سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس فدائی مؤقف کے دروس و فوائد
علی محمد محمد الصلابی• نبی اکرمﷺ کی ہجرت کی منصوبہ سازی کا یہ تقاضا تھا کہ گھر میں آپﷺ کی جگہ پر کوئی ضرور موجود ہو تاکہ خانۂ نبوی کا محاصرہ کرنے والے مشرکین قریش کی نگاہوں کو وہ اپنی حرکت و وجود میں اس طرح مشغول رکھے کہ یہ آپ سے غافل ہوجائیں اور تب تک موقع پا کر نبی کریمﷺ اور آپﷺ کے ساتھی سیدنا ابوبکر صدیقؓ اس علاقہ سے دور جانکلیں، جہاں خطرات اور اندیشے ہیں۔
(خلفاء الرسول: صفحہ 396)۔
• نبی اکرمﷺ کے حکم پر بلاتامل علیؓ کا لبیک کہنا درحقیقت ایک ایسے سچے سپاہی کی مثال ہے جو دعوت اسلام کے لیے مخلص تھا، اس نے اپنے قائد کی سلامتی کے لیے اپنی زندگی کو پاؤں پر لگا دیا تھا، کیوں کہ قائد کی سلامتی دعوت و تحریک کی سلامتی اور اس کی ہلاکت دعوت کی کمزوری و تباہی کا سبب ہے، حضرت علیؓ نے شبِ ہجرت میں بستر رسولﷺ پر رات گزار کر ایک گراں قدر قربانی کی مثال قائم کی، وہاں اس بات کا بالکل احتمال تھا کہ نوجوانانِ قریش کی تلواریں حضرت علیؓ کے سر پر پڑیں، لیکن آپ نے اس کی قطعاً پرواہ نہ کی، اور صرف ایک بات کے شیدائی رہے کہ دعوت اسلام کے قائد نبی کریمﷺ کسی طرح محفوظ رہیں۔
(السیرۃ النبویۃ: السباعی: صفحہ 345)۔
• مشرکین کا نبی کریمﷺ سے برسرپیکار ہونے، اور آپ کو جان سے مار دینے کا عزم کر لینے کے باوجود آپﷺ کے پاس امانتیں رکھنا، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ لوگ عجیب تناقض اور کشمکش کا شکار تھے، ایک طرف وہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے تھے، کبھی جادوگر کہتے اور کبھی مجنوں کہتے، لیکن دوسری طرف انھیں اپنے اردگرد کوئی ایسا آدمی بھی نظر نہیں آتا تھا جو صدق و امانتداری میں آپﷺ سے بہتر ہو، یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی ضروریات کی مہنگی ترین چیزیں اور اہم اموال کہ جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا تھا، آپ ہی کے پاس رکھتے تھے، ان کا یہ طرز عمل اس بات کی دلیل تھا کہ انھوں نے آپﷺ کی سچائی و امانت پر کسی شک و تردد کی وجہ سے آپﷺ کا انکار نہیں کیا، بلکہ تکبر و غرور، حق کے خلاف سینہ زوری، اپنی قیادت و سرکشی کے زوال کے خوف سے کفر کیا۔
(فقہ السیرۃ: البوطی: صفحہ 153)
فرمان الہٰی اس حقیقت پر مبنی ہے:
قَدۡ نَـعۡلَمُ اِنَّهٗ لَيَحۡزُنُكَ الَّذِىۡ يَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ وَلٰـكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ۞(سورۃ الأنعام آیت 33)
ترجمہ: (اے رسول) ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، کیونکہ دراصل یہ تمہیں نہیں جھٹلاتے، بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔
• آغاز ہجرت کے یہ نازک ترین لمحات، جن میں آپﷺ کو اضطراب و گھبراہٹ لاحق ہونی چاہیے تھی اور آپﷺ کو صرف ایک ہی فکر ہونی چاہیے تھی وہ یہ کہ کس طرح ہجرت کے منصوبہ کو کامیاب بنایا جائے، ایسے وقت میں رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ میرے پاس جن لوگوں کی امانتیں ہیں انھیں ان تک پہنچا دو، آپﷺ بھولے نہیں اور نہ ہی غافل ہوئے، جب کہ اس طرح کے سخت ترین حالات میں انسان اپنے وجود ہی کو بھول جاتا ہے چہ جائیکہ کچھ اور یاد رکھے۔
(الہجرۃ فی القرآن الکریم: صفحہ 364)۔
