فتح افریقہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی جواں مردی
علی محمد الصلابیکافی دنوں سے افریقہ سے مسلمانوں کی کوئی خبر نہ پہنچ سکی جس کی وجہ سے آپ فکر مند ہوئے، اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ایک دستہ کے ساتھ روانہ کیا تاکہ وہاں سے کچھ خبر لائیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے پوری مستعدی کے ساتھ سفر جاری رکھا اور مسلمانوں کے پاس افریقہ پہنچ گئے جب آپ وہاں پہنچے تو شور مچ گیا اور مسلمانوں نے تکبیر پکاری۔ جرجیر نے دریافت کیا یہ آواز کیسی ہے؟ اس کو بتایا گیا کہ مدینہ سے مسلمانوں کو کمک پہنچی ہے چنانچہ اس خبر سے وہ حواس باختہ ہو گیا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ مسلمان صبح سے ظہر تک لڑتے ہیں، اور ظہر کی اذان ہوتے ہی فریقین اپنے اپنے خیموں میں واپس ہو جاتے ہیں پھر جنگ بند ہو جاتی ہے۔ دوسری صبح آپؓ نے جنگ میں شرکت کی تو حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے ساتھ نہیں پایا، لوگوں سے دریافت کیا تو پتہ چلا کہ جرجیر نے اعلان کر رکھا ہے کہ جو حضرت عبداللہ بن سعدؓ کو قتل کر دے اس کو ایک لاکھ دینار انعام دوں گا اور اپنی بیٹی سے اس کی شادی کروں گا، جس کی وجہ سے حضرت عبداللہ بن سعدؓ اپنے لیے خطرہ محسوس کر رہے ہیں اور ظاہر نہیں ہو رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما حضرت عبداللہ بن سعدؓ کے پاس پہنچے اور ان سے کہا: آپ یہ اعلان کرائیں کہ جو شخص جرجیر کا سر لے کر آئے گا اس کو ایک لاکھ دینار دیا جائے گا اور جرجیر کی بیٹی سے اس کی شادی کرا دی جائے گی، اور اس کے ملک پر اس کو گورنربنا دیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے ایسا ہی کیا جس کا یہ اثر ہوا کہ جرجیر عبداللہ بن سعدؓ سے زیادہ خوفزدہ ہوا اور اپنے لیے شدید خطرہ محسوس کرنے لگا۔
پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن سعدؓ سے کہا: موجودہ شکل میں جنگ طول کھینچے گی، یہ لوگ اپنے ملک میں ہیں اور برابر ان کو امداد ملتی رہتی ہے جب کہ ہم اپنے ملک اور مسلمانوں سے دور ہیں، لہٰذا میری رائے ہے کہ کل کچھ صالح افراد کو جنگ میں نہ شریک کر کے خیموں میں تیار رہنے دیں اور ہم دشمن کی صف میں گھس کر گھمسان کی جنگ کریں یہاں تک کہ وہ تھک ہار جائیں، اور جب فریقین اپنے خیموں میں واپس ہو جائیں تو جو لوگ جنگ میں شریک نہ ہو کر خیموں میں تیار بیٹھے تھے ہم ان کے ساتھ اچانک دشمن پر ہلہ بول دیں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح ہمیں فتح و نصرت سے ہمکنار فرمائے۔
حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے اکابرین صحابہؓ کی ایک جماعت کو جمع کیا اور اس سلسلہ میں ان سے مشورہ لیا، تمام لوگوں نے اس رائے پر موافقت کی۔ دوسرے دن حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے ایسا ہی کیا۔ تمام بہادر مسلمانوں کو خیموں میں باقی رکھا اور ان کے گھوڑوں کو زین کس کر تیار رکھا، اور باقی لوگ رومیوں سے ظہر تک گھمسان کی جنگ لڑتے رہے۔ جب ظہر کی اذان ہوئی تو رومیوں نے اپنے خیموں کو واپس ہونا چاہا لیکن حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کو اس کا موقع نہ دیا اور ان سے شدید جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو تھکا دیا، پھر طرفین اپنے اپنے خیموں کو واپس ہوئے اور اپنے ہتھیار اتار کر آرام کرنے لگے، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان تازہ دم مجاہدین کو جن کو خیموں میں باقی رکھا تھا ساتھ لیا اور اچانک رومیوں پر ٹوٹ پڑے اور ان کے اندر گھس کر یکبارگی ہلہ بول دیا، ان کو اسلحہ سنبھالنے کا موقع نہیں دیا۔ اس ہلے میں جرجیر کو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قتل کیا، رومیوں کو شکست فاش ہوئی، ان میں سے بہت سے لوگ قتل ہوئے اور جرجیر کی بیٹی کو قید کر لیا گیا۔
حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے شہر کا محاصرہ کر کے اس کو فتح کر لیا اس میں بہت سارا مال و متاع ہاتھ آیا۔ شہسوار کو تین ہزار دینار اور پیادہ کو ایک ہزار دینار غنیمت میں ملے۔ جب عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے سبیطلہ شہر فتح کر لیا تو ملک کے مختلف علاقوں میں اپنی افواج کو روانہ کیا۔ یہ افواج قفصہ پہنچ گئیں جہاں انہیں قیدی اور مال غنیمت ہاتھ آئے۔ أجم قلعہ پر آپ نے فوج کشی کی، شہر کے لوگ قلعہ بند ہو گئے۔ آپ نے اس کا محاصرہ کر لیا اور امان کے ذریعہ سے فتح کیا۔ افریقہ کے لوگوں نے آپ سے مصالحت کر لی جیسا کہ بات گزر چکی ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شاہ جرجیر کی بیٹی عطیہ میں ملی، اور ان کو حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے افریقہ کی فتح کی بشارت دے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کر دیا۔
(الکامل، ابن اثیر: جلد 3 صفحہ 64، 65)
بہادری و شجاعت میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا عظیم کردار رہا ہے، جس کو حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ نے اس طرح بیان کیا ہے، فرماتے ہیں: جب مسلمانوں نے افریقہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا اس وقت ان کی تعداد بیس ہزار تھی اور ان کے سپہ سالار عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ تھے، اور اس لشکر میں عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن زبیر وغیرہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ ان کے مقابلہ میں بربر کا بادشاہ جرجیر ایک لاکھ بیس ہزار اور بعض روایات کے مطابق دو لاکھ سپاہیوں کے ساتھ نکلا، جب دونوں افواج آمنے سامنے ہوئیں تو جرجیر نے اپنی فوج کو حکم دیا، انہوں نے مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیر کر ہالہ بنا لیا، اس وقت انتہائی نازک منظر سے مسلمان دوچار ہوئے، اس سے قبل ایسے بھیانک اور خوفناک منظر سے کبھی دوچار نہیں ہوئے تھے۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے صفوں کے پیچھے جرجیر کو دیکھا، وہ ٹٹو پر سوار تھا، دو لونڈیاں اس پر مور کے پروں سے سایہ کیے ہوئے تھیں۔ میں عبداللہ بن سعدؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا: میرے ساتھ کچھ لوگوں کو مقرر کریں جو پیچھے سے میری پشت پناہی کریں، میں بادشاہ کی طرف رخ کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے میرے ساتھ بہادروں کی ایک جماعت متعین کر دی، انہوں نے حکم فرمایا اور یہ جوان میرے پیچھے ہو گئے اور میں دشمن کی صفوں کو چیرتا ہوا بادشاہ کی طرف بڑھا، میری پشت پناہی کرنے والوں نے یہ سمجھا کہ میں بادشاہ کے پاس کوئی پیغام لے کر جا رہا ہوں، جب میں جرجیر کے قریب پہنچ گیا تو اس نے مجھ سے خطرہ محسوس کیا اور اپنے ٹٹو پر سوار بھاگ کھڑا ہوا، میں نے اس کا پیچھا کیا اور اپنے نیزے سے اس کو مار گرایا، اور پھر اپنی تلوار سے اس کا کام تمام کر دیا، میں نے اس کا سر اٹھایا اور اپنے نیزے کی نوک پر نصب کر کے بلند آواز میں تکبیر پکاری جب بربروں نے یہ منظر دیکھا تو خوف زدہ ہو گئے اور جانوروں کی طرح بھاگ کھڑے ہوئے، مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا، ان کو قتل کرتے رہے اور قیدی بناتے رہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو بہت سارا مال و متاع اور قیدی ہاتھ آئے یہ سب کچھ اس شہر میں ہوا جس کو سبیطلہ کہتے ہیں جو قیروان سے دو دن کی مسافت پر واقع ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ فرماتے ہیں یہ پہلا موقع تھا جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شان نمایاں ہوئی اور وہ مشہور ہوئے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 158)
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے جو کارنامہ انجام دیا وہ خطرات سے گھری ہوئی بلندیوں کی طرف امنگوں سے بھری ایک بلند پرواز تھی، جس کا ماضی میں تجربہ نہ تھا، اس وقت آپ کی عمر صرف ستائیس (27) سال تھی۔ اس سے قبل آپ کی جانبازی کا اس طرح کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا تھا، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس عظیم جانبازی کی طرف آپ نے کیسے پیش قدمی کی جب کہ ظن غالب بلکہ عرف عام میں یقین کی حد کو یہ بات پہنچتی ہے کہ اس میں ہلاکت ہی ہلاکت تھی؟
اس طرح کی جانبازیوں کے سلسلہ میں جو احتمالات ممکن ہو سکتے ہیں وہ دو باتیں ہو سکتی ہیں جو اس وقت اس جانباز کے دل و دماغ میں رہی ہوں گی:
