شہید بالاکوٹ حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ:
حضرت مولانا شاہ اسماعیلؒ شہید ہمارے مقتدا و پیشوا ہیں، فرماتے ہیں:
سلطانِ کامل حکمی خلیفہ راشد ہے، یعنی اگرچہ خلافتِ راشدہ تک نہیں پہنچا، لیکن خلافتِ راشدہ کے عمدہ آثار بعض ظواہرِ شریعت کی خدمت صدق و اخلاص سے اس سے صادر ہوں سلطانِ کامل، سلاطین اور خلفائے راشدینؓ کے درمیان ایک برزخ کی طرح ہے۔ اگر لوگ دیگر سلاطین کو دیکھیں تو اس سلطانِ کامل کو خلیفہ راشد تصور کریں اور اگر خلفائے راشدینؓ کا حال معلوم کریں تو اسے سلطانِ کامل سمجھیں۔ چنانچہ سلطانِ شام یعنی (حضرت امیرِ معاویہؓ) نے فرمایا:
لَستُ فِیکُم مِثلَ أَبِی بَکرٍ وَ عُمَرَ، وَلٰکِن سَتَرَونَ أُمَرَاءَ مِن بَعدِی
ترجمہ: میں تم میں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ جیسا حکمران تو نہیں ہوں، لیکن میرے بعد عنقریب امیر دیکھو گے۔
بنا بریں اس کی سلطنت کا زمانہ نبوت اور خلافتِ راشدہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے پس اس وجہ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ خلافتِ راشدہ کے زمانے کی ابتداء سے اس سلطنتِ کاملہ کے زمانے کے گزر جانے تک ترقیِ اسلام کا زمانہ ہے۔
(منصبِ امامت: صفحہ147، 149 فصل دوم، تحت: سلطانِ کامل اور دیگر سلاطین میں فرق، نکتہ دوم)