلمہ کو گمراہ کرنے کے لیے مہدی ہونے کے جھوٹے دعوے کیے، ان کی خاصی تعداد ہے، جن میں سے چند ایک یہ ہیں، ایران کے محمد علی باب اور بہاء اللہ شیرازی، جنہوں نے بہائی مذہب کی بنیاد ڈالی اور ان کے پیروکار دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہیں، اور امریکہ کے ماسٹر فادر محمد اور عالیجاہ محمد، جن کا مذہب نیشن آف اسلام موجودہ پیشوا لوئیس فرحان کی قیادت میں پھیل رہا ہے، اسی طرح پاکستان کے علاقہ مکران میں ذکری مذہب سیکڑوں سال سے چلا آ رہا ہے، جس کا آغاز ملا محمد اٹکی نے مہدی کے دعویٰ سے کیا تھا، اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کے دعواؤں میں ایک دعویٰ مہدی ہونے کا بھی تھا۔ انھیں جھوٹے دعویداروں میں ایک نام ریاض احمد گوہر شاہی کا بھی ہے۔
ابتدائی زندگی:
اس کا نام ریاض احمد ہے، والد کا نام فضل حسین مغل تھا جو کہ ایک سرکاری ملازم تھے۔ گوہر شاہی دادا کی طرف نسبت ہے جن کا نام گوہر علی شاہ تھا جو کہ سری نگر کے رہائشی تھے، وہاں ان سے ایک قتل سرزد ہوا، پکڑے جانے کے ڈر سے راولپنڈی آ گئے اور نالہ لئی کے پاس رہائش پذیر رہے۔ جب انگریز پولیس کا ڈر زیادہ ہوا تو فقیری کا روپ دھار کر تحصیل گوجر خان کے ایک جنگل میں ڈیرہ لگایا، جہاں کافی لوگ ان کے مرید ہو گئے اور جنگل کو نذرانے میں پیش کر دیا۔ یہی جنگل ڈھوک گوہر علی شاہ کے نام سے آباد ہوا اور یہیں ریاض احمد گوہر شاہی 25 نومبر 1941 عیسوی کو پیدا ہوا۔
تعلیم:
اپنے گاؤں میں ہی مڈل پاس کیا اور پھر پرائیویٹ طور پر میٹرک کیا، اس کے بعد ویلڈنگ اور موٹر مکینک کا کام سیکھ کر اس کی دوکان کھولی، مگر اس میں کوئی نفع حاصل نہ ہوا۔ حصولِ روزگار کے لیے پریشانی ہوئی تو اس نے سوچا کہ دادا والا کام دھندہ یعنی پیری مریدی شروع کر دی جائے۔ اس کے لیے ابتداء خانقاہ کے چکر لگائے، خود لکھتا ہے، کئی سال سیہون کے پہاڑوں اور لال باغ میں چلّے اور مجاہدے کیے مگر گوہرِ مراد حاصل نہ ہوا اور پھر بری امام اور داتا دربار بھی رہا، مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
مزید لکھتا ہے، اس کے بعد طبیعت بگڑ گئی۔ بیس سال کی عمر سے تیس سال تک ایک گدھے کا اثر رہا، نماز وغیرہ ختم ہو گئی، جمعہ کی نماز بھی ادا نہ ہو سکی۔ زندگی سینماؤں اور تھیٹروں میں گزرتی۔ حصولِ دولت کے لیے حلال و حرام کی تمیز جاتی رہی۔ بے ایمانی، جھوٹ اور فراڈ شکار بن گیا۔
(روحانی سفر صفحہ: صفحہ، 13/14)
پھر ایک مرتبہ عزم مضبوط کر کے سندھ کے پسماندہ علاقے جام شورو میں جھونپڑی ڈال کر پیری مریدی شروع کر دی، کچھ کمزور عقیدہ لوگوں کی آمد شروع ہو گئی، لیکن قریبی یونیورسٹی کے پرنسپل نے سارا منصوبہ خاک میں ملا دیا اور جھونپڑی اُکھاڑنے کا حکم دیا، ہم نے چپ چاپ اکھاڑ لی۔
(روحانی سفر: صفحہ، 8/9)
صفحہ 1 از 4