یہ شخص ملک یمن (صنعان) کا باشندہ تھا یہودی تھا بعدہ بظاہر اسلام لایا لیکن اندر سے اسلام کا سخت دشمن تھا یہ تخریب اسلام کی جد و جہد میں سرگرم تھا اور اسلام لانے کی غرض ہی یہ تھی کہ دوستوں کے بھیس میں دشمنی کرے تاریخ طبری میں اس کا یوں حال لکھا ہے۔
عبداللہ 25ھ میں مسلمان ہوا تا کہ حضرت عثمانؓ بھی اس کی کچھ عزت کریں مگر حضرت عثمانِ غنیؓ نے کچھ بھی اس کے حال پر توجہ نہ کی اس لیے وہ بد نصیب ازلی حضرت عثمانِ غنیؓ کی غائبانہ برائیاں بیان کرتا تھا اُس نے مذہب رجعت کا ایجاد کیا۔
(ملخص ترجمہ تاریخ طبری باب اول)
شیعہ کی مستند کتاب اطواق الحمایۃ بحث امامت پر سوید بن غفلہ سے یہ روایت درج ہے:
انه قال مررت لقوم ينقصون ابابكر وعمر فاخبرت عليا وقلت لولا انهم يرون انك تضمر ما اعلنوا ما اجترءوا وعلى ذلك عبدالله بن سبا هو كان اول من اظهر ذلك فقال علی اعوذ بالله رحمهما الله ثم نهض واخذ بيدی وادخلنی المسجد فصعد المنبر ثم قبض على لحيته وجعل ينظر للبقاع حتىٰ اجتمع الناس ثم خطب فقال ما بال قوم يذكرون اخوی رسول اللهﷺ ووزيريه وصاحبيه وسيدی قريش وابوی المسلمين وانا برہ مما يذكرون اعاقبهم صحبا رسول اللهﷺ بالجد والوفاء والجد فی امر الله يامران وينهيان ويقضيان ويعاقبان لا يرى رسول اللهﷺ كرائهما رأيا ويعاقبان لا يرى عزمهما فی امر الله فقبض وهو عنهما راض والمسلمون راضون لما تجاوزا اني في امرهما وسيرتهما رأى رسول اللهﷺ وامره فی حياته وبعد موته فقبضا على ذلك رحمهما الله فوالذی خلق الحبة وبرأ النسمة لا يحبهم الا مؤمن فاضل ولا يبغضهما الاشقی مارق حبهما قربة وبعضها مسروق۔
راوی کہتا ہے میں ایک گروہ کو ملا جو شیخینؓ کی تنقیص شان کرتے تھے میں نے حضرت علیؓ کو اطلاع دی اور آ کر کہا کہ اگر تم خفیہ طور سے ان لوگوں سے متفق نہ ہو تو ان کو ایسا کرنے کی جرأت نہ ہو عبداللہ بن سباء پہلا شخص ہے جس نے اپنا خبث باطن ظاہر کیا حضرت علیؓ نے کہا میں ان لوگوں سے پناہ مانگتا ہوں خدا شیخین کریمینؓ پر رحمت کرے پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مسجد میں داخل کیا خود منبر پر چڑھے۔ پھر اپنی ریش مبارک مٹھی میں پکڑ لی اور وہ سفید تھی آپ کے آنسو بہہ کر ڈاڑھی پر گرنے لگے آپ مسجد کے مکانات دیکھنے لگے حتیٰ کہ لوگ جمع ہو گئے پھر خطبہ شروع کیا۔
کیا حال ہے اس گروہ کا جو رسول اللہﷺ کے بھائیوں آپ کے دو وزیروں، آپ کے دو یاروں، قریش کے دو سرداروں، مسلمانوں کے دو باپوں کا اہانت سے ذکر کرتے ہیں میں اُن کی اس جرأت سے بیزار ہوں اور میں انہیں اس بات پر سزا دوں گا رسول اللہﷺ کے دو اصحاب تھے جو جدوجہد اور وفاداری سے احکامِ الٰہی کی تبلیغ کرتے تھے امر و نہی کرتے اور فصل خصومات کرتے اور مجرموں کو سزا دیتے تھے رسول اللہﷺ ان کی رائے کے برابر کسی کی رائے نہ سمجھتے تھے اور ان کی محبت کے برابر کسی کی محبت تصور نہ فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ نے ان کو کار خدا میں مستعد و مضبوط پایا آپﷺ ان سے راضی ہو گئے اور تمام مسلمان ان سے راضی ہوئے انہوں نے اپنے کام و دستور میں حضورِ اکرمﷺ کی مرضی مبارک سے آپ کی زندگی میں تجاوز نہ کیا اور آپ کی وفات کے بعد بھی آپﷺ کی پوری اتباع کی اسی بات پر دونوں کی وفات ہوئی خدا کی ان دونوں پر رحمت ہو جیو مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے دانہ کو چیرا اور زوج کو پیدا کیا ان کا دوست مؤمن کامل ہے اور اُن کا دشمن بد نصیب خارج از اسلام ہے ان کی محبت باعث قرِب الٰہی ہے اور ان کی عداوت موجب زوال ایمان۔
