راوی ثقہ اور صدوق ہو اس پر شیعہ وغیرہ کی جرح کر کے اس کی…

راوی ثقہ اور صدوق ہو اس پر شیعہ وغیرہ کی جرح کر کے اس کی روایات کو ناقابل قبول سمجھنا غلط بات ہے۔(شیعہ مناظر)۔ بدعتی کی روایت اس کی تائید میں قبول نہیں کی جاتی(سُنی مناظر).

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 2

شیعہ مناظر: معاویہ صاحب یہ کل سکین لگایا تھا جس کو آپ نے دیکھنا تک گوارہ نہیں کیا اور اپنی تاویلات پیش کرنا شروع کر دی

جو راوی ثقہ اور صدوق ہو اس پر شیعہ وغیرہ کی جرح کر کے اس کی روایات کو ناقابل قبول سمجھنا غلط بات ہے۔

 

آپکے شیخ عبدالرحمن بن یحیی الیمانی نے التنکیل میں پورا باب لکھا ھے جس میں ثابت کیا ھے کہ بدعتی راوی کی روایت مطلقا قبول ھے چاہے اسکی بدعت کی تائید میں ھو یا نا ھو بشرطیکہ بدعت مکفرہ نا ھو.

سنی مناظر: اس ٹرن میں سات حوالے دیے ہیں جناب نے جو شرائط کی صریح خلاف ورزی اور بخش حسین کی بوکھلاہٹ کا کھلا ثبوت ہے کہ اب یہ لایعنی اور یہاں وہاں کی باتیں بھیج کر، بات کو الجھانے کی کوشش کرکے اصل بات سے رخ ہٹانا چاہ رہا ہے.

یہ چالیں تمھارے بڑے مناظر خیر طلب نے بھی چلیں لیکن میرے سامنے نہیں چل سکیں اور نہ تمھاری چلیں گی۔

 

الدر منثور کا جو اسکین پیش کیا ہے اس کا حوالہ بے سند ہے۔ سند لاؤ اور توثیق کرو

 

اس حوالے کی سند اور توثیق شیعہ مناظر پیش نہیں کرسکے!

 

  یہ حوالہ پہلے بھی اردو ترجمے کے ساتھ میں بھیج چکے ہو جس پر میں نے سند کی توثیق کا سوال کیا تھا جو اب تک نہیں پیش کرسکے۔

اس کی سند و توثیق بھی شیعہ مناظر نے پیش نہیں کی۔

  اتنا بوکھلا گئے ہو تم اور تم کو لقمے دینے والے کہ کتاب کا نام بھی نہیں لکھا بس کاپی پیسٹ کرنے والے مناظر بن گئے.

یہ تو تمھارا حال ہے.

حوالے میں إبان بن تغلب کٹر شیعہ ہے۔

ابان کٹر شیعہ موجود.

ان شیعوں کی روایات اٹھا کر تواتر ثابت کرنے چلے ہو!

اس میں فدک ھبہ کا کوئی ذکر نہیں، بس ذا القربی سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں کو حق دینے کا ذکر ھے.

یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ رشتہ داروں کو حق دینا چاہیے. فدک کا ہبہ کہاں ھے اس میں؟

 

علماء کا اختلاف کیا صحیح روایات ہبہ کے خلاف ہے.

 

 -1 ایک تو میں سیر اعلام النبلاء سے پیش کرچکا ہوں عمر بن عبدالعزیز رح والا کہ سیدہ فاطمہ رض کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فدک دینے سے منع کیا.

 

 -2 دوسرا یہ کہ جو بخاری کی روایت فدک کے مطالبے کی تم پیش کرتے ہو اس میں بھی کہیں فدک ہبہ کیے جانے کا ذکر ہی نہیں.

 

تو یہ دو واضح روایات اس ہبہ والی روایت کے خلاف.

خیر طلب سے چوری کردہ حوالے.

اب تم اس پر علمی دھلائی سے اپنی خیر مناؤ اب.

 

 یہ لو جناب تواتر کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ روایت پر طبقے میں زیادہ تعداد سے روایت کی گئی ہو یعنی ہر دور میں اس کو روایت کرنے والے زیادہ ہوں کہ ان کا جھوٹ پر جمع ہونا محال ہو.

اب بتاؤ کہ تم ہبہ والی جو روایت پیش کررہے ہو، وہ پہلے طبقے یعنی صحابہ، تابعین، تبع تابعین، اور ان کے شاگردوں کے طبقے یعنی ہر طبقے میں کتنی متواتر تھی؟

 اپنی تحقیق کی ندیاں بہاؤ اب


  شیعہ مناظر نے پہلی دلیل کا دفاع اور تواتر کی رٹ لگانے کے باوجود فدک ہبہ کرنا تواتر سے ثابت نہ کیا بلکہ سنی مناظر کے اس جواب کے بعد تواتر کہنے سے ہی توبہ کرلی!! 


