لوگوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تڑپ
علی محمد الصلابیحضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ جب کوئی نماز پڑھتے تو کچھ دیر لوگوں کے لیے بیٹھے رہتے۔ اگر کسی کو کوئی ضرورت ہوتی تو اس پر غور کرتے۔ ایک مرتبہ نماز پڑھنے کے بعد نہیں بیٹھے، میں آپ کے دروازے پر آیا اور کہا: اے یرفا! کیا امیر المؤمنین کو کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، میں ابھی پوچھ ہی رہا تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آ گئے، اور یرفا اندر گیا، پھر باہر ہمارے پاس آیا اور کہا: اٹھیے چلیے، اے ابنِ عفان! اٹھیے چلیے اے ابن عباسؓ ہم دونوں حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے، دیکھا تو آپؓ کے سامنے مال کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: میں نے نگاہ دوڑائی لیکن مدینہ میں تم دونوں سے بڑا خاندان کسی کا نظر نہیں آیا، لہٰذا اس مال کو لے جاؤ اور لوگوں میں تقسیم کر دو، اور اگر کچھ بچ جائے تو واپس لوٹا دو، ابنِ عباسؓ کا کہنا ہے کہ میں دو زانو ہو کر بیٹھ گیا اور کہا: اور اگر کم ہو گیا تو کیا آپ پورا کریں گے؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ مالداروں کا یہی مزاج ہوتا ہے
(الشیخان بروایت بلاذری: صفحہ: 221)
حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ روٹی کے ٹکڑے کھاتے تھے؟ میں نے کہا: اگر اللہ نے آپﷺ کے لیے بھی فتوحات کی وسعت کی ہوتی تو جیسا آپ کرتے ہیں ویسا وہ نہ کرتے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: آپﷺ کیا کرتے؟ میں نے کہا: تب آپ خود کھاتے اور ہمیں بھی کھلاتے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر حضرت عمرؓ دھاڑیں مار کر رونے لگے یہاں تک کہ ہچکیاں بندھ گئیں، اور کہنے لگے: میں چاہتا ہوں کہ اس معاملہ خلافت سے برابر برابر چھوٹ جاؤں، نہ مجھ پر کسی کا حق رہے اور نہ میرا حق کسی پر باقی رہے۔
(الشیخان بروایت بلاذری: صفحہ 221)
حضرت سعید بن مسیبؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مالِ غنیمت میں ایک اونٹ ملا، حضرت عمر فاروقؓ نے اسے نحر (ذبح) کیا، اور اس کا کچھ گوشت ازواجِ مطہراتؓ کے پاس بھیج دیا، اور باقی کو پکوا کر اسے کھانے کے لیے مسلمانوں کی ایک جماعت کو دعوت دی، اس میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بھی تھے، حضرت عباسؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپؓ روزانہ ایسے ہی انتظام کرتے تو ہم آپ کے پاس کھاتے اور باتیں کرتے۔ حضرت عمر نے فرمایا: میں دوبارہ ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ میرے دونوں ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ) گزر گئے، اور انہوں نے ایک طریقہ اور نمونہ چھوڑا ہے، اگر میں نے ان کے نمونہ و طرز عمل سے ہٹ کر کوئی کام کیا تو میری پیروی میں ان دونوں کی مخالفت کی جائے گی۔
(الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 288، الشیخان بروایت بلاذری: صفحہ 222)
حضرت عمرؓ کے غلام اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا عمرؓ نے ایک مرتبہ اپنے ایک غلام کو حکومتی چراگاہ کی رکھوالی پر مامور کیا اور کہا: مسلمانوں پر رحم کرنا، مظلوم کی بددعا سے بچنا، کیونکہ وہ مقبول ہوتی ہے، اونٹ اور بکری کے چھوٹے چھوٹے مالکان کو اس سے مت روکنا البتہ ابنِ عوف اور ابنِ عفان کے مویشیوں کو اس میں داخل نہ ہونے دینا اس لیے کہ اگر ان دونوں کے مویشی ہلاک ہو گئے تو وہ دونوں کھیتی اور باغات میں لگ جائیں گے اور اگر عام لوگوں کے مویشی ہلاک ہو گئے تو وہ اپنے بال بچوں کو لے کر ہمارے پاس آئیں گے اور کہیں گے: اے امیر المؤمنین کیا میں ان کو چھوڑ کر بھاگ جاؤں لہٰذا ان کے لیے پانی اور گھاس کا مہیا کرنا، درہم و دینار مہیا کرنے کے مقابلے میں آسان ہے۔ اللہ کی قسم! وہ سوچتے ہیں کہ میں نے ان پر ظلم کیا ہے، حالانکہ چراگاہیں انہی کے شہروں کی ہیں، جاہلیت کی زندگی میں انہوں نے اس کے لیے لڑائی کی ہے، اور جب اسلام قبول کیا تو یہ انہیں کے پاس تھیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر فی سبیل اللہ کے جانوروں کی حفاظت کی ذمہ داری نہ ہوتی تو ان کے شہروں کی ایک بالشت برابر زمین بھی حکومتی چراگاہ کے لیے خاص نہ کرتا۔
(تاریخ الذہبی: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 272)
موسیٰ بن انس بن مالک سے روایت ہے کہ سیرین، یعنی محمد بن سیرین کے باپ نے حضرت انسؓ سے مکاتبت (مکاتبہ کا مطلب ہے کہ غلام اپنے مالک سے معاہدہ کر لے کہ میں اتنی رقم جمع کر کے ادا کر دوں گا تو آزادی کا مستحق ہو جاؤں گا۔ مترجم) کی درخواست کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، ان کے پاس کافی دولت تھی، سیرینؒ حضرت عمرؓ کے پاس پہنچے، اور کہا: میں نے مکاتبت کا مطالبہ کیا، لیکن انس نے انکار کر دیا، حضرت عمرؓ نے انہیں دُرّے کی ضرب لگائی، اور اس آیت کی تلاوت کرنے لگے:
فَكَاتِبُوۡهُمۡ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِيۡهِمۡ خَيۡرًا ۞(سورۃ النور آیت 33)
ترجمہ: ’’تو تم آزادی کی تحریر انہیں دیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو۔‘‘
پھر انسؓ نے سیرین سے مکاتبت کر لی۔
(محض الصواب: جلد 3 صفحہ 975 )
آخر الذکر واقعہ میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک غلام اپنی آزادی کا مطالبہ کر رہا ہے اور اس کا آقا انکار کر رہا ہے اور حاکمِ وقت انصاف کرتے ہوئے غلام کی رائے کو نافذ کراتا ہے اور آقا کی بات کو چھوڑ دیتا ہے۔ ذرا سوچو! کہ تاریخ کے طول و عرض میں کیا ایسی کوئی مثال ملتی ہے۔
(شہید المحراب: صفحہ 222)