اس کتاب میں دوسری جگہ یوں لکھا ہے کہ جناب امیرؓ نے فرمایا:
لعن الله من اضمر لهما الا الحسن الجميل و سيرى ذلك ان شاءالله ثم ارسل الى ابن سبا فسيره المدائن وقال لا تساكن فی بلدة احدا۔
خدا اس کو لعنت کرے جو ان کی نسبت سوائے خیر و خوبی کے اپنے دل میں رکھتا ہے اور اس کا ثمرہ دیکھ لے گا پھر آپ نے ابن سباء کی طرف حکم بھیج کر اس کو مدائن کی طرف نکال دیا اور حکم نافذ فرمایا کہ یہ کسی ایک بستی میں اقامت نہ کرنے پائے۔
ان روایات سے ثابت ہوا کہ بغض، عداوت اصحاب کا بیج اس یہودی عبداللہ بن سباء کا بویا ہوا ہے اس نے اپنے ہم خیال آدمی پیدا کر لیے تھے اور ان کو کہتا تھا کہ امیرؓ کا حقیقتاً مذہب یہی ہے۔ بظاہر تقیہ کر کے ان کی مدح سرائی کرتے ہیں چنانچہ اس امر کی شکایت امیر علیہ الرضوان تک پہنچی تو آپ لاحول پڑھنے گئے اور مسجد میں عام مجمع کے سامنے برسرِ منبر ایک فصیح خطبہ پڑھ کر فضائل شیخین کریمینؓ کا اعتراف فرمایا کہ رسول اللہﷺ کے بھائی، راستِ باز و یارانِ غار، سردارانِ قریش جملہ مسلمانوں کے روحانی باپ تھے ان کے دشمنوں سے سخت بیزار اور انہیں سزا دینے پر تیار ہوں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ شیخین کریمینؓ نے رسول اللہﷺ کا پورے طور پر حقِ صحبت ادا کیا اور تبلیغ احکامِ الٰہی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا۔ حضورﷺ ان کی رائے کو ہر حالت میں ترجیح دیتے تھے اور ان سے سب سے بڑھ کر محبت و پیار فرماتے تھے حضورﷺ ان سے راضی و خوشنود ہو کر پردہ فرما گئے اور کافۃ المسلمین اُن کے کارناموں پر خوش و خرم رہے۔ انہوں نے رسول اللہﷺ کی زندگی میں اور بعد پردہ فرما جانے کے پورے طور اتباع کی اور سرمو سیرت الرسول سے تجاوز نہ کیا حتیٰ کہ اس پر ان کی وفات ہوگئی جناب امیرؓ نے اپنے اس خطبہ میں بالآخر حلفیہ طور پر فرمایا کہ جو شیخین کریمینؓ سے محبت رکھے وہی مؤمن کامل ہے جو بدنصیب ان سے بغض و عناد رکھے وہ خارج از اسلام ہے۔
کیا شیعہ صاحبان جناب امیرؓ کے صریح فیصلہ پر صاد کریں گے یا اس کو بھی تقیہ نا مرضیہ پر محمول کریں گے؟
دوسری روایت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ نے اس نابکار ابنِ سباء کو اس جرم پر کہ وہ لوگوں کو شیخین کریمینؓ کی بدگوئی کی تعلیم دیتا تھا ملک بدر فرما دیا اور اس کے لیے یہ سزا تجویز کی کہ وہ مردود کسی ایک بستی میں رہنے نہ پائے تاکہ اپنا شر نہ پھیلا سکے بلکہ ہمیشہ در بدر مارا پھرے۔
ایک اور روایت کتبِ شیعہ سے لکھی جاتی ہے جس سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اس مذہب کا بانی در حقیقت وہی ابنِ سباء ہے چنانچہ ایک شیعہ مجتہد استر آبادی اپنی تصنیف منہج المقال میں لکھتا ہے:
فانظروا الى عبارة الكشی ذكر بعض اهل العلم ان عبد الله بن سبا كان يهوديا واسلم ووالى عليا وكان يقول وهو على يهوديته فی يوشع وصي بالغلو فقال بعد اسلامه بعد وفاة رسول اللهﷺ فی علی مثل ذلك فكان من اظهر بالقول بفرض امامة علی عليه السلام الجراءة من اعدائه وكاشف مخالفيه واكفرهم فمن ههنا قال من خالف الشيعة اهل التشيع والرفض من اليهودية۔