بہرحال آپﷺ کی فطرت نے اس بات سے انکار کیا کہ کسی امانت رکھنے والے کی امانت میں خیانت کریں، خواہ وہ آپﷺ کے خلاف دشمنوں کو بھڑکاتا اور تکلیف ہی کیوں نہ دیتا ہو، اس لیے کہ امانت میں خیانت کرنا منافقین کی صفت ہے، جس سے مومن پاک صاف ہوتا ہے۔
(جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 423)۔
• ہجرت کے اس عظیم و بےمثال واقعہ سے سیدنا علیؓ کی جرأت و شجاعت ظاہر ہوتی ہے کہ حکم نبوی کی تعمیل میں آپ جو کام انجام دینے جا رہے تھے جس کے بارے میں حضرت علیؓ کو معلوم تھا کہ میں ایک بڑا خطرہ مول لینے جارہا ہوں، نبی کے دشمن آپ کے گھر پر ایک ساتھ اور اچانک دھاوا بولیں گے اور بلا کسی تحقیق کے آپؓ کو قتل کر دیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ رات کو چھوڑ کر صبح کے وقت گھر سے نکلتے ہوئے اچانک وہ سب آپ پر حملہ کر دیں اور اس بات کی قطعاً پرواہ نہ کریں کہ گھر سے کون نکل رہا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہو سکتا تھا کہ پوری رات وہ لوگ گھات لگائے بیٹھے ہوں گے اور اس گھڑی کا انتظار کر رہے ہوں گے اور ہر تدبیر اور پوری کوشش کے باوجود صبح کے اندھیرے میں گھر سے نکلنے والے کو اچھی طرح نہیں پہچان سکیں گے کہ یہ کون ہے، محمدﷺ ہیں یا کوئی اور۔ یقیناً یہ سب باتیں حضرت علیؓ کے ذہن میں گردش کرتی رہی ہوں گی، لیکن حضرت علیؓ نے حکم نبویﷺ کی تعمیل میں سبقت کر کے سعادت مندی کو گلے لگایا اور یہ ثابت کردیا کہ:
• حضرت علیؓ اللہ اور اس کے رسولﷺ سے سچی محبت کرتے ہیں، ایسی محبت کہ جس پر دل سے فدا ہیں اور نبی کریمﷺ کی بقاء و سلامتی کو ایسا بلند ترین مقصد قرار دیتے ہیں کہ جس کے پیچھے اپنی زندگی کی قربانی دینا گوارا کر لیتے ہیں۔
• دشمنوں کے چنگل سے نبی کریمﷺ کو باسلامت نکال لینے کے لیے یہ ساری تدابیر ضروری تھیں تاکہ آپﷺ اسلام کو دیگر خطۂ ارضی میں پھیلا سکیں گویا ان کی نگاہ میں یہ واقعہ ہر حال میں اسلام کے مفاد اور اس کی مصلحت سے جڑا ہوا تھا۔
شبِ ہجرت کے اُن پُرخطر اندیشوں کے بیچ حضرت علیؓ کا بستر رسولﷺ پر سوئے رہنا، اللہ کے قضاء و قدر پر ان کے کامل و گہرے ایمان ویقین کی دلیل ہے، بلاشبہ آپ کو اس فرمان الہٰی پر کامل ایمان تھا:
قُلْ لَّنۡ يُّصِيۡبَـنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَـنَا هُوَ مَوۡلٰٮنَا وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ۞(سورۃ التوبة آیت 51)
ترجمہ: کہہ دو کہ: اللہ نے ہمارے مقدر میں جو تکلیف لکھ دی ہے ہمیں اس کے سوا کوئی اور تکلیف ہرگز نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ہمارا رکھوالا ہے، اور اللہ ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہجرت کے اس پُرخطر کردار کو نبھانے کے لیے اللہ کے رسولﷺ نے حضرت علیؓ کو منتخب کیا، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپﷺ کو حضرت علیؓ پر کامل و پختہ اعتماد تھا اور ان کے سلسلہ میں اس بات سے بالکل مطمئن تھے کہ انھیں میں یہ مہم نبھانے کی وہ بےنظیر صلاحیت ہے جو دوسروں میں نہیں ہے، جس کی زندہ مثال یہ ہے کہ جب آپﷺ نے ان کو اپنے بستر پر سونے کے لیے کہا تو بلاتردد انھوں نے تعمیلِ حکم پر لبیک کہا، حالانکہ آپ کو خوب معلوم تھا کہ اس کے پیچھے مشرکین اور نوجوانانِ قریش کی طرف سے موت کے پیغام کے سوا کچھ نہیں، لیکن حضرت علیؓ نے انجام کی قطعاً پرواہ نہ کی، اس لیے کہ اس فدائیت کے بدلے شرافت و سعادت کا ایسا لاثانی تمغہ ملنے والا تھا جسے کسی اور راستہ سے حاصل کرنا مشکل تھا۔
(جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 426)۔