خلافت خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کا قرآن سے ثبوت - ردِ…

خلافت خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کا قرآن سے ثبوت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 4

خلافتِ خلفائے ثلاثہ کا قرآن سے ثبوت

فاتح اعظم مولانا اللہ یار خانؒ  کی معرکۃ آلاراء تقریر

مؤرخہ 24، 25 مارچ سن 1957ء کو دو میل اور تھٹہ ضلع کمیل پور میں عظیم الشان اجلاس منعقد ہوئے۔ جن میں مولانا عبد القیوم شاه صاحب (رحمۃاللہ) اور حضرت فاتح اعظم مولانا اللہ یار خان صاحب (رحمۃاللہ) نے شرکت فرمائی۔ 24 مارچ سن 1957ء کو دو میل میں فاتحِ اعظم مولانا اللہ یارخان صاحب (رحمۃاللہ) نے خلافت کے موضوع پر تقریر فرمائی جس میں خلافتِ خلفائے ثلاثہؓ پر قرآن و حدیث سے زبردست دلائل پیش فرمائے۔ آپ رحمۃاللہ نے اپنی تقریر کا آغاز آیت استخلاف کی تلاوت سے فرمایا:

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَـيَسۡتَخۡلِفَـنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَـيُبَدِّلَــنَّهُمۡ مِّنۡ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ (سورۃ النور: آیت 55)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور اعمال نیک کئے ہیں ضرور بالضرور ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا اور ضرور بالضرور ان خلفاء کے لئے دین کو مضبوط کرے گا جس دین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے اور یقیناً ان کے لئے خوف کے بعد امن بدل دے گا۔

آپ رحمۃاللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حاضرین سے (جو نزولِ آیت سے پہلے ایمان لاچکے تھے) تین نعمتوں کا وعدہ فرمایا ہے۔

پہلی استخلاف فی الارض۔

دوسری تمکینِ دین۔

تیسری امن بعد از خوف۔

آیت کے لفظ مِنۡكُمۡ میں كُمۡ کی ضمیر حاضرین کے لیے مخصوص ہے اس لیے اس آیت کا مصداق وہ لوگ نہیں بن سکتے جو وقت نزولِ آیت پیدا ہی نہیں ہوئے تھے اور وہ لوگ بھی خارج ہو گئے جو اس وقت تک مشرف بااسلام نہیں ہوئے تھے۔ اگر آیت میں غائبین کو شامل کرنا مقصود ہوتا تو اتنا ہی فرما دیتے کہ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ! مِنۡكُمۡ فرمانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ لہٰذا حضرت مہدی علیہ الرضوان اس آیت کا مصداق نہیں بن سکتے کیونکہ وہ حاضرین میں موجود نہیں تھے اور سیدنا علیؓ بھی اس آیت کے مصداق نہیں ٹھہرائے جا سکتے کیونکہ ان کو امن نہیں ملا تھا۔ حضرات اہلِ تشیع کے نزدیک تو امن کا نہ ملنا ظاہر ہے کہ بدامنی کی وجہ سے سیدنا علیؓ کو (خلافت کے معاملے میں) درجۂ اول سے درجۂ چہارم پر لایا گیا اور اہلِ سنت کے علمائے کرام تصریح فرما چکے ہیں کہ اس آیتِ مبارکہ سے سیدنا علیؓ کی خلافت ثابت نہیں ہوتی۔ حضرت امام رازیؒ اسی آیتِ استخلاف کے ماتحت فرماتے ہیں: ولم يحصل ذلك في ايام علیؓ

ترجمہ: اور سیدنا علیؓ کے زمانہ میں یہ امور حاصل نہیں ہوئے۔

اور صاحبِ تحفہ اثناء عشریہ فرماتے ہیں:

کہ مجموعہ ایں امورا سوائے خلفائے ثلاثہؓ یافتہ نہ شد۔

ترجمہ: جمیع امور خلفائے ثلاثہؓ کے علاوہ کسی کے زمانہ میں نہیں پائے گئے۔

اب تین ہی صورتیں ہیں:

اول: یہ ہے کہ اصحاب ثلاثہؓ کو مومنِ کامل مان کر ان کو برحق خلیفۂ رسولﷺ تسلیم کر لیا جائے۔

