شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کی ابتداء - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ امامیہ اثناء عشریہ کی ابتداء

  الشیخ ممدوح الحربی

صفحہ 1 از 3

پہلی بحث

شیعہ امامیہ کا تعارف:

یہ فرقہ درج ذیل مختلف ناموں کے ساتھ مشہور و معروف ہے۔

رافضیہ:

انہیں رافضی اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ شیخین سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر بن خطابؓ کی امامت کا انکار کرتے اور یارانِ رسول کریمﷺ کو سبِّ وشتم کا مستحق گردانتے اور ان کے متعلق بدگوئی کرتے ہیں۔

شیعہ:

یہ لوگ اس لیے کہلاتے ہیں کہ یہ خاص طور پر 

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف داری کرتے ہیں اور صرف انہی کی امامت کو برحق تسلیم کرتے ہیں۔

اثناء عشریہ:

انہیں اثناء عشریہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ بارہ اماموں کی امامت کے قائل اور معتقد ہیں ان کا آخری امام محمد بن الحسن العسکری ہے۔ جو ان کے عقیدہ کے مطابق تاحال غار میں چھپا ہوا ہے۔

امامیہ:

انہیں امامیہ کا نام دیا جاتا ہے، اس لیے کہ ان کے عقیدے کی رو سے امامت کو اسلام کے پانچویں رکن ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

جعفریہ:

انہیں جعفریہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے آپ کو سیدنا جعفر صادق رحمۃ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، یہ ان کا چھٹا امام ہے اور ان کا شمار اپنے دور کے فقہاء میں ہوتا ہے۔ اس فرقے کی فقہ کو کذب وافتراء کے ذریعے ان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

دوسری بحث

عبداللہ بن سباء کے ذریعے شیعہ مذہب کی ابتداء:

یمن کے یہودیوں میں سے ابن السوداء کے لقب سے مشہور عبداللہ بن سباء خبیث یہودی نے سادہ لوح عام مسلمانوں کے سامنے یہودیت کی بعض تعلیمات کو پیش کیا اور انہیں اس دعوت کو قبول کرنے کی ترغیب دی۔ اس نے اپنی اس نئی دعوت کو اہل بیتؓ کی محبت، ان کی ولایت سے الفت و قرب اور ان کے دشمنوں سے اظہارِ براءت کا جامہ پہنا دیا، چنانچہ جلد ہی ایسے لوگ اس کے فریب کا شکار ہو گئے جن کے دلوں میں اسلام ابھی تک پوری طرح جاگزیں نہ ہوا تھا، یہ اعراب تھے، یا نئے نئے حلقہ اسلام میں داخل ہونے والے لوگ، اس طرح ایک نیا دینی فرقہ ظہور پذیر ہو گیا جس کے عقائد سراسر اسلامی حلقہ کے مخالف تھے اور اس کی تمام تر تعلیمات یہودیت سے اخذ شدہ تھیں۔اس فرقے کو اس کے بانی و مؤسس ابنِ سباء کی طرف منسوب کیا جانے لگا اور اسے سبئیہ کا نام دیا گیا، شیعہ نے اپنے کل اصول و عقائد اسی فرقے سے لیے ہیں، اس اعتبار سے شیعہ انہیں پوشیدہ یہودی تعلیمات سے اثر پزیر ہو گئے جن کی دعوت ابنِ سباء یہودی نے دی تھی۔

یہی وجہ ہے کہ علماء کے ہاں یہ بات درجہ شہرت تک پہنچی ہوئی ہے کہ عبداللہ بن سباء ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے رفض کی بدعت کو ایجاد کیا اور یہ رفض یہودیت سے اخذ شدہ شئے ہے۔ 

شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ مجموعہ الفتاویٰ میں فرماتے ہیں:

وقد ذكر اهل العلم ان مبدأ الرفض اى: التشيع كان من الزنديق عبدالله بن سبأ فانه اظهر الاسلام وأبطن اليهودية وطلب ان يفسد الاسلام كما فعل بولس النصرانی الذی كان يهوديا فی افساد دین النصاری

(مجموع الفتاوىٰ، جلد 28، صفحہ، 483) 

