Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ کی ساتویں دلیل

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

فَقُلۡ تَعَالَوۡا نَدۡعُ اَبۡنَآءَنَا وَاَبۡنَآءَكُمۡ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمۡ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَكُمۡ ثُمَّ نَبۡتَهِلۡ فَنَجۡعَل لَّعۡنَتَ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰذِبِيۡنَ 

(سورۃ آلِ عمران آیت 61) 

ترجمہ: آپ کہہ دیں آؤ ہم بلالیں اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں کو، اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو، اپنے وجودوں کو اور تمہارے وجودوں کو، پھر مباہلہ کریں کہ خدا کی لعنت جھوٹوں پر ہو۔ 

وجہ استدلال یہ بیان کی جاتی ہے کہ نصاریٰ بخران سے جب مباہلہ کی قرار داد ہوئی جیسے کہ آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تو حضرت رسول اللہﷺ یعنی چار بزرگوں سیدنا علیؓ سیدہ فاطمہؓ سیدنا حسینؓ کو ساتھ لے کر نکلے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رضی اللہ عنہم ثلاثہؓ کی رسول پاکﷺ کے دل میں کوئی قدر منزلت نہ تھی اس لیے جناب امیرؓ ہی آپﷺ کی وفات کے بعد خلافت کے لائق تھے۔

جواب: اس استدلال کا جواب یہ ہے کہ آیت سے یہ ہرگز مفہوم نہیں ہوتا کہ سیدنا علیؓ ہی امامت و خلافت کے مستحق ہیں اور بس آیت کا کوئی لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے بلکہ آیت کا مفہوم صاف یہ ہے کہ ہر دو فریق سے حسبِ ذیل اشخاص مباہلہ کے لیے نکلیں مباہلہ کرنے والے بذاتِ خود اور ان کی اولاد، ان کی مستورات، چونکہ مسلمان فریق سے دعویدارِ اسلام حضورﷺ اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جو کفار سے جہاد اور قتال کرتے تھے اس لیے یہ سب لوگ أَنفُسَنَا میں داخل تھے انہوں نے ادہر سے میدان مباہلہ میں نکلنا تھا۔ درجہ دوم میں ان کی اولاد و اخفاد ذکور و اناث۔ درجہ سوم میں ان کی مستورات ایسے ہی کفار کی طرف سے ابو حارثہ، اسید، عاقب معہ اپنی اولاد اور عورتوں کے نکلے اب شیعہ کا یہ کہنا کہ سوائے ان چار بزرگوں کے حضورﷺ کے ہمراہ کوئی نہ نکلا یا آپﷺ کسی کو ساتھ نہ لے گئے مضمون آیت کے بالکل خلاف ہے کیونکہ حضورﷺ معہ سیدنا علیؓ سیدہ فاطمہؓ سیدنا حسینؓ کہہ رہے ہیں کل تھے تو وَأَنفُسَنَا، وَاَبْنَاءَنَا، کا مضمون تو پورا ہو سکتا ہے یعنی رسولﷺ علی بذاتِ خود نکلے اولادِ رسول سے سیدہ فاطمہؓ حسینؓ ساتھ ہوئے لیکن نِسَاءَنَا کا مضمون کس طرح صحیح ہو سکتا ہے نیز کفار کا مقابلہ تو رسول اور سردارانِ فوج اصحابِ کبار سے ہوا اور صرف مباہلہ کے لیے رسول اللہﷺ ان کے داماد علی المرتضیٰؓ آپﷺ کی دختر فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسین رضی اللہ عنہ کے نکلنے پر راضی ہو جائیں رسول اللہﷺ اور حضرت علی المرتضیٰؓ تو مجاہدین و مقاتلین میں داخل تھے لیکن سیدہ فاطمہؓ حسینؓ جو جدال کے قابل نہ تھے اگر مقابلہ میں نکل کر چشم زخم بھی اٹھائیں تو کفار کی مراد کیسے پوری ہوسکتی تھی جبکہ ان کے استیصال کے لیے سیدنا عمر فاروقؓ اور ابوبکر صدیقؓ صحیح و سلامت زندہ موجود رہتے۔ غرض عقل و نقل دونوں اس امر کے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ حضورﷺ مباہلہ کے لیے سیدنا علیؓ سیدہ فاطمہؓ سیدنا حسینؓ ہی کو ساتھ لیا اور جب آیت سے حضرت علی المرتضیٰؓ اور ان کے متعلقین کی خصوصیت ثابت نہیں ہوتی تو اس کے خلاف روایات خواہ کتبِ شیعہ کی ہوں یا اہلِ سنت کی قابلِ استدلال نہیں ہو سکتی کیونکہ شیعہ حضرات ایسی روایات کے گھڑ لینے میں پورے مشاق ہیں اور کتبِ اہلِ سنت بھی دست اندازی کر لینے سے دریا نہیں کرتے۔