اس آدمی نے جبراً بدکاری کر کے مجھے میرے خاندان میں رسوا کر…

اس آدمی نے جبراً بدکاری کر کے مجھے میرے خاندان میں رسوا کر دیا

  علی محمد محمد الصلابی

5۔ اس آدمی نے جبراً بدکاری کر کے مجھے میرے خاندان میں رسوا کر دیا:

جعفر بن محمد (صادق) کا بیان ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو ایک انصاری نوجوان پرفریفتہ تھی، جب عورت نے دیکھا کہ نوجوان مجھ پر مائل نہیں ہو رہا ہے تو اس کے خلاف حیلہ اختیار کیا، ایک انڈا لیا، پھر اسے توڑ کر زردی زمین پر پھینک دی اور سفیدی کو دونوں رانوں کے درمیان اور کپڑے پر لگا لیا، پھر شور کرتی ہوئی حضرت عمرؓ کے پاس آئی اور کہنے لگی؛ اس آدمی نے مجھ سے جبراً بدکاری کر کے مجھے میرے خاندان میں رسوا کردیا اور یہ دیکھیے اس کے ہوس کے اثرات ہیں، حضرت عمرؓ نے دوسری عورتوں سے دیکھنے کو کہا، تو انھوں نے کہا: ہاں، اس کے جسم اور کپڑے میں منی کے آثار پائے جاتے ہیں، حضرت عمرؓ نے نوجوان کو سزا دینے کا ارادہ کیا، وہ نوجوان فریاد کرنے لگا کہ اے امیر المؤمنین! میرے معاملہ کی حقیقت معلوم کر لیجیے، اللہ کی قسم! میں نے کبھی بھی ایسی بدکاری نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کا ارادہ کیا ہے، دراصل یہ مجھے پھسلا رہی تھی اور ناکامی کی صورت میں یہ ڈھونگ رچایا گیا ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے حضرت علیؓ سے مشورہ لیا کہ اے ابوالحسن! ان دونوں کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ حضرت علیؓ نے عورت کے کپڑے پر لگی ہوئی سفیدی پر نگاہ ڈالی پھر خوب گرم کھولتا ہوا پانی منگایا اور اسے کپڑے پر ڈال دیا اس سفیدی میں جماؤ آگیا، آپ نے اسے ہاتھ میں لیا اور سونگھا، پھر چکھا، تو ذائقہ انڈے کا لگا، پھر آپ نے عورت کو ڈانٹا اور جھڑکا، بالآخر اس نے حقیقت کا اعتراف کر لیا۔

(الطرق الحکمیۃ: ابن القیم صفحہ 48) یہ روایت ضعیف ہے)

اس واقعہ سے دو اہم باتیں معلوم ہوتی ہیں:

• اسلامی نظام قضاء میں جرائم کی تحقیق واثبات کے لیے وسائل کا استعمال معہود تھا، جس میں فیصلہ کے لیے اقرار، گواہی، قسم، انکار اور علامات و قرائن سے مدد لی جاتی تھی۔

• ناگہانی و جدید حادثات کے حل کے لیے سیدنا عمر فاروقؓ بزرگ و ممتاز صحابہ کرامؓ سے مشورہ لیا کرتے تھے اور اس سلسلہ میں حضرت عمر فاروقؓ کے نزدیک حضرت علیؓ کا ایک خاص مقام تھا۔

(الاجتہاد فی الفقہ الإسلام: عبدالسلام سلیمانی: صفحہ 145)۔