بنوہاشم
علی محمد الصلابیقریش کے قبیلہ میں بنوہاشم کی حیثیت ایک گل سرسبز کی تھی، تاریخ کی کتب میں ان کے بارے میں کتب تاریخ نے جو اقوال و کارنامے اور مواد محفوظ کیے ہیں وہ حقیقت کے مقابلہ میں بہت کم ہیں، لیکن جو کچھ ملتا ہے اسی کو سامنے رکھا جائے تو اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ قریش کی یہ شاخ اپنے انسانی شعور اور اعتدال پسندی میں امتیازی شان رکھتی تھی، دینی و دماغی طور سے اس کو کسی قدر فوقیت حاصل تھی، بیت اللہ (خانہ کعبہ) کا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں مقام و مرتبہ تھا اس پر پختہ ایمان رکھتی تھی، ظلم و زیادتی کو گناہ سمجھنے کا شعور ختم نہیں ہوا تھا، ہٹ دھرمی اور ضد اس کا شعار نہیں تھا، ہمت بلند تھی، کمزوروں اور ضعیفوں پر رحم و شفقت کا برتاؤ کرتی، سخاوت و شجاعت اس کا مزاج تھا، غرض اخلاق و شرافت، سیر چشمی، حمیت اور جوشِ عمل کی وہ خصوصیات جن کے لیے عربی میں ایک جامع لفظ ’’فروسیت‘‘ کا ہے بنوہاشم میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔
ان کے اخلاق و کردار رسول اللہﷺ کے آباء و اجداد کے شایان شان تھے اور اسلام نے جن اخلاق عالیہ کی دعوت دی ہے ان سے ان کے اخلاق مناسبت رکھتے تھے، البتہ یہ ضرور ہے کہ ایک زمانہ سے وہ اپنی قوم و ہم وطن قبائل کے عقائد جاہلیت اور غیر اللہ کی عبادت میں ان کے شریک ہوگئے تھے۔
(بلوغ الأرب فی معرفۃ أحوال العرب، الآلوسی: جلد،1 صفحہ 243)
ان کو یہ مقام ان کی عظیم قربانیوں اور جود و سخا، نیز انسانی خدمت کے صلہ میں ملا تھا۔