Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

گورنر کے مؤقف میں اس کا بھر پور تعاون کرنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب فتنہ برپا ہوا اور فتنہ پروروں نے ان سے بعض گورنروں کو معزول کرنے کا مطالبہ کیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو مسترد کر دیا۔ در حقیقت یہ تعاون اسلامی سلطنت کے عام مقصد کو پورا کرتا ہے، اور فساد سے روکتا ہے، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ شکایات کی طرف التفات نہ کیا جائے اور بلا ثبوت فراہم کیے اس سے تعاون کیا جائے، نہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ تعاون خلفاء کی طرف سے شکایات کی تحقیق کر لینے اور ثبوت فراہم ہو جانے کے بعد اور انتہائی دقیق احتساب کے بعد ہونا چاہیے۔ ان قضیوں میں تحقیق کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جاتی تھی۔ والی اور گورنر کی تائید و تعاون جس طرح خلیفہ پر واجب ہے، اسی طرح رعایا کی طرف سے بھی واجب ہے، اور لوگوں پر ان کا احترام و قدردانی فرض ہے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 58)

حضرت عثمان غنیؓ نے جن بعض والیوں اور گورنروں کو معزول کیا تو محض رعیت کی مصلحت کے پیش نظر کیا تھا۔