شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور اس بارے صحابہ کرام رضی اللہ…

شہادت عثمان رضی اللہ عنہ اور اس بارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

باغیوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ بڑا سخت کر دیا یہاں تک کہ انہیں مسجد نبویﷺ میں نماز پڑھنے سے بھی روک دیا گیا مگر اس دوران جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا انہوں نے بڑے صبر اور حوصلہ مندی کا مظاہرہ کیا۔ آپ قضاء و قدر پر بڑا پختہ ایمان رکھنے کے ساتھ اس امر کے لیے کوشش کرتے رہے کہ اس مصیبت کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے۔ اس کے لیے آپ کبھی تو مسلمان کے خون کی حرمت کے بارے لوگوں کو خطبہ دیتے نظر آتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ کسی بھی مسلمان کا ناحق خون کرنا جائز نہیں ہے۔ کبھی لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے انہیں اپنے فضائل و مناقب سے آگاہ کرتے اور اسلام میں اپنی خدمات جلیلہ سے آشنا کراتے ہیں اور اس کے لیے عشرہ مبشرہ کے فضائل سے استشہاد کرتے ہیں۔

(اثر العلماء فی الحیاۃ السیاسیۃ: صفحہ 76)

گویا کہ آپ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بیان کردہ ان فضائل و مناقب اور اسلام کے لیے میری ان گراں قدر خدمات کے باوجود میرے لیے یہ ممکن ہے کہ میں دنیا کا طمع کرتے ہوئے اسے آخرت پر ترجیح دوں گا اور کیا یہ بات معقول ہے کہ ایسا شخص امانت میں خیانت کرے گا، امت کے اموال کو من مانے انداز میں لٹائے گا اور اس کے خون کا مذاق اڑائے گا؟ جبکہ وہ اللہ کے ہاں اس کے انجام سے بھی بخوبی آگاہ ہو؟ اور وہ وہی ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست تربیت حاصل کی، آپ نے اس کی پاکیزگی کی گواہی دی؟ جس شخص کا جوانی میں یہ کردار رہا ہو بھلا وہ اسی سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ اس قسم کا معاملہ کر سکتا ہے؟

مدینہ منورہ پر سرکشوں کی گرفت اور مضبوط ہو گئی یہاں تک کہ وہ لوگوں کو نمازیں بھی خود ہی پڑھانے لگ گئے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 515)

جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ ادراک ہوا کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح اس کا تاثر دیا گیا اور وہ صورت حال کے برے انجام سے ڈرے اور انہیں یہ خبر ملی کہ باغی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے درپے ہیں، تو انہوں نے آپ کو ان کا دفاع کرنے اور شورش پسندوں کو مدینہ منورہ سے باہر نکال دینے کی پیش کش کی، مگر آپ نے اس خدشہ کے پیش نظر ان کی اس پیش کش کو رد کر دیا کہ اس سے خونریزی ہو گی۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 167، صحیح الاسناد)

کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیے بغیر اپنے بیٹوں کو ان کے پاس بھیجا جن میں حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بڑی محبت کرتے اور ان کا احترام کیا کرتے تھے، جب ان کا محاصرہ کر لیا گیا تو انہوں نے حسن رضی اللہ عنہ کو قسم دی کہ وہ اپنے گھر لوٹ جاؤ تاکہ انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

(تاریخ المدینۃ از ابن شبہ: جلد 4 صفحہ 1208)

انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرے بھتیجے! واپس لوٹ جائیں یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے۔

(الریاض النضرۃ بحوالہ الحسن بن علی و دورہ السیاسی: صفحہ 46)

صحیح روایات سے ثابت ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو محاصرہ کے دن بیت خلافت سے زخمی حالت میں اٹھایا گیا تھا۔

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 128، حسن سند کے ساتھ)

ان کے علاوہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، محمد بن حاطب رضی اللہ عنہما اور مروان بن حکمؓ کو بھی زخم آئے۔ اس دوران سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ تھے۔

(تاریخ الخلیفۃ: صفحہ 174)

محاصرہ کے دوران سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا سب لوگوں سے زیادہ دفاع سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کیا جس کے گواہ مروان بن حکمؓ ہیں۔

(تاریخ الاسلام: صفحہ 460، 461 اس کی سند قوی ہے۔)

اسی طرح ابن عساکر جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میرے پاس پانچ سو زرہ پوش لوگ موجود ہیں، آپ اجازت دیں تو میں ان لوگوں سے آپؓ کا دفاع کروں۔ اس لیے کہ آپ نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے آپ کو قتل کرنا جائز ہو۔ اس کے جواب میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کسی کا خون ہو۔

(تاریخ دمشق: صفحہ 403)

متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے محاصرہ کے دوران سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ مثلاً: جب شورش پسندوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا پانی بند کر دیا اور سیدنا عثمان غنیؓ کے اہل خانہ پیاس کی شدت کی وجہ سے قریب الموت ہو گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس پانی سے بھری ہوئی تین مشکیں بھجوائیں مگر وہ ان تک نہ پہنچ پاتیں اگر اس کے لیے بنوہاشم اور بنوامیہ کے متعدد آزاد کردہ غلام زخمی نہ ہوتے۔ واقعات برق رفتاری سے آگے بڑھتے گئے اور آخر کار شرپسند عناصر اور باغی لوگوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کر ڈالا۔ جب یہ خبر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ملی جن کے زیادہ تر لوگ مسجد میں موجود تھے تو وہ وحشت زدہ ہو گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں اور بھتیجوں سے پوچھا: جب تم دروازے پر موجود تھے تو پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کیسے شہید کر دیا گیا؟ اس دوران انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو تھپڑ بھی مارا جب کہ وہ پہلے ہی زخمی تھے۔

(ابن ابی عاصم الآجاد و الثمانی: جلد 1 صفحہ 125، بحوالہ خلافۃ علی: صفحہ 87)

انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سینہ پر ضرب لگائی اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور اور ابن طلحہ رضی اللہ عنہما کو برا بھلا کہا۔ پھر وہ ناراضی کے ساتھ یہ کہتے ہوئے اپنے گھر چلے گئے: تم ہمیشہ کے لیے برباد رہو۔ میرے اللہ میں تیرے سامنے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہوں۔ میں نے نہ تو انہیں قتل کیا اور نہ کسی کو ہی اس کا اشارہ کیا۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 209، اس کی سند صحیح ہے)

صفحہ 1 از 3