شمر اور عبیداللہ بن زیاد کی ضد اور ہٹ دھرمی - دفاعِ اہلِ…

شمر اور عبیداللہ بن زیاد کی ضد اور ہٹ دھرمی

  مولانا اقبال رنگونی

چنانچہ عمرو بن سعد نے ان کی بات قبول کر لی اور یہ معاملہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا ممکن تھا کہ معاملہ یہیں رک جائے، لیکن شمر بن ذی الجوشن نے سختی سے ان تجاویز کو مسترد کیا اور کہا کہ جب تک یہ تمہاری بات نہیں مانیں گے انہیں یزید کے پاس نہیں بھیجا جا سکتا چنانچہ یہ تجاویز عبیداللہ بن زیاد کے پاس بھیجی گئیں شمر نے عبیداللہ بن زیاد سے کہا کہ عمرو بن سعد سیدنا حسینؓ سے جنگ کرنے میں تامل کر رہا ہے اور یہ سیدنا حسینؓ کے ساتھ فوجوں کے درمیان بیٹھ کر آپس میں گفتگو بھی کرتے ہیں اس لیے تمہیں چاہیے کہ تم ان سے کہو کہ جب تک وہ آپ کا حکم نہیں مانیں گے، ان کی کوئی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ (البدایہ: جلد 8 صفحہ 1040 مترجم)

چنانچہ عبیداللہ بن زیاد نے حکم بھیجا کہ سیدنا حسینؓ سب سے پہلے اپنے آپ کو میرے حوالے کریں، پھر بات آگے چلے گی اور شمر سے کہا کہ اگر عمرو بن سعد نے ان سے جنگ کرنے میں تاخیر کی تو تم عمرو بن سعد کو قتل کر دینا اور اس کی جگہ سنبھال لینا۔  

(البدایہ: جلد 8 صفحہ 149 مترجم)

سیدنا حسینؓ نے یہ بات قبول نہ فرمائی ظاہر ہے کہ اب جنگ کے سوا اور کون سا راستہ نکل سکتا تھا۔

شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ (728ھ) لکھتے ہیں:  

أَرَادَ الرُّجُوعَ فَأَدْرَكَتْهُ السَّرِيَّةُ الظَّالِمَةُ، فَطَلَبَ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى يَزِيدَ، أَوْ يَذْهَبَ إِلَى الثَّغْرِ، أَوْ يَرْجِعَ إِلَى بَلَدِهِ، فَلَمْ يُمَكِّنُوهُ مِنْ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَسْتَأْسِرَ لَهُمْ، فَامْتَنَعَ، فَقَاتَلُوهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا مَظْلُومًا رَضِی اللَّهُ عَنْهُ۔  

(المنتقی: صفحہ 268،  منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 557،  جلد 6، صفحہ 340)

سیدنا حسینؓ نے کربلا سے واپس لوٹ جانے کا ارادہ کیا تو ظالم لشکر نے آپ کو روک لیا آپ نے یزید کے پاس جانے کی مہلت طلب کی، یا سرحد کی طرف چلے جانے یا پھر اپنے شہر مدینہ لوٹ جانے کی پیشکش کی، مگر انہوں نے آپ کی ایک بات قبول نہ کی اور کہا کہ پہلے آپ ان کے قیدی بن جائیں۔ مگر آپ نے اپنے آپ کو ان کے حوالے کرنے اور عبیداللہ بن زیاد کے پاس جانے سے صاف انکار کر دیا اور جنگ کی۔ یہاں تک کہ آپ کو قتل کر دیا گیا اور شہیدِ مظلوم ہو گئے۔ رضی اللہ عنہ۔

شارحِ صحیح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانیؒ(852ھ) لکھتے ہیں:  

قَالَ لَهُ الْحُسَيْنُ: اخْتَرْ مِنِّی إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِثَغْرٍ مِنَ الثُّغُورِ، وَإِمَّا أَنْ أَرْجِعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَإِمَّا أَنْ أَضَعَ يَدِی فِی يَدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَبِلَ ذَلِكَ عُمَرُ مِنْهُ، وَكَتَبَ بِهِ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ لَا أَقْبَلُ مِنْهُ حَتَّى يَضَعَ يَدَهُ فِی يَدِی، فَامْتَنَعَ الْحُسَيْنُ، فَقَاتَلُوهُ فَقُتِلَ مَعَهُ أَصْحَابُهُ وَفِيهِمْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَابًّا مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ الخ۔ 

(الاصابہ: جلد 1 صفحہ 333)

مؤرخ ابنِ جریر طبری نے تاریخ میں  

(دیکھیے جلد 4 صفحہ 207)  

حافظ ابنِ عساکرؒ نے اپنی تاریخِ دمشق میں  

امام شمس الدین ذہبیؒ (748ھ) نے سیر اعلام النبلاء  

(دیکھیے جلد 3 صفحہ 210)  

میں بھی مذکورہ بیان نقل کیا ہے۔