دوم: یہ کہ حاضرین سے کوئی مصداقِ آیت قرآنی پیش کیا جائے کہ حاضرین میں سے فلاں، فلاں اشخاص پر یہ وعدہ پورا ہوا۔

سوم: یہ کہ وعدہ خدائی کا جھوٹا ہونا تسلیم کر لیا جائے کہ خدا نے جو وعدہ کیا تھا اس میں خدا کو بداء (جہل) ہوگیا اور وعدۂ خدا ہی غلط ہوگیا۔

آپ رحمۃاللہ نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ:

میں نے اس آیت کو سات مناظروں میں پیش کیا ہے اور جواب طلب کیا ہے مگر حضرات اہلِ تشیع کی طرف سے کسی کو صحیح جواب دینے کی ہمت نہیں ہوئی اور آئندہ ہو بھی نہیں سکتی۔

نہ خنجر اُٹھے گا نہ تلوار ان سے

یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں

  فرمایا: میں آج بھی علمائے شیعہ کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور وہ ذریعہ بتائیں جس کے ذریعے خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کے انکار کے بعد آیت پر ایمان رہ سکتا ہے تو میں آج ہی شیعہ ہونے کا اعلان کر دوں گا۔

هَاتُوا بُرْهَانكُم اِنْ كُنتُمْ صَادِقِينَ

مولاناؒ نے فرمایا کہ: علمائے شیعہ غلط اعتراض کیا کرتے ہیں مثلاً یہ کہ یہ لفظ مِنۡكُمۡ سے صرف حاضرین مراد لیے جائیں تو نماز، روزہ، حج، زکوٰة، حرام و حلال تمام احکام خداوندی حاضرین کے ساتھ خاص ہو جائیں گے لہٰذا آج کل کے لوگ مکلّف نہ رہے۔

پہلا جواب یہ ہے کہ یہ آیت آیاتِ احکامی سے نہیں ہے۔ یہ تو آیاتِ انعامیات میں سے ہے۔ اس میں دنیا کی سب سے بڑی نعمت جو حکومت علیٰ منہاج النبوت ہے اس کا ذکر ہے اور جو اعتراض شیعہ حضرات کرتے ہیں وہ آیاتِ احکامی پر وارد ہوتا ہے آیاتِ انعامی پہ نہیں کیا جا سکتا۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ بقاعدہ اصولِ فقہ حاضرین میں غائبین کو احکام میں دلیلِ خارجی کی وجہ سے داخل کر لیا جاتا ہے اور یہاں تو دلیلِ خارجی ہے ہی نہیں، اگر ہے تو پیش کریں! اور علمائے شیعہ کی اس کی تصریح کر چکے ہیں۔ جیسا کہ معالم الدين وملاذ المجتهدين  از ابن الشهيد الثاني میں صفحہ 193 پر موجود ہے:

لأنا نقول: أحكام الكتاب كلها من قبيل خطاب المشافهة، وقد مر أنه مخصوص بالموجودين في زمن الخطاب، وأن ثبوت حكمه في حق من تأخر إنما هو بالاجماع

ترجمہ: "تحقیق ہم کہتے ہیں کہ احکامِ قرآن تمام کے تمام از قبيل بالمشافہ کے ہیں اور یہ پہلے گزر چکا ہے کہ خطاب کا حکم حاضرین موجودین کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔ باقی اس حکم کا ثبوت ان لوگوں کے لئے جو زمانہ خطاب کے بعد آئے ہیں وہ اس حکم میں اجماعِ امت سے داخل ہیں۔"

لیجیے حضرات! آیاتِ احکامی میں بھی غائبین دلائلِ خارجیہ کی وجہ سے داخل ہیں، خطاب کی وجہ سے نہیں۔

اس کے بعد مولاناؒ نے شیعہ کتاب احتجاج طبرسی جلد 1، صفحہ 111 سے یہ عبارت پڑھی وما من الأمة أحد بايع مكرها غير علي وأربعتنا

ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کے سلسلے میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جس نے خوشی سے بیعت نہ کی ہو سوائے سیدنا علیؓ اور ہمارے چار شیعہ شخصوں کے۔

صفحہ 1 از 4