وہ اپنے حملہ میں کامیابی سے ہمکنار ہوں گے، اور بربر کے بادشاہ جرجیر کا خاتمہ کر دیں گے، اور اس طرح اس کا لشکر بکھر جائے گا، جیسا کہ کفار کی عادت ہے، اور اس طرح مسلمانوں کو زبردست فتح و نصرت حاصل ہو گی، اور وہ اس خطرناک معرکہ سے بچ جائیں گے جس سے مسلمان خوفزدہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ انہیں مقام شہادت عطا فرمائے گا، اس طرح وہ بلند ترین آرزو بر آئے گی، اور وہ اعلیٰ مقام حاصل ہو گا جس کی تمنا ہمیشہ صالحین کیا کرتے ہیں، اور اس کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، مزید برآں اس صورت میں کفار کا خوفزدہ ہونا اور ان کا مرعوب ہونا زیادہ قرین قیاس تھا، کیوں کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ مسلمان جن سے ان کا مقابلہ ہے وہ اسی نوعیت کے بہادر ہیں، کیوں کہ جانباز کی شجاعت و بہادری کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بھڑکتے ہوئے معرکہ میں ڈال دے۔ اس طرح کا اقدام ایسے بڑے بڑے ہی کر سکتے ہیں جن کو اس کے پیچھے جنت نظر آتی ہے، اور وہ اس کے مشتاق ہوتے ہیں۔ جس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ اقدام کیا اور دشمن کی صفوں میں بلا خوف و خطر گھس گئے اس وقت وہ دنیاوی مال و متاع کی محبت سے بالکل آزاد تھے، انہیں ان نعمتوں کی تمنا اور امنگ تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے اس کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 12 صفحہ 390)
یہ بات گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے کہ جب کفار کا بادشاہ جرجیر قتل ہو گیا تو بربر کی فوج میں بھگدڑ مچ گئی بالکل اسی طرح جس طرح جانور بھاگتے ہیں۔ مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور بغیر کسی مزاحمت کے ان کو قتل اور قید کرتے رہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤمنین کے ساتھ ہے، جب وہ اللہ کی راہ میں سچائی کا ثبوت دیں تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس سے انہیں مشکلات و شدائد سے نجات حاصل ہوتی ہے، اس معرکہ میں مسلمانوں کو بڑی مشکلات کا سامنا تھا، دشمن نے ان کا گھیراؤ کر رکھا تھا اور اس کی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں چھ گنا یا اس سے زیادہ تھی۔ اس صورت حال میں مسلمانوں کو چاروں طرف سے قتال کرنا تھا، دشمن کے مقابلہ میں مٹھی بھر مسلمانوں کا قتال کرنا انتہائی مشکل تھا جیسا کہ راوی کا بیان ہے:
’’اس وقت انتہائی نازک حالت سے مسلمان دوچار ہوئے، اس سے قبل ایسے بھیانک اور خوفناک منظر سے وہ دوچار نہیں ہوئے تھے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اس نازک وقت میں اس جانباز بہادر کو تیار کیا جس نے جانبازی کی بے نظیر مثال قائم کر دی، اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اسلامی لشکر کو ان مشکلات سے بچا لیا جس میں وہ مبتلا تھا۔
(ایضاً)
ہم یہاں ان جانبازوں کے موقف کو فراموش نہیں کر سکتے جو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، وہ برابر اس کارنامہ میں شریک رہے اگرچہ تاریخ نے ان کے ناموں کی فہرست پیش نہیں کی ہے، لیکن ان کا یہ فدائی کارنامہ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ باقی رہے گا اور جب بھی دنیا میں امت کے جانبازوں کے مفاخر کا تذکرہ ہو گا انہیں ضرور یاد رکھا جائے گا، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ نے سچے مجاہدین کے لیے جو وعدہ فرمایا ہے انہیں ضرور حاصل ہو گا۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 12 صفحہ 392)
مسلمانوں نے افریقہ کی فتوحات میں اپنا سب کچھ پیش کر دیا، ان میں سے بہت سوں نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں افریقہ میں جہاد کرتے ہوئے جن نفوس نے اپنی جان اللہ کے سپرد کی ان میں سے ابوذوئب ہذلی بھی ہیں جو ایک مشہور شاعر تھے، انہی کا یہ شعر ہے:
واذا المنیۃ انشبت اظفارھا
الفیت کل تمیمۃ لا تنفع
’’جب موت اپنے ناخن چبھا دیتی ہے تو کوئی تعویذ کارگر نہیں ہوتا۔‘‘
و تجلدی للشامتین اریہم
انی لریب الدھر لا أتضعضع
(تاریخ الاسلام للذہبی: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 359)