اخراج یہود میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت - دفاعِ…

اخراج یہود میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

صفحہ 1 از 3

اخراج یہود میں سیدنا عمرؓ کی موافقت

سیدنا عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں نجران کے یہودیوں کو ارضِ حجاز سے جلا وطن کر دیا تھا آپؓ کا یہ عمل رسول اللہﷺ کے اس ارشاد کے تحت تھا کہ:

میں پورے جزیرہ عرب سے پہود و نصاریٰ کو نکال دوں گا اور اور اس میں مسلمان کے سواء کسی کو نہ رہنے دوں گا۔

(جامع ترمذی جلد 1 صفحہ 194 عن جابرؓ)

آپﷺ نے اس مرضِ وفات میں جو وصیتیں فرمائی تھیں ان میـں سے ایک یہ بھی تھی:

مشرکین کو جزیرہ عرب میـں نہ رہنے دینا۔

(صحیح بخاری جلد 4 صفحہ 75 مصر)

سیدنا عمرؓ یہ عمل عین منشاء رسالت تھا یہی وجہ ہے کہ یہود و نصاریٰ اور ان کے پیرو کار (روافض) سیدنا عمرؓ سے خاص عدوات ہے رکھتے ہیں اور ان کی ساری کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح کو بدنام و بدکام بتلایا جائے۔ 

لیکن جب سیدنا علی المرتضیٰؓ کا دور مبارک آیا اور آپؓ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو آپ سے ان اعدائے اسلام نے درخواست کی کہ ہمیں واپس بلا لیا جائے سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ان کی اس درخواست کو شدت سے مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ:

سیدنا عمرؓ کا فیصلہ صحیح تھا اور اس سے زیادہ صحیح الرائے کون ہو سکتا ہے؟۔

(بحوالہ رحماءُ بینہم کتاب الخروج صفحہ 74)

یعنی جو کام سیدنا عمرؓ نے کیا ہے چونکہ وہ عین منشائے رسالت مآبﷺ تھا اس لیے میری کیا مجال ہے کہ اس کو ختم کر دوں (اللہ اکبر) غور فرمائیے سیدنا علی المرتضیؓ نے روافض کے عقیدے کی کس قدر صراحت کے ساتھ تردید کر دی (فللہ الحمدللہ)

اسی طرح ایک ایک مرتبہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کوفہ تشریف لائے تو آپ نے ایک مسئلہ پر فرمایا:

جو گرہ سیدنا عمرؓ نے لگا دی ہے میں اس کو نہیں کھولوں گا۔

(کتاب الخراج یحییٰ بن آدم صفحہ 24 مصر)

مراد یہ کہ جو کام سیدنا عمرؓ نے شروع کر دیئے ہیں ان میں تبدیلی نہیں کروں گا۔ 

میں سیدنا عمرؓ کے طریقے پر خلافت قائم کروں گا

عبد خیر کہتا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ: 

عمر بن الخطابؓ (کان موفقا) بہتر توفیق دیئے گئے تھے (رشیدا فی الامور) امورِ (خلافت) میں درست فیصلہ کرنے والے اور صحیح معاملہ فہم تھے اللہ کی قسم جو کام سیدنا عمرؓ نے کر دئیے ہیں ان کو میں تبدیل نہیں کروں گا۔ 

(تاریخِ کبیر بخاری جلد 2 صفحہ 145)

سیدنا علیؓ نے ہر کام میں سیدنا عمرؓ کی موافقت کی سیدنا حسنؓ کا اعلان

سیدنا حسنؓ بن علی المرتضیٰؓ بھی فرماتے ہیں کہ:

سیدنا علیؓ جب مدینہ سے کوفہ تشریف لائے تو مجھے معلوم نہیں کہ آپؓ نے سیدنا عمرؓ بن الخطاب کی مخالفت کی ہو یا ان کے کسی کام میں تغیر پیدا کر دیا ہو آپؓ نے ہر کام میں سیدنا عمرؓ بن الخطاب کی موافقت کی۔

(ریاض النضرة المحب الطبری جلد 2 صفحہ 85 بحوالہ رحماء بینہم حصہ فاروقی صفحہ 141)

اس قسم کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اپنے دور میں بھی سیدنا عمرؓ کے کیے ہوئے فصیلوں کو توثیق و تائید کی اور انہیں اسی مقام پر بحال رکھا جس مقام پر سیدنا عمرؓ نے رکھا تھا اگر بالفرض سیدنا عمرؓ کے سارے کام غلط در غلط تھے تو کیا سیدنا علی المرتضیٰؓ اپنے دورِ خلافت میں ان کو بحال رکھتے؟ سوچیں اور فیصلہ کریں۔

