سیدنا حسینؓ کی گستاخی، خاتمہ بالخیر سے محرومی
مولانا اقبال رنگونیالحمد للہ والسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ، اما بعد!
اس بات سے کس مسلمان کو انکار کی جرأت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا حسینؓ کو بڑی شان و عظمت عطا فرمائی تھی اور ہر مسلمان کے دل میں آپؓ کی عزت و عظمت پوری طرح قائم ہے اور آپ کی مسافرانہ و مظلومانہ شہادت پر افسردہ و غمزدہ بھی ہے اللہ رب العزت انہیں اپنی شایانِ شان رضا عطا فرمائے۔ آمین۔
1: سیدنا حسینؓ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے حضورِ اکرمﷺ کی زیارت کا نہ صرف یہ کہ شرف حاصل کیا تھا بلکہ آپ کو ہمہ وقت حضورِ اکرمﷺ کی صحبت ہر طرح سے حاصل تھی اس لحاظ سے وہ تمام کمالات و مراتب اور مقام و مرتبہ جو حضور اکرمﷺ کے کسی بھی صحابی کو حاصل تھا وہ سیدنا حسینؓ کو بھی بدرجہِ اتم حاصل تھا اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے اپنی رضا، مغفرت اور جنت کا وعدہ فرمایا ہے، اس لیے جو شخص آپ کے اس مقام کا انکار کر کے اپنے دل کا کینہ نکالتا ہے وہ یقیناً ان لوگوں میں سے نہیں ہے جو اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ خاتمہ بالخیر کی سعادت کس طرح پا سکتے ہیں۔
2: سیدنا حسینؓ کو یہ سعادت بھی حاصل تھی کہ وہ حضورِ اکرمﷺ کی سب سے پیاری بیٹی سیدہ فاطمہؓ کے دوسرے لختِ جگر ہیں اور آپ کو حضورِ اکرمﷺ کے نواسے اور ریحانہ ہونے کا شرف بھی ہے۔ اس طرح آپ اس گھرانے میں سے ایک ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نجس سے دور کر دیا ہے اور اللہ نے چاہا ہے کہ ان کو خوب پاک کر دے پھر آپ ان میں سے بھی ہیں جنہیں اللہ کے نبی کریمﷺ نے اپنے ساتھ ایک چادر میں لیا اور اللہ سے خصوصی دعا فرمائی اور کہا: اے اللہ! یہ میرے خاص گھر والے ہیں، ان سے رجس کو دور کر دے اور انہیں خوب پاک کر دیں سیدنا حسینؓ کو صحابیت کی سعادت کے ساتھ یہ دوسری بھی فضیلت حاصل ہوئی کہ وہ اہلِ بیتِ نبوت میں سے ایک ہوئے اور اہلِ بیتِ نبوت کی شان اور ان کی عظمت اس طرح حضورِ اکرمﷺ نے بیان فرمائی ہے اس کے ہوتے ہوئے کس کم بخت میں یہ جرأت ہے کہ وہ سیدنا حسینؓ کی عزت و عظمت پر حملہ کرے، ان کی ذات کو نشانہ بنائے؟ سو جو شخص یہ جاننے کے باوجود کہ آپ پیغمبرِ خاتمﷺ کے نواسے و شہزادے ہیں، پھر بھی آپ کے بارے میں زبان دراز کرے، تو اس کے خاتمہ بالشر ہونے میں کسے کلام ہو سکتا ہے۔
3: سیدنا حسینؓ کو پھر یہ شرف بھی حاصل ہے کہ جس طرح سیدہ فاطمہؓ آپ کی تمام صاحبزادیوں میں سب سے چہیتی صاحبزادی ہیں، اس طرح باقی تمام بچوں میں سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھے اور آپﷺ بار بار ان سے اپنی محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھنا، ان سے محبت رکھنا مجھ سے محبت رکھنا ہے اور جو ان سے محبت کرے گا اللہ بھی اسے اپنا محبوب بنائے گا۔ اور جو ان سے بغض اور کینہ رکھے گا تو پھر میرا اس سے کوئی تعلق نہ ہوگا، اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنا تعلق نہ رکھیں گے۔ اب اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان کہیں اور حضورِ اکرمﷺ سے محبت رکھنے کا دعویٰ بھی کریں، مگر آپﷺ کے محبوب کے بارے میں زبان درازی و بے ہودہ گفتگو کریں اور آپ کی شہادت کو متنازع بنا کر آپ ہی کو اس کا مجرم بنانے کی کوشش کریں، تو کیا اس سے حضورِ اکرمﷺ کو تکلیف نہیں ہوگی؟ اور کیا قرآن نے یہ بات نہیں کہی کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولﷺ کو ایذاء دیتے ہیں، (ان کے بارے میں نازیبا، ناشائستہ اور ناگفتہ بہ بولتے اور لکھتے ہیں)، اللہ کی ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت اترے گی اور ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے۔
غور کیجیے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قبیح ترین کرتوتوں کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں (لعنت یعنی) اپنی رحمت سے دور کر دیا، تو ایسے لوگ کس طرح خاتمہ بالخیر کی سعادت پا سکیں گے؟
4: سیدنا حسینؓ کا ولی اللہ ہونا ہر شک و شبہ سے بالا ہے اور اللہ تعالیٰ نے حدیثِ قدسی میں فرمایا ہے:
جس نے میرے ولی سے عداوت رکھی، میری طرف سے اس کے ساتھ اعلانِ جنگ ہے اور جنگ کے اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ فریقِ مخالف کی ہر قیمتی سے قیمتی چیز تباہ کر دی جائے۔ اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ سب سے قیمتی چیز جان ہے، کہ فریقِ مخالف کو گرا دیا جائے اور اسے ختم کر کے فتح حاصل کر لی جائے جب اللہ تعالیٰ نے اپنی ولی کے دشمنوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ جنگ اللہ ہی جیتے گا اور اس کی سب سے قیمتی چیز لے کر اس کو تباہ کر دے گا یہ قیمتی چیز اس کا ایمان ہے جس سے ایک انسان آخرت میں نجات پائے گا اور اس جہان کی نعمتوں اور فرحتوں سے مالا مال ہوگا اب اگر یہی قیمتی دولت اللہ کے ولی کی عداوت اور زبان درازی کی وجہ سے اس سے چھین لی گئی، تو ایمانداری سے بتائیے کہ وہ کس طرح خاتمہ بالخیر کی سعادت پا سکتا ہے؟
وہ تمام لوگ جو اپنی چرب زبانی اور قلم کی روانی کی وجہ سے سیدنا حسینؓ اور دیگر اہلِ بیتِ نبوت، ازواج، بناتِ مطہرات، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عزت و عظمت پر حملہ آور ہیں، اگر وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو سوچیں کہ وہ اپنے اس فعل سے کیا سیدنا حسینؓ کو کٹہرے میں کھڑا کر کے ان کے خلاف جرائم کی فہرست بتا رہے ہیں، یا وہ سیدنا حسینؓ کے نانا، اللہ کے آخری پیغمبر جناب رسول اللہﷺ کو بھی تکلیف پہنچا رہے ہیں؟ اور نہیں جانتے کہ اس کا انجام کس قدر خوفناک ہوگا۔
اسلام اس بات سے منع نہیں کرتا کہ آپ تحقیق کے میدان میں اتریں اور تاریخ کا تنقیدی مطالعہ کر کے سچ اور جھوٹ کو سامنے لائیں لیکن تحقیق اور تاریخ کی ایک حد ہے جس تحقیق اور تاریخ سے اللہ اور اس کے رسولﷺ اور ان کے گھر والوں، جانشینوں اور ہم نشینوں کی شرافت و دیانت اور ان کی عزت و عظمت پر ذرہ بھی آنچ اور حرف آتا ہو، ایسی تحقیق پر دو بول پڑھ کر اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دینا چاہیے، نہ کہ اسے تحقیق اور ریسرچ کا نام دے کر ان قدسی صفات حضرات کی ذات اور ان کی دینی خدمات کو مشکوک اور مجروح بنا دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اہلِ بیتِ عظام کی محبت، عظمت اور عقیدت کو اور راسخ فرمائے اور ہماری زبان اور ہمارے قلم کو مقبولانِ الٰہی کی گستاخی اور توہین سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
وَ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى وَسَلَّمَ عَلَى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَرَحْمَةٍ لِلْعَالَمِينَ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