اہلِ علم کا بیان ہے کہ رافضیت، یعنی شیعیت کی ابتداء زندیق عبداللہ بن سباء سے ہوئی ہے اس نے بظاہر تو اسلام کا اقرار و اعتراف کیا مگر باطنی طور پر وہ یہودیت سے پیوستہ رہا۔ اس کی دلی آرزو یہ تھی کہ وہ اسلام کے اندر بھی اسی طرح کا بگاڑ پیدا کردے جس طرح کا بگاڑ نصرانی پولس نے اپنی یہودیت پر قائم رہتے ہوئے دینِ نصرانیت میں کر دیا تھا۔

ایک دوسرے مقام پر یوں فرماتے ہیں:

واصل الرفض من المنافقين الزنادقة فانه ابتدعه ابنِ سباء الزنديق واظهر الغلو في على، بدعوة الإمامة والنص عليه، وادعى العصمة له ولهذا كان مبداء من النفاق قال بعض السلف: حب ابی بکر و عمر ايمان وبغضهما نفاق وحب بنی هاشم ایمان وبغضهم نفاق

رافضیت کی اصل بنیاد زندیق منافقون نے فراہم کی ہے، اسے ابنِ سباء زندیق نے ایجاد کیا، بایں طور پر کہ اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق غلو کو اختیار کیا، اس کے ساتھ ان کی منصوص امامت کا اور ان کی عصمت کا بھی دعویٰ ظاہر کیا، لہٰذا اس کی بنیاد ہی نفاق پر استوار ہے۔ بعض سلف صالحین کا قول ہے حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنھما سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی نشانی ہے۔ بنو ہاشم سے محبت ایمان کی دلیل اور ان سے کدورت نفاق کا خاصہ ہے۔

ابنِ سباء کے وجود کی حقیقت کا ثبوت:

دورِ حاضر کے اکثر شیعہ حضرات ابنِ سباء سے لا تعلقی ظاہر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ سراسر وہمی و خیالی شخصیت ہے اور یہ اہلِ السنت والجماعت کی طرف سے شیعہ اثناء عشریہ کے خلاف گھڑا گیا بہتان ہے اور خلاف حقیقت بات شیعہ۔ معاصروں کا یہی مؤقف ہے مگر ہم ثابت کریں گے کہ یہ فرضی و قیاسی شخصیت نہیں بلکہ معتبر شیعی ائمہ، جنہیں شیعوں کے ہاں بہت بڑا مرتبہ اور مقام حاصل ہے شیعہ کی کتب میں اس کی حقیقی شخصیت کی سچائی کو تسلیم کیا گیا ہے۔

انہی اماموں میں سے ایک امام قمی ہے، جس نے ابنِ سباء اور سبئیت کو موضوع بحث بناتے ہوئے اپنی کتاب المقالات والفرق میں لکھا ہے: 

وهذه الفرقة تُسمى السبئية اصحاب عبدالله بن سباء وهو عبدالله بن وهب الراسبی الهمدانی، وساعده على ذالك عبدالله بن حرصی و ابن اسود وهما من أجلة اصحابه وكان اول من اظهر الطعن على ابى بكر و عمر و عثمان و الصحابة و تبرأ منهم۔ (المقالات والفرق، صفحہ 20)

اس فرقہ کا نام سبئیہ ہے۔ جو عبداللہ بن سباء المعروف عبدالله بن وہب الراسبی الہمدانی کے پیروکاروں کا گروہ ہے۔ اس مذہب کی تأسیس میں اس کے دو بڑے ساتھیوں عبداللہ بن حرصی، اور ابنِ اسود نے معاونت فراہم کی، یہ (ابنِ سباء) وہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور (باقی) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعن و طعن کا آغاز اور ان سے برأت کا اظہار کیا ہے۔

ان کے امام نوبختی نے اپنی کتاب فرق الشیعة میں ابنِ سباء کے متعلق یوں لکھا ہے:

وحكى جماعة من اهل العلم من اصحاب على ان عبدالله بن سباء كان يهوديا فاسلم، ووالى عليا وكان يقول وهو على يهوديته فی يوشع بن نون بعد موسىٰؑ بهذه المقالة، فقال فی اسلامه ای بعد ان اسلم عبدالله بن سباء- قال فی اسلامه بعد وفاة النبی صلى الله عليه وسلم فى على بمثل ذالك۔ (فرق الشيعة، صفحہ 22)

صفحہ 1 از 3