ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہما
علی محمد الصلابیسیدہ ام حبیبہ رملہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، آپ نام سے زیادہ کنیت کے ساتھ مشہور ہیں۔ ان کی والدہ کا نام صفیہ بنت ابوالعاص بن امیہ ہے۔ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی ولادت سترہ سال قبل از نبوت ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ان کی شادی عبیداللہ بن جحش سے ہوئی تھی۔ قریش کے مظالم سے تنگ آ کر یہ دونوں حبشہ کو ہجرت کر گئے وہیں ان کے ہاں حبیبہ کی پیدائش ہوئی اور اسی بیٹی کے نام پر ان کی کنیت ام حبیبہ قرار پائی۔ قیام حبشہ کے دوران ان کا خاوند مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد وہیں فوت ہو گیا۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اس حالت میں بھی اسلام پر سختی کے ساتھ قائم رہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں عبیداللہ کے بدلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا شوہر عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح حبشہ کے حکمران نجاشی نے پڑھایا۔ سیدہ ام حبیبہؓ نسب کے اعتبار سے دیگر تمام ازواج مطہرات کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ قریب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مہر بھی انہوں نے پایا۔
( طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 96 تا 100)
امام ذہبیؒ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں رقمطراز ہیں: ان کا شمار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاؤں کی بیٹیوں میں ہوتا ہے۔ ازواج مطہرات میں سے نسبی اعتبار سے کوئی بھی دوسری خاتون آپ کے قریب نہیں تھی اور نہ کسی دوسری زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے زیادہ مہر ادا کیا گیا۔ نکاح کے وقت وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت دور سرزمین حبشہ میں تھیں۔ شاہ حبشہ نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے انہیں چار صد دینار مہر کے طور پر ادا کیے اور انہیں بہ طور ہدیہ اپنی طرف سے کئی اشیاء دیں۔
( سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 219۔)
کتب حدیث اور کتب سیر میں ان کے بعض مناقب بھی وارد ہوئے ہیں جو ان کی عظمت، شان اور بلند تر مقام و مرتبہ پر دلالت کرتے ہیں، ان میں سے چند حسب ذیل ہیں:
الف: انہوں نے فی سبیل اللہ دو دفعہ ہجرت کی، پہلی دفعہ مشرکین مکہ سے اپنا دین بچانے کے لیے حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ منورہ کی طرف۔ امام حاکم اپنی سند سے ان کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے خواب میں اپنے خاوند عبیداللہ بن جحش کو بڑی بری حالت میں دیکھا جس سے میں بہت زیادہ پریشان ہوئی اور کہنے لگی: و اللہ! اس کی تو حالت ہی بدل گئی ہے۔ پھر جب صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا: ام حبیبہ! میں نے تمام ادیان دیکھ لیے، مجھے تو نصرانیت سے بہتر کوئی دین نظر نہیں آیا۔ میں پہلے اسی دین کا پیروکار تھا، پھر میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اختیار کر لیا، اب میں دوبارہ نصرانیت اختیار کر رہا ہوں۔ میں نے کہا: و اللہ! یہ تیرے لیے بہتر نہیں ہے اور پھر میں نے اسے اپنے خواب کے بارے میں آگاہ کیا۔ مگر اس نے اسے کوئی اہمیت نہ دی۔ وہ بکثرت شراب نوشی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اسے موت نے آ لیا۔ پھر میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے کوئی ام المؤمنین کہہ کر پکار رہا ہے، میں یہ سن کر پریشان سی ہو گئی اور اس خواب کی یہ تعبیر کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے شادی کریں گے۔ ابھی میں عدت کے ایام گزار کر فارغ ہی ہوئی تھی کہ نجاشی کی لونڈی میرے پاس آ کر کہنے لگی: آپ کے نام بادشاہ کا پیغام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خط لکھا ہے کہ میں تمہارا نکاح ان کے ساتھ کرا دوں، آپؓ کو مبارک ہو۔ بادشاہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ آپ کسی آدمی کو اپنا وکیل مقرر کر دیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارا نکاح کرا دے۔ میں نے خالد بن سعید بن العاص کو پیغام بھیج کر انہیں اپنا وکیل مقرر کر دیا۔
(المستدرک: کتاب معرفۃ الصحابۃ: جلد 4 صفحہ 20، 21 )
اس روایت سے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی بڑی فضیلت و منقبت ثابت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ آپ ہجرت حبشہ سے مشرف ہوئیں اور نامساعد حالات میں بھی اسلام اور ہجرت پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
(العقیدہ فی اہل البیت: صفحہ 113)
ب: ان کے فضائل و مناقب میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ان کے باپ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ آنے پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو انہوں نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور یہ اس لیے کہ اس وقت وہ مسلمان نہ ہوئی تھے۔ انہوں نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔
(العقیدہ فی اہل البیت: صفحہ 113)
محمد بن مسلم زہری سے مروی ہے کہ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ان دنوں آپ غزوہ مکہ کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح حدیبیہ کی مدت میں اضافہ کرنے کی درخواست کی مگر آپ نے اسے مسترد فرما دیا، پھر وہ یہاں سے اٹھا اور اپنی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا۔ جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر لپیٹ دیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہنے لگا: بیٹی! تو نے یہ قدم میرے احترام میں اٹھایا یا بستر کے احترام میں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہے اور تم مشرک و پلید ہو۔ یہ سن کر ابوسفیان رضی اللہ عنہ کہنے لگا: بیٹی! میرے بغیر تجھے برائی نے آ لیا ہے۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 223، الطبقات الکبری: جلد 8 صفحہ صفحہ 99، 100)
ج: ابن سعد اور حاکم، عوف بن مالک رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرما رہی تھیں: نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے موت کے وقت مجھے اپنے پاس بلایا اور پھر کہنے لگیں: ہو سکتا ہے کہ ہمارے درمیان سوتنوں جیسی کوئی بات ہو گئی ہو، اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے بھی معاف فرمائے اور آپ کو بھی۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہاری اس قسم کی تمام باتیں معاف فرمائے۔ اس پر وہ کہنے لگیں: تم نے مجھے خوش کیا اللہ تمہیں خوش فرمائے۔ پھر انہوں نے ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیج کر انہیں بلایا اور پھر ان سے بھی یہی درخواست کی۔ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے 44ھ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ایام میں وفات پائی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 223)