سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خالائیں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خالائیں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خالائیں زینب، رقیہ، ام کلثوم رضی اللہ عنہن ہیں۔

1۔ سیدہ زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 

سیدنا حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کی سب سے بڑی خالہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہیں، مشرف بہ اسلام ہوئیں، ہجرت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچیوں میں سے ان کی شادی سب سے پہلے ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، ابوالعاص بن ربیعؓ، مال تجارت اور امانت میں مکہ کے گنے چنے لوگوں میں سے تھے، وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے، ان کی والدہ سیدہ خدیجہ کی سگی بہن ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں، سیدہ خدیجہؓ نے نزول وحی سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان کی شادی (زینب سے) کردیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات مانتے تھے چنانچہ آپﷺ نے ان کی شادی کردی، سیدہ خدیجہؓ ان کو اپنے بچے کی طرح مانتی تھیں، جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کیا تو سیدہ خدیجہؓ اور ان کی بچیاں مشرف بہ اسلام ہوگئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سامنے اللہ کا حکم پیش کیا تو وہ سب ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے کہا: تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو غموں سے چھٹکارا دے رکھا ہے، ان کی بچیوں کو واپس کرکے انھیں ان کے سلسلے میں مشغول کردو۔ ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو، ہم تمھاری قریش کی جس عورت سے چاہو گے شادی کردیں گے، جواباً انھوں نے کہا: اللہ کی قسم میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دوں گا، مجھے ان کے بدلے قریش کی کوئی عورت پسند نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داماد کی تعریف کرتے تھے۔

(سیرۃ ابن ہشام: جلد 2 صفحہ 296)

ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ سر زمین شام کی جانب ان کے تجارتی سفر میں انھیں سیدہ زینب کی یاد آئی تو انھوں نے کہا: 

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 32، مستدرک الحاکم: جلد 4 صفحہ 44)۔

ذکرت زینب لما ورکت إرما

فقلت، سقیا لشخص یسکن الحرما

’’جب میں منزل کا پتہ دینے والے پتھروں پر لیٹا تو مجھے زینب کی یاد آئی اور میں نے کہا: حرم میں رہنے والی۔‘‘

بنت الأمین جزاہا اللّٰه صالحۃ

و کل بعل سیثني بالذي علما

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 31)

’’امین وحی کی نیک بچی کو اللہ سیراب کرے، انھیں جزائے خیر دے، ہر شوہر وہی تعریف کرتا ہے جسے وہ جانتا ہے۔‘‘

ا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی اپنے شوہر سے وفاداری 

جس طرح ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ اپنی بیوی سیدہ زینب کے وفادار تھے، وہ بھی ایسے ہی تھیں، ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اسلام لانے سے انکار کردیا وہ اسلام لانے کے باوجود اپنے شوہر ہی کے ساتھ رہیں، جب معرکۂ بدر پیش آیا تو ابوالعاص رضی اللہ عنہ کفار قریش کے ساتھ لڑنے گئے، قیدیوں کے ساتھ قید کرلیے گئے۔ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیہ میں مال بھیجا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بھی ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے فدیہ میں مال بھیجا، جس میں ان کا وہ ہار تھا جسے سیدہ خدیجہ نے انھیں دے کر ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی کے موقع پر رخصت کیا تھا۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آبدیدہ ہوگئے اور مسلمانوں سے کہا:

إِنْ رَأَیْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوْا لَہَا أَسِیْرَہَا وَتَرُدُّوْا عَلَیْہَا مَا لَہَا فَافْعَلُوْا۔

’’اگر تمھاری رائے ہو کہ تم ان کے قیدی کو آزاد کردو اور ان کا مال واپس کردو تو ایسا کرو۔‘‘

تو لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے اے اللہ کے رسول! لوگوں نے انھیں آزاد کردیا اور ان کا مال واپس کردیا۔

(سیر اعلام النبلاء: 472)

ہمارے لیے مناسب ہے کہ ہم ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کے مفہوم پر غور کریں، اس کی بہترین عبارت اور معیاری ادب کو دیکھیں تاکہ ہم اسے اپنی زندگی میں اپنا سکیں۔

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا مکہ میں بے دست و پا عورتوں میں سے تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر سے خفیہ عہد لے لیا تھا کہ وہ سیدہ زینب کو ان کے پاس جانے دیں گے، چنانچہ انھوں نے اس عہد کو پورا کرتے ہوئے زینب کو جانے دیا، وہ مدینہ کے راستے میں سخت آزمائش سے دوچار ہوئیں۔

(تاریخ الإسلام للذہبی: المغازی: صفحہ 69)

ب: سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے شوہر کا اسلام اور ان کی امانت داری 

صفحہ 1 از 3