سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی سلطنت کے صوبے مکہ مکرمہ
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت مکہ کے گورنر خالد بن العاص بن ہشام بن مغیرہ مخزومی رضی اللہ عنہ تھے۔
(تجرید اسماء الصحابۃ: امام ذہبیؒ: صفحہ 151)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے عہدہ پر ایک وقت تک باقی رکھا جس کی تحدید مشکل ہے، پھر معزول کر دیا، سبب معزولی سے متعلق کچھ وارد نہیں، اور مزید برآں ان کے اعمال و کارناموں کی تحدید بھی مشکل ہے۔ ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے علی بن ربیعہ بن عبدالعزیٰؒ کو مکہ کا گورنر مقرر فرمایا، اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے مختلف گورنروں کو مکہ پر مقرر فرمایا لیکن ان کی مدت کی تحدید مشکل ہے، انہی میں سے عبداللہ بن عمرو حضرمیؓ بھی ہیں جنھیں سیدنا عثمانؓ نے ایک وقت میں مکہ کا گورنر مقرر فرمایا تھا، اور اسی طرح تاریخی نصوص سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت خالد بن العاص بن ہشام رضی اللہ عنہ کو دوبارہ مکہ کا گورنر مقرر فرمایا تھا، اور تاریخی مراجع ثابت کرتے ہیں کہ جس وقت حضرت عثمان بن عفانؓ کی شہادت پیش آئی اس وقت حضرت خالد بن العاصؓ ہی مکہ کے گورنر تھے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے زمام خلافت جب ہاتھ میں لی تو انہیں معزول کر کے دوسرے کو مکہ کا گورنر مقرر فرمایا۔
(الولایۃ علی البلدان فی عصر الخلفاء الراشدین: دیکھیے۔ عبدالعزیز العمري: جلد 1 صفحہ 166)
بظاہر یہ روایت ان روایات کی بہ نسبت زیادہ قوی ہے جن میں یہ مذکور ہے کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے وقت مکہ کے گورنر عبداللہ بن حضرمیؓ تھے۔
(نہایۃ الارب فی فنون الأدب: النویری: جلد 2 صفحہ 27)
حضرت عثمان غنیؓ کے عہد خلافت میں مکہ کی امتیازی شان یہ ہے کہ وہ انتہائی پر امن رہا اگرچہ آپؓ کے آخری عہد میں دیگر بعض علاقوں میں فتنے رونما ہوئے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 167)