 

سنی مناظر: اس روایت پر یہ بھی ثابت کرو کہ اس روایت جس پر تواتر کا دعویٰ کیا ہے علامہ ابن حزم نے، کیا اس کے خلاف کوئی اور صحیح روایت بھی ہے کہ نہیں؟ اگر ہے تو پیش کرو ؟

اگر نہیں تو پھر یہ حوالے تمھارے فائدہ میں نہیں، کیونکہ ہبہ والی تمہاری روایت کے خلاف دو صحیح روایات ہیں۔

 

دوسرا ایک فالتو میسج بھیجا۔ جس کا میسج کاپی کرکے بھیجا ہے اس کو پہلے یہ تو بتاؤ کہ علی معاویہ بھی یہی کہتا ہے کہ کسی کا مذھب بیان کرنا جرح نہیں البتہ یہ اصول شیعہ اور سنی کتب سے مسلمہ ھے کہ

بدعتی کی روایت اس کی تائید میں قبول نہیں کی جاتی.

بس اتنی سی بات تم لوگوں کی عقل میں نہیں بیٹھ رہی

اھل السنت محدثین کچھ بھی کہیں تم کو کیا فائدہ؟ میں تو تمھاری کتب سے عطیہ اور فضیل کو پکا شیعہ ثابت کرچکا ہوں دونوں راویوں کو تمہارے محدثین اصحاب باقر رح اور اصحاب جعفر صادق رح میں شمار کرچکے ہیں.

ان کا جواب تو ہے نہیں تمھارے پاس اور اپنی کہانیاں سنائے جا رہے ہو.

سنی مناظر: یہ لو شیعوں کی گردن توڑ حوالہ.المستصفی امام غزالی رح:اس میں ہے کہ

 

 ⬅️ تواتر کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ ہر طبقے میں مشہور ہو.

 ⬅️ یہودیوں کی خبریں متواتر نہیں مانیں جائیں گی، کیونکہ وہ اپنی شریعت کی تائید اور اسلام کے خلاف موسی علیہ السلام کی طرف روایات منسوب کرتے ہیں.

 ⬅️ شیعہ ،عباسیہ وغیرہ کی روایات تواتر میں معتبر نہیں ہونگے ان کے مذہب کی تائید میں، کیونکہ یہ روایت انہوں نے بعد میں گھڑ کر اور پہلے والوں کی طرف منسوب کی ہوتی ہیں اور بعد میں اس گھڑی ہوئی بات کو پھیلانے والے بڑھ جاتے ہیں۔

 

اب بتاؤ بخش، کیا تمھاری پیش کردہ روایات میں شیعوں کی بھر مار نہیں؟ یہ اصول جمھور کے خلاف ہے، کیونکہ

 

  جمھور اھل السنت اور شیعہ بھی یہی کہتے ہیں کہ بدعتی کی روایت اس کی تائید میں قبول نہیں.

 

نخبۃ الفکر سے میں ثابت کرچکا ہوں کہ اکثر محدثین یہ اصول مانتے ہیں اور آپ ھميشہ جمھور اور اکثریت سے ھٹ کر شاذ اور غیر مقبول اقوالات اٹھا کر لاتے ہو.

 شیعہ مناظر: معاویہ صاحب یہاں سے آپ کی جہالت ثابت ہو رہی ہے آپ اقرار کر رہے ہیں کہ میں ہبہ کو رد کر چکا ہوں اپنی کتابوں سے کیا آپ کی عقل گھاس چرنے گئی ہے ۔ اپنی کتابوں سے رد کرو گے جو ہمارے لیے حجت نہیں ہیں جب سے مناظرہ شروع ہوا یہ ہی بات سمجھا رہا ہوں آپ کے عقل میں بات گھس ہی نہیں رہی کیسے جاہل مطلق سے واسطہ پڑا ہے میرا جس کو اصول مناظرہ کا پتہ نہیں بس ٹائم ضائع کر رہے ہو


درحقیقت شیعہ مناظر خود عقل سے پیدل ایسا جاہل ہے کہ جسے سمجھانے اور سنی و شیعہ کتب سے ثبوت دینے کے باوجود یہ تک سمجھ نہ آیا کہ مناظرہ مدعی کے دعوی اور دلیل پر ہوتا ہے اور اس مناظرے میں وہ مدعی ہیں اور دلیل انہوں نے اہل سنت سے دی ہے، اس کا رد بھی اہل سنت کتب سے ہی کیا جائے گا۔

 

   شیعہ مناظر یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ شیعہ ہونا اور رافضی ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔

صفحہ 1 از 2