Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خطبہ امیر علیہ السلام اپنے شیعوں کی مذمت میں

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

جو امر گزر گیا اور جو فعل مقدر مشخص کر دیا ہے میں اس پر خدا کی حمد کرتا ہوں اور اس پر بھی اس کی تحمید و تقدیس کرتا ہوں کہ مجھے تمہارے ساتھ مبتلا کیا اے میرے حکم کی اطاعت نہ کرنے والے اور دعوت قبول نہ کرنے والے گروہ! اگر تمہیں دشمن سے مہلت ملتی ہے تو لہو و لعب اور ہوا و ہوس میں مشغول ہو جاتے ہو، اور جب دشمن سے جنگ کا وقت آتا ہے تو کمزور و سست ہو جاتے ہو اگر لوگ اپنے امام کے پاس جمع ہوں تو تم میں تفرقہ پڑ جاتا ہے اگر کسی مشقت کی طرف بلانے والی کیسی آواز کو قبول کرتے بھی ہو تو پھر بہت جلدی رجعتِ قہقہری مر جاتے ہو تمہارے دشمن کے لیے کوئی مربی باقی نہ رہے وہ جہاد جو تمہارے ذمے واجب ہے اس میں نصرت حاصل کرنے کے لیے تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو وہ تمہاری موت اور ذلت ہے۔ تم جہاد نصرت میں سستی کاہلی سے کام لے رہے ہو اس کا انجام خواری اور ذلت ہے خدا کی قسم! اگر میرا روزِ موعود (موت) آ جائے اور وہ ضرور آئے گا تو وہ ایسی حالت میں میرے اور تمہارے درمیان تفرقہ بازی کرے گا کے میں تمہاری مصاحبت کے لیے دشمن ہوں گا اور تمہارے سبب سے کیسی قسم کی قوت و شوکت مجھے حاصل نہ ہوگی تم میری زندگی تک مجھ سے برگشتہ رہو گے مجھے دشمن سمجھو گے اور تمہارے سبب سے میں صاحب شوکت نہ ہوں گا خدا کے بندو کیا دین میں اتنی بندش کی قوت نہیں کے تمہیں ایک جگہ جمع کر دے اپنے امثال و اوران کو بھی دیکھ کر حمیت و غیرت نہیں آتی (جو تمہیں مدافعہ دشمن کے لیے) تیز و طرار کر سکے کیا یہ مقامِ نصیحت نہیں کے امیرِ معاویہؓ نہایت ہی سفیہہ ستم گروں کو ہلاتا ہے اور وہ بغیر کسی قسم کے احسان و انعام و بخشش کے اس کی متابعت کرتے ہیں اور میں تمہیں انعام اور احسان کے ٹکڑوں کی طرف بلا رہا ہوں حالانکہ تم اہلِ اسلام کے خلف ہو معقول انسانوں کی اولاد ہو مگر پھر بھی مجھ سے متفرق ہوتے ہو اور برابر مجھ سے اختلاف کیے جاتے ہو میرا کوئی حکم تمہارے لیے ایسا کوئی صادر نہیں ہوا جو مؤجب خوشنودی ہو اور تم اس پر رضامند ہو جاؤ اور نہ کوئی ایسی چیز جو باعثِ غفلت ہو اور تم اس پر اجتماع کر لو میرا کوئی امر و نہی خواہ تمہیں پسند ہو یا ناپسند مگر اس سے لامحالہ انحراف کرو گے اور یاد رکھو کہ بہترین شئی جس کی ملاقات کا مجھے اشتیاق ہے میرے نزدیک موت ہے (کیونکہ میں اس کے سبب سے تمہاری بے جا مخالفتوں سے نجات پاکر بہشت بریں کے سیر کروں گا) میں نے تمہیں کتابِ خدا کا سبق دیا، تمہاری تعلیم میں حجت و برہان کے ساتھ ابتداء کی تمہیں اس چیز کو پہنچا دیا جس کا تم انکار کرتے تھے جس سے تم جاہل تھے میں نے تمہیں وہ چیز (شرابِ معارفِ دینیہ پلا دی) جس سے تم اپنے لب دور رکھتے تھے جو تمہیں ناگوارِ خاطر تھی۔

(نہج البلاغہ مطبوعہ طہران: صفحہ، 243)

اس خطبہ اور ہمچو قسم دیگر خطبات سے پتہ چلتا ہے کہ جنابِ امیر علیہ السلام اپنے وقت کے شیعوں سے کس قدر نالاں تھے کہ ان کی مصاحبت پر موت کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ ان کا کوئی حکم نہ مانتے تھے اور ہر ایک کام میں نافرمانی کرتے تھے آپ کے وعظ و تذکیر کا ان کے دلوں پر مطلق تاثیر نہ ہوتی تھی، اور نہ ہی انعام و اکرام سے ان کے سنگین دل نرم ہوتے تھے۔