فصل:....تعظیم ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر رافضی غیض و غضب…

فصل:....تعظیم ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر رافضی غیض و غضب

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 3

فصل:....تعظیم ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر رافضی غیض و غضب

[حضرت عائشہ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما کے متعلق رافضی کی ژاژہ خوئی]

[اعتراض]: شیعہ مصنف کا یہ قول:’’ اہل سنت باقی ازواج مطہرات پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظمت و فضیلت کے قائل ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یاد فرمایا کرتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بھی اس کو اس کثرت سے کیا یاد کرتے ہیں ؛حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے بہتر بدل عطا فرمایا۔ تو آپ نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم ! اس سے بہتر بدل مجھے نہیں مل سکا۔اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا۔اور جب لوگوں نے مجھے جھڑک دیا ؛ تو اس نے مجھے اس وقت ٹھکانہ اور پناہ دی۔اس نے اپنے مال کیساتھ میری مدد کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے مجھے اولاد عطا فرمائی۔جب کہ کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ ‘‘ 

[جواب]: ہم کہتے ہیں : اہل سنت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سب ازواج سے افضل ہونے کی بابت متحد الخیال نہیں ہیں ؛ہاں اکثر لوگوں کا یہی خیال ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی افضلیت کے قائلین وہ حدیث نبوی پیش کرتے ہیں جسے امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابو موسی اور انس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا:

’’عائشہ باقی عورتوں پر اسی طرح فضیلت رکھتی ہیں جیسے ثرید باقی کھانوں سے افضل ہے۔‘‘[صحیح بخاری، کتاب فضائل أصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔ باب فضل عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا ۔ (ح: ۳۷۶۹،۳۷۷۰)،صحیح مسلم ۔ کتاب فضائل الصحابۃ باب فی فضائل عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا (ح:۲۴۴۶)۔] ثریدمیں گوشت میں بھگوئی ہوئی روٹی ہونے کی وجہ سے باقی کھانوں سے افضل ہے۔

گندم کی روٹی بہترین کھانا ہے ‘ اور گوشت بہترین سالن ہے۔ جیسا کہ ابن قتیبہ کی روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’ دنیا والوں کے لیے تمام سالنوں کا سردار گوشت ہے ۔‘‘[سنن ابن ماجۃ ۲؍۱۰۹۹؛کتاب الأطعمۃ ؛ باب اللحم ؛ عن ابي درداء؛ ضعیف؛ قال الألباني : ضعیف جداً ’’ ضعیف الجامع الصغیر ۳ ؍۲۳۰۔وضعف العجلوني في کشف الخفاء ۱؍۴۶۱۔ ]

جب گوشت ہر قسم کے سالن کا سردار ہے‘ اور گندم کی روٹی تمام غذاؤں کی سردار ہے ‘ تو ان دونوں کا مجموعہ ثرید ہے ؛ جو کہ تمام کھانوں کا سردار ہے۔اس لیے ثرید تمام کھانوں سے افضل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ احادیث کئی اسناد سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’عائشہ باقی عورتوں پر اسی طرح فضیلت رکھتی ہیں جیسے ثریدباقی کھانوں سے افضل ہے۔‘‘

صحیح بخاری میں ہے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا :

’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ازواج مطہرات میں سے آپ کو کون عزیز تر ہے؟ آپ نے جواباً فرمایا: ’’عائشہ رضی اللہ عنہا ۔‘‘ میں نے عرض کیا اور مردوں میں سے آپ کس کے ساتھ زیادہ محبت رکھتے ہیں ؟ فرمایا: ’’ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔‘‘

میں نے عرض کیا ان کے بعد اور کس سے ؟ فرمایا:’’ عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔‘‘ اس کے بعد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ دریافت کرتے چلے گئے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درجہ بدرجہ متعدد صحابہ کا ذکر کیا۔[صحیح بخاری۔ باب غزوۃ ذات السلاسل،(ح:۴۳۵۸) صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ۔ باب من فضائل ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہ (ح:۲۳۸۴)۔ ]

شیعہ جو کہتے ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شان میں فرمایا ہے کہ:

((مَا اَبْدَلَنِیَ اللّٰہُ خَیْرًا مِّنْہَا۔)) [مسند احمد(۶؍۱۱۷۔۱۱۸)۔]

’’ اللہ تعالیٰ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے عوض مجھے ان سے بہتر بیوی عطا نہیں کی۔‘‘

اگر اس کی سند کی صحت ثابت بھی ہوجائے توسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی افضلیت کاعقیدہ رکھنے والے بشرط صحت اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ آغاز اسلام میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ذریعہ آپ کو جو فائدہ پہنچا تھا وہ نفع کسی اور سے حاصل نہیں ہوا۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے افضل ہونے کا پہلو گویا یہ امر ہے کہ آپ نے آڑے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی۔ اس کے عین بر خلاف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رفاقت نبوی کی سعادت اس آخری وقت میں حاصل ہوئی جب نبوت پایہ تکمیل کو پہنچ چکی تھی اور دین حق تکمیل کے آخری مدارج طے کر رہا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو کمالِ علم وایمان کی وہ دولت نصیب ہوئی جو آغاز اسلام والوں کے حصہ میں نہیں آئی تھی۔ اس اعتبار سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے افضل ٹھہریں ۔

امت ِ محمدی بڑی حد تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم و فضل سے متمتع ہوئی اور آپ نے علم و عمل دونوں سے حظ وافر پایا۔

صفحہ 1 از 3