قرآن کریم کا سات لہجوں میں نزول
شیخ محمد صالحمیں نے یہ پڑھا ہے کہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تاکہ وہ قرآن مجید اکٹھا کرے، لیکن یہ نصِ (عثمانی) ایک قرأت پر ہی موحد نہیں، اس لیے کہ پہلی عربی زبان میں حروفِ علت نہیں تھے، اور اسی طرح کچھ حروفِ صحیحہ بھی اس شکل میں نہیں تھے، اور مختلف حروف میں فرق کرنے کے لیے کچھ علامات ایجاد کی گئيں، لیکن یہ سب کچھ قرآن مجید کی مختلف قرآت کو نہ روک سکا۔
تو دسویں صدی کے نصف میں بغداد میں قرآت کے امام ابنِ مجاھدؒ نے اس مشکل کو حل کرنے کے متعلق کہا کہ کلمہ الحرف قرأۃ کی جگہ لے سکتا ہے اور اس بات کا اعلان کیا کہ ان کے خیال میں قرأتِ سبعہ صحیح ہیں اس لیے کہ نبی کریمﷺ کا یہ قول کہ قرآن مجید سات حرفوں میں نازل ہوا ہے، کا معنیٰ یہ ہے کہ:
قرآن مجید کی قرآت میں سات طریقے ہیں۔
اور ان دنوں میں قرآن کریم کی مشہور اور جو قرآت چل رہی ہیں وہ ورش، نافع، اور حفص عن عاصم ہیں۔
آپ سے میری گزارش ہے کہ ان مختلف قرآت کے متعلق بتائیں کہ کیا اس کے متعلق کوئی صحیح احادیث پائی جاتی ہیں؟
جواب:
پہلی:
اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق سے نوازے آپ کو یہ علم ہونا چاہیے کہ شروع میں قرآن مجید صرف ایک ہی حرف (لہجہ) میں نازل ہوا لیکن نبی اکرمﷺ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے زیادہ کا مطالبہ کرتے رہے حتیٰ کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو سات لہجوں میں جو کہ کافی و شافی ہیں قرآن مجید پڑھایا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:
سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے قرآن مجید ایک لہجہ میں پڑھایا تو میں ان سے زیادہ مطالبہ کیا تو انہوں نے زيادہ کر دیا تو میں مطالبہ کرتا رہا اور وہ زیادہ کرتے رہے حتیٰ کہ سات لہجوں میں جا کر ختم ہوا۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر، 3047 صحیح مسلم: حدیث نمبر، 819)
دوسری:
الاحرف کا معنیٰ کیا ہے؟
اس کے معنیٰ میں سب سے اچھا اور بہتر قول یہ ہے کہ قرآت کے سات طریقے جو لفظی طور پر مختلف ہیں اور معنیٰ میں متفق اور اگر ان کے معانی میں اختلاف بھی ہو تو یہ اختلاف تنوع اور تغایر ہے نہ کہ اختلافِ تعارض اور تضاد۔
اور حرف کا لغوی معنیٰ وجہ کا ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:
ترجمہ: اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہے جو ایک کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر اسے (دنیا میں) کوئی فائدہ پہنچ گیا تو وہ اس سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اگر اسے کوئی آزمائش پیش آ گئی تو وہ منہ موڑ کر (پھر کفر کی طرف) چل دیتا ہے۔ ایسے شخص نے دنیا بھی کھوئی، اور آخرت بھی۔ یہی تو کھلا ہوا گھاٹا ہے۔
(سورۃ الحج: آیت 11)
تیسری:
بعض علماء کا کہنا ہے کہ: الاحرف کا معنیٰ عرب کی لغات ہے، لیکن یہ معنیٰ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بناء پر صحیح نہیں وہ کہتے ہیں۔ کہ:
میں نے سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان اپنی قرآت کے علاوہ کسی اور قرآت میں پڑھتے ہوۓ پايا اور رسول اللہﷺ نے یہ سورت مجھے پڑھائی تھی، میں قریب تھا کہ اس پر جلد بازی کرتا لیکن میں نے اسے وقت دیا حتیٰ کہ اس نے وہ سورۃ ختم کر لی، پھر میں نے اسے اس کی چادر سے پکڑا اور نبی کریمﷺ کے پاس لایا اور کہنے لگا اے اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ میں نے اسے سورۃ فرقان اس طرح پڑھتے ہوئے پایا جو کہ آپﷺ نے مجھے پڑھائی تھی اس کے خلاف ہے۔
