حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک
جعفر صادقحضرت علی رضی اللہ عنہ کی قبر کے بارے میں بہت لوگ تحقیق چاہتے ہیں یاد رکھیں نجف میں شیعہ جس قبر کو پوجتے ہیں وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قبر نہیں آئیے دیکھتے ہیں حضرت علیؓ کی قبر کہاں ہے
حضرت علیؓ کو غسل حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہم نے دیا،حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں چار تکبیریں کہیں۔
(المستدرک للحاکم: جلد 3 صفحہ143)
جنازہ سے فراغت کے بعد دفن کا مسئلہ پیش آیا تو آپ کو جامع مسجد کوفہ کے قریب *رحبہ* کے مقام پر (جو ابواب کندہ کے ساتھ ہے)نماز فجر سے پہلے رات ہی کو دفن کیا گیا۔
(طبقات ابن سعد:جلد 3 صفحہ 25 قسم اول تحت علی بن ابی طالب)
حضرت علیؓ کو 40 ھجری میں 63 سال کی عمر میں شہید کیا گیا اور دارالامارات میں جامع مسجد کوفہ کے قریب دفن کیا گیا۔
(تاریخ طبری جلد 3،صفحہ 560 حصہ دوم)
مشہور روایت کے مطابق ”کوفہ“ کے دارالامارات ہی میں شب کو دفن کیے گئے۔
(فضائل صحابہؓ واہل بیتؓ: صفحہ 161، ازعلامہ محمد علی حسین البکری، مدینہ منورہ)
مؤرخ اسلام علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ:
دفن بدار الإمارة بالكوفۃ هذا هو المشهور ومن قال انہ حمل علی راحلتہ فقد أخطأ وما يعتقده كثيرون جهلۃ الروافض من ان قبره بمشهد النجف لا اصل لہ
ترجمہ: کوفہ کے دارالامارات میں ہی سیدنا علیؓ کو دفن کیا گیا۔ عام قبرستان میں دفن نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کی خارجیوں کی طرف سے خطرہ تھا کہ کہیں وہ آپ کی نعش مبارک کی توہین اور بے حرمتی نہ کریں۔ یہی قول مشہور ہے اور جو لوگ آپ کی نعش مبارک کو ایک سواری کے ذریعے نا معلوم جگہ بھیج دینے کے قائل ہیں یا نجف اشرف میں روضہ علیؓ کے قائل ہیں، ان کا یہ قول نہ عقلا درست ہے اور نہ شرعا درست ہے۔ (البدایہ والنہایہ: جلد 8 صفحہ 369)
علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ نے جو روایات نقل کی ہیں ان کے مطابق درج ذیل گیارہ مقامات پر سیدنا علیؓ کے جسد مبارک کی تدفین کے دعوے کیے گئے ہیں:
1ـ کوفہ کا قصر امارت
2ـ جامع مسجد کوفہ کا پہلو
3ـ جعدہ بن ہبیرہ کوفی کا مکان
4ـ نواح کوفہ
5ـ مقام ثوبیہ
6ـ کناسہ
7ـ جنت البقیع
8ـ بلاد طئی
9ـ لحفہ حیرہ
10ـ نجف
11ـ بلخ کا ایک گاؤں جسے قریتہ الخیر کہا جاتا ہے۔