اثنائے محاصرہ میں سیدنا علی و حسن رضی اللہ عنہما کا مؤقف -…

اثنائے محاصرہ میں سیدنا علی و حسن رضی اللہ عنہما کا مؤقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ سخت کردیا گیا تا آنکہ نماز کے لیے مسجد میں جانے سے روک دیا گیا، حکم نبوی کے مطابق آپ اس مصیبت پر صبر کرتے رہے، قضا و قدر پر ایمان رکھتے ہوئے اس مصیبت کا حل تلاش کرتے رہے، چنانچہ کبھی آپ لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے خونِ مسلم کی حرمت کو واضح کرتے اور یہ بتاتے کہ بغیر کسی شرعی سبب کے اس کا بہانا حلال نہیں ہے، کبھی لوگوں سے گفتگو کرتے، اپنے فضائل اور اسلام کے لیے اپنی جلیل القدر خدمات کا ذکر کرتے اور اس پر عشرۂ مبشرہ رضی اللہ عنہم میں سے بچے ہوئے لوگوں کو گواہ بناتے۔

(خلافۃ علی بن أبي طالب: عبدالحمید علی: صفحہ 85)

گویا آپ یہ کہتے کہ جس کے فضائل اور اعمال یہ ہوں کیا ممکن ہے کہ وہ دنیا کا لالچی ہو اور اسے آخرت پر ترجیح دے؟ کیا یہ بات معقول ہوسکتی ہے کہ وہ امانت میں خیانت کرے، امت کے جان و مال سے کھلواڑ کرے جب کہ وہ عنداللہ اس کے انجام سے واقف ہو؟ آپ کی تربیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ ریکھ میں ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ اور آپ جیسے افاضل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تزکیہ کیا تھا، جب آپ کی عمر ستر (70) سال سے تجاوز کرکے اسّی (80) کے قریب پہنچ چکی تھی تو کیا آپ کا معاملہ ایسا ہوسکتا ہے؟

مدینہ پر باغیوں کا تسلط سخت ہوچکا تھا، تاآنکہ اکثر اوقات وہی لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ اندازہ ہوگیا کہ معاملہ ان کی سوچ سے ہٹ کر ہے اور انھیں خوف لاحق ہوگیا کہ ایسا حادثہ رونما ہوسکتا ہے جس کا انجام اچھا نہ ہو اور انھیں یہ خبر پہنچی کہ لوگ آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو انھوں نے آپ کو اپنے دفاع کا اور مدینہ سے شورش پسندوں کو نکال دینے کا مشورہ دیا، لیکن اس خوف سے کہ آپ کے سبب کوئی خون بہے آپ نے یہ مشورہ قبول نہ کیا۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 515)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیے بغیر کبار صحابہ نے اپنے بچوں کو بھیج دیا، ان میں سیدنا حسن بن علی اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بہت محبت کرتے اور ان کی عزت کرتے تھے، جب فتنے کی ابتداء ہوچکی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کرلیا گیا تو آپ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہوئے گھر لوٹ جانے کو کہا تاکہ آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 167، المسند: جلد 1 صفحہ 396، احمد شاکر)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: اے میرے اسلامی بھائی کے بیٹے لوٹ جاؤ تا آنکہ منجانب اللہ جو ہونا ہو وہ ہو جائے۔

(تاریخ المدینۃ لابن شیبۃ: جلد 4 صفحہ 1208)

صحیح روایتوں میں ہے کہ جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں شہید کیا گیا اس دن اس گھر سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زخمی حالت میں لے جایا گیا۔

(الریاض النضرۃ نقلاً عن الحسن بن علی و دورہ السیاسی: صفحہ 46)

اسی طرح حسن رضی اللہ عنہ کے علاوہ عبداللہ بن زبیر، محمد بن حاطب، مروان بن حکم رضی اللہ عنہم بھی زخمی ہوئے، ان کے ساتھ سیدنا حسین بن علی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم تھے۔

(الطبقات لابن سعد: جلد 8 صفحہ 128، اس کی سند صحیح ہے۔)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب سے سب سے زیادہ دفاع کرنے والوں میں سے تھے، مروان بن حکمؓ نے اس کی شہادت دی ہے۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 174)

ابن عساکرؒ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو نقل کیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کہلا بھیجا: میرے پاس پانچ سو زرہ پوش ہیں، آپ مجھے اجازت دیں میں لوگوں سے آپ کو بچاؤں گا، سیدنا عثمانؓ نے کوئی ایسا کام انجام نہیں دیا ہے جس سے آپ کا خون حلال ہو جائے، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ آپ کا بھلا کرے، مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے سبب کوئی خون بہے۔

(تاریخ الاسلام للذہبی: صفحہ 460، 461، اس کی سند قوی ہے۔)

متعدد روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اثنائے محاصرہ میں آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ متعاون رہے، انھی روایتوں میں سے یہ ہے کہ باغی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تک پانی نہیں پہنچنے دیتے تھے، قریب تھا کہ آپ کے اہل و عیال پیاس سے مر جائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس تین مشکیزے پانی بھیجا جو بہ مشکل آپ تک پہنچا، اس کے پہنچانے میں بنوہاشم اور بنوامیہ کے چند غلام زخمی ہوگئے۔

(تاریخ دمشق: صفحہ 403)

حالات تیزی سے بدلتے رہے، شورش کرنے والے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر چڑھ دوڑے اور آپ کو قتل کردیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب کہ ان کی اکثریت مسجد میں تھی یہ جان کاہ خبر پہنچی تو ان کے ہوش ٹھکانے نہ رہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں اور بھتیجوں سے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کیسے قتل کردیے گئے جب کہ تم دروازے پر تھے؟ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو تھپڑ رسید کیا جب کہ وہ زخمی تھے، 

(أنسباب الأشراف للبلاذری: جلد 5 صفحہ 76)

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو سینے پر مارا، ابن زبیر و ابن طلحہ رضی اللہ عنہما کو سخت سست کہا اور ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے اپنے گھر چلے گئے:

(الآحاد و الثمانی لابن أبی عاصم: جلد 1 صفحہ 125، نقلا عن خلافۃ علی: صفحہ 87)

تَبًّا لَکُمْ سَائِرَ الدَّہْرِ، اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَبْرَأُ إِلَیْکُمْ مِنْ دَمِہٖ أَنْ یَکُوْنَ قَتَلْتُ أَوْ مَا لَأَتُ عَلَی قَتْلِہِ

(مصنف ابن أبی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 209، اس کی سند صحیح ہے۔)

’’تمھاری مسلسل بربادی ہو، اے اللہ! میں تیرے حضور ان کے خون سے برأت کا اظہار کرتا ہوں، نہ تو میں نے قتل کیا ہے اور نہ ہی ان کے قتل میں تعاون کیا ہے۔‘‘

صفحہ 1 از 3