تو رسول اکرمﷺ فرمانے لگے پڑھو تو اس نے اسی طرح وہ پڑھی جس طرح میں نے اسے سنا تھا تو نبی کریمﷺ فرمانے لگے اسی طرح نازل ہوئی ہے، پھر مجھے کہنے لگے کہ تم پڑھو تو میں نے بھی پڑھی اور آپﷺ فرمانے لگے کہ اسی طرح نازل ہوئی ہے، یقیناً قرآن مجید سات حرفوں (لہجوں) میں نازل کیا گیا ہے تو تم جو بھی اس میں میسر ہو پڑھو۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر، 2287 صحیح مسلم: حدیث، 818)
اور یہ معلوم ہے کہ سیدنا ہشام رضی اللہ عنہ قریش میں سے اسدی ہیں اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قریش میں عدوی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، اور دونوں ہی قریشی ہیں اور قریش کی تو ایک ہی زبان و لغت ہے، تو اگر حروف کا اختلاف لغات میں اختلاف ہوتا تو یہ دونوں قریشی صحابی آپس میں اختلاف نہ کرتے۔
اور اس مسئلہ میں علماء کرام نے چالیس کے قریب اقوال نقل کئے ہیں، اور ان میں سے راجح قول شائد وہی ہے جو کہ ہم نے ذکر کیا ہے واللہ اعلم۔
چوتھی:
حدیثِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حروف متعدد الفاظ میں نازل ہوئے اس لیے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا انکار حروف میں تھا نہ کہ معانی میں، اور پھر یہ حروف میں اختلاف اختلافِ تضاد نہیں بلکہ اختلافِ تنوع ہے جیسا کہ سیدنا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ:
(یہ اسی طرح ہے کہ جس طرح آپ یہ کہیں کہ ھلم، اقبل، تعال) ان کا معنیٰ ایک ہی ہے۔
پانچویں:
اب رہی قرآت سبعہ کی تحدید تو یہ تحدید قرآن و سنت میں سے نہیں کی گئی بلکہ ابنِ مجاہد رحمۃ اللہ کا اپنا اجتہاد ہے، تو لوگ یہ گمان کرنے لگے ہیں کہ سات حروف سے قرآتِ سبعہ ہی مراد ہے اس لیے کہ یہ تعداد میں ایک جیسے ہی ہیں۔
یہ عدد یا تو اتفاقی طور پر اور یا پھر ان سے قصداً ہیں تاکہ یہ تعداد احرفِ سبعہ سے مطابقت اختیار کر لے اور بعض لوگوں کا جو یہ گمان ہے کہ احرفِ سبعہ سے مراد یہی قرآت سبعۃ ہے تو یہ ان کی غلطی ہے، اور اہلِ علم سے یہ بات معروف نہیں۔
بلکہ قرآت سبعۃ احرف سبعۃ میں سے ایک حرف ہے اور یہی وہ حرف ہے جس پر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کیا تھا۔
چھٹی:
حضرت عثمانِ غنیؓ نے جب مصحف نسخ کیا تو اسے ایک ہی حرف پر تیار کیا لیکن انہوں نے اس پر نقطے اور اعراب (زیر، زبر وغیرہ) نہ لگائے تاکہ اس رسم میں وسعت رہے اور دوسرے لہجات (حروف) کا بھی احتمال رہے تو جو اس میں رہا اس کی قرآت بن گئی اور جو نہ تھا اس کو نسخ کر دیا گيا، اور یہ کام اس لیے ہوا کہ قرآت میں لوگ اختلاف کرنے لگے تو سیدنا عثمانِ غنیؓ نے انہیں ایک نسخہ پر جمع کر دیا تاکہ اختلاف ختم ہو۔
ساتویں:
آپ کا سوال میں یہ کہنا کہ مجاہد رحمۃ اللہ کا گمان ہے کہ قرآت حرف کی جگہ میں ہے، تو یہ قول غیر صحیح ہے جیسا کہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیۃ رحمۃ اللہ نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔
(مجموعہ فتاویٰ: جلد، 13 صفحہ، 210)
اور قراء سبعہ کے نام مندرجہ ذيل ہیں:
1: نافع المدنی رحمۃ اللہ
2: ابنِ کثیر المکی رحمۃ اللہ
3: عاصم الکوفی رحمۃ اللہ
4: حمزہ زیات الکوفی رحمۃ اللہ
5: الکسائی الکوفی رحمۃ اللہ
6: ابو عمرو بن علاء البصری رحمۃ اللہ
7: عبداللہ بن عامر الشامی رحمۃ اللہ
ان سب میں سے قرآت کی سند کے اعتبار سے قوی نافع اور عاصم ہیں۔ اور ان میں سے فصیح ابوعمرو اور کسائی ہیں۔ اور نافع سے ورش اور قالون روایت کرتے ہیں۔ اور عاصم سے حفص اور شعبہ روایت کرتے ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم