سیدنا حسینؓ کی شہادت پر راضی ہونے والے بھی خدا کے مجرم ہیں
مولانا اقبال رنگونیحافظ ابنِ تیمیہؒ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عاشورہ جیسے محترم و معظم دن میں حضورﷺ کے نواسہ اور جوانانِ جنت کے سردار سیدنا حسینؓ کو بد نصیب فاجروں کے ہاتھوں شہادت کا اعزاز دے کر انہیں عزت و کرامت عطا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسینؓ کی عزت و افزائی کی اور ان کے درجات کو بلند کرنے اور شہدائے کرام کے مقام و مرتبہ تک پہچانے کے لیے انہیں اس حادثہ سے دو چار کیا یہ سب جانتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اس طرح نہیں آزمائے گئے جس طرح ان کے مقدس ناناﷺ والد اور قابلِ احترام چچا (حضرت جعفرؓ اور حضرت عقیلؓ) اللہ کے دین کے لیے آزمائے گئے کیونکہ یہ دونوں شہزادے اسلام کے زمانے میں پیدا ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کے ماحول میں آنکھیں کھولیں اور پرورش پائی، اللہ نے چاہا کہ ان دونوں کو مقامِ شہادت سے سرفراز کریں چنانچہ ان میں سے ایک بذریعہ زہر شہادت کے مقام کو پہنچے جب کہ دوسرے نے میدان کرب و بلا میں شہادت نوش کیا آپؓ کی شہادت کا واقعہ اسلام میں ہونے والے بڑے مصائب میں سے ایک ہے جن لوگوں نے آپؓ کو شہید کیا اور جنہوں نے اس بارے میں قاتلوں کی مدد کی اس قتل پر وہ راضی ہو گئے وہ سب کے سب بدبخت ہو گئے۔
( فضائل اہلِ بیت و فیوضہم: صفحہ39 طبع جدہ)
آپ ایک جگہ یہی بات لکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَقَتَلَ الْحُسَینِ مَعْصِیَةُللهِ وَ رَسُولهٖ مِمّنْ قتَلَهُ اوْ اعَانَ علیٰ قَتْلِهٖ (اوْ رَضِیَ بِذَلكَ)
(منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 551)
اس سے یہ بات واضح ہے کہ سیدنا حسینؓ اور آپؓ کے اہل و عیال اور آپؓ کے رفقاء کو اللہ تعالیٰ نے مقامِ شہادت عطا فرمایا اور ان سب کو بلند ترین درجات سے نوازا کتنے بدبخت تھے وہ لوگ جن کے ہاتھوں آپؓ شہید ہوئے، دنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہوئے اور اب تک ہو رہے ہیں اور قیامت تک اور اس کے بعد بھی ذلت و رسوائی اور سخت خدائی پکڑ میں آئیں گے۔