سیدنا عمرؓ اور سیدنا علیؓ میں باہمی مشاورت:

مشورے دیتے وقت سیدنا عمرؓ کے پورے دورِ خلافت میں سیدنا علی المرتضیٰؓ نے مشیر خاص کی حثیت سے اپنے فرائض میں کبھی کوتاہی نہیں فرمائی اور سیدنا عمرؓ بھی آپ کے مشوروں کو اکثر بیشتر ترجیح دیا کرتے تھے 

مشہور مورخ بلا ذری (7:2ھ) لکھتے ہیں کہ:

سیدنا علیؓ اور آپ کے خاندان کے دیگر اکابر سیدنا عمرؓ کے مشیرانِ خاص تھے۔

(فتوح البدان)

مشہور شیعی مجتہد طوسی (460ھ) نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ 

(امالی شیخ طوسی جلد 2 صفحہ، 256)

معلوم ہوا کہ یہ دونوں اکابر یک جان دو قالب تھے اور ان کے تعلقات بہت ہی بہتر تھے اور ہر ہر موڑ پر ایک دوسرے کے رفیق و معاون تھے کعبة اللہ کے زیورات کا مسئلہ آیا تو بھی آپ نے مشورہ دیا مشہور شیعہ مجتہد آئمہ جزائری مولف ''ابو تراب'' لکھتے ہیں کہ:

سیدنا عمرؓ کی خلافت کے زمانہ میں کعبہ کے زیورات اور ان کی کثرت کا ذکر آیا لوگوں نے مشورہ دیا کہ ان کو اتار کر مجاہدین کے انتظام پر صرف کیا جائے تو ثواب ہوگا بھلا کعبہ کو زیورات کی کیا ضرورت؟ لیکن سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ جس وقت قرآن محمد مصطفیٰﷺ پر نازل ہوا تھا تو اس میں اموال کی چار قسمیں تھیں ان زیورات کعبہ کا ذکر نہیں یہ اس زمانہ میں بھی تھے اور اللہ نے ان کو وہیں رکھا اللہ کا ان زیورات کو چھوڑ دینا نہ سہو نسیان کی وجہ سے تھا اور نہ یہ اس وقت اس کی نظر سے پوشیدہ تھے لہٰذا ان کو اسی جگہ پر رہنے دیا جائے جہاں اللہ و رسولﷺ نے ان کو رکھا یہ سن کر خیلفہ (یعنی سیدنا عمرؓ) نے زیورات کو وہیں رہنے دیا۔

خلفائے ثلاثہؓ کے دور میں سیدنا علیؓ کی خدمات 

سیدنا علی المرتضیٰؓ خلفاءِ ثلاثہؓ کے دورِ خلافت میں ان کے ساتھ محبت سے پیش آتے تھے ان کی طرف سے دیئے گئے عہدہ کو فرماتے تھے ان کی تعریف فرماتے تھے اور ان ادوار مبارکہ میں ہمیشہ آپ نے اہلِ اسلام کی ہر ممکن خدمت فرمائی خلفاءِ ثلاثہؓ بھی ان کے ساتھ ویسا ہی محبانہ سلوک فرماتے تھے سیدنا باقرؒ (114ھ) کی شہادت ملا حظہ فرمائیں:

بےشک سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ نے حدود کے فیصلے سیدنا علیؓ کے سپرد کر رکھے تھے۔ 

(جعفریات مطبوعہ تہران صفحہ 133)

شیعہ مصنفین کی کتابوں میں حقیقت بھی موجود ہے کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ کے دورِ خلافت میں یہ اعلان کر رکھا تھا کہ:

کوئی شخص مسجد میں سیدنا علیؓ کی موجودگی میں فتویٰ و فیصلہ نہ دے۔ 

(حق الیقین جلد 1 صفحہ 174)

بتلانا یہ ہے کہ ان حضرات کے درمیان کسی قسم کی کوئی چپقلش نہ تھی نہ ہی ایک دوسرے کے دشمن تھے نہ ہی آپس میں نفرت و عدوات بغض موجود تھا بلکہ کُتبِ اہلِ سنّت ہوں یا کُتبِ شیعہ اس کے شاہد ہیں کہ ان کے ادوار مبارکہ میں محبت و مودت اخوت و الفت کے چہار سو پھول ہی پھول کھلے ہوئے تھے اور پوری دنیا ان پھولوں کی خوشبوؤں سے معطر ہو رہی تھی۔

سیدنا حسینؓ کی شادی اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ

صفحہ 1 از 3