(رجال کشی: صفحہ، 71)
عبارت کشی دیکھو بعض اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ بن سباء یہودی تھا اسلام لایا اور علی کا محب بنا وہ اپنے یہودیت کے زمانہ میں یوشع وصی موسیٰ کی نسبت غلو کرتا تھا پھر اسلام کے بعد رسول اللہﷺ کے پردہ فرما جانے پر علیؓ کے بارے میں ایسا خیال رکھتا تھا اور پہلا شخص ہے جس نے فرضیت سیدنا علیؓ کا اعلان کیا اور ان کے اعداء سے تبرا کیا علیؓ کے مخالفین کو برا کہتا اور ان کو کافر قرار دیتا تھا یہی وجہ ہے کہ مخالفین شیعہ کہتے ہیں کہ تشیع اور رفض کی اصل بناء یہودیت پر ہے۔
اس روایت نے جو فاضل مصنف منہج المقال نے بحوالہ رجال کشی بیان کی ہے سارا بھانڈا ہی پھوڑ دیا کہ عبداللہ بن سباء ایک غالی شیعہ تھا یہودیت کے وقت یوشع خلیفہ موسیٰ کی نسبت غالیانہ اعتقاد رکھتا تھا اسلام کے بعد وفاتِ رسولﷺ حضرت علیؓ کی نسبت ایسا غلو کرنے لگا اس روایت سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ امامت علی (خلافت بلا فصل) کی فرضیت کا پہلا اعلان عبداللہ بن سباء کی طرف سے ہوا اور لعنت تبرا کی سنت کا بھی وہی امام ہے اس بات کا اعتراف ہے کہ انہی وجوہات سے شیعہ کے مخالفین (اہلِ سنت) کہتے ہیں کہ تشیع و رفض کا بانی وموجد عبداللہ بن سباء یہودی ہے اور رفض تشیع یہودیت کی شاخ ہے مبارک! (ابنِ سباء کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ قتل نہیں ہوئے آسمان پر زندہ موجود ہیں قربِ قیامت واپس تشریف لائیں گے بلکہ اس نے متبعین میں یہ عقیدہ بھی پھیلا دیا تھا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ میں جزء الٰہی پائی جاتی ہے اور وہ معبودِ برحق ہیں فاعلموا ان عليا هو اله ولا اله الا هو نے خطوط و آثار میں لکھا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ نے اس قسم کے غالیوں کو آگ میں جلا دیا تھا اور غضب ہے (یعنی آگ کا عذاب سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں دیتا) اور بخاری شریف میں حضرت عکرمہ سے مروی ہے ادنی علی بزنادقة فاهرقهم (یعنی زندیق لوگ سیدنا علیؓ کے پاس لائے گئے اور آپ نے ان کو جلا دیا) منقول از النجم جمادی الاخری 1341 ہجری آکر (مظہر حسین غفر لہ)
کیا لطف جو غیر پردہ کھولے
جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے
حضرات شیعہ کو جب کہا جائے کہ مذہب پاک شیعہ کا موجد عبداللہ یہودی ہے تو وہ سخت گھبرا کر برا بھلا کہنے لگتے ہیں ان حضرات کو بات بالا پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے بہر حال بقولِ شخصے ع
ساتھ انکار کے پردہ میں کچھ اقرار بھی ہے:
شیعہ حضرات لاکھ چھپائیں حق بر زبان جاری اس امر کا انہیں اعتراف کرنا پڑتا ہے بیشک عبداللہ بن سباء یہودی نے موالاتِ علیؓ کے بھیس میں حضراتِ شیخین کریمینؓ سے بغض و عناد کی تعلیم خفیہ و علانیہ دی جلاوطنی کی سزا بھی پائی جناب امیرؓ نے برسرِ منبر اس کو اور اس کی ذریت کو پھٹکار بھی کی لیکن جو شرارت کا تخم بوچکا اُس نے آخر بار آور ہونا تھا پہلے تقیہ کی صورت میں مریدان ابنِ سباء سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کرتے رہے اب اعلانیہ ہونے لگی۔ اعاذنا اللہ منہ۔