مودودی نے جو کچھ اپنی دیگر تصانیف میں تحریر کیا تھا وہی کیا کم تھا کہ انہوں نے ایک مستقل کتاب خلافت و ملوکیت کے نام سے تصنیف فرما کر عظیم اسلامی خدمت انجام دی ہے جس میں خلیفہ راشد سیدنا عثمان ذوالنورینؓ، سیدنا علی المرتضیٰؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ، سیدہ عائشہؓ، سیدنا معاویہؓ، سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ، سیدنا عمرو بن عاصؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر رکیک حملے کر کے مستشرقین، روافض اور خوارج کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کیا ہے کہ تم لوگوں نے مل کر آج تک ان حضرات کے خلاف کھل کر کیا لکھا ہو گا جو میں نے لکھا ہے۔
ماہِ مجنوں! ہم سبق بودیم در دیوانِ عشق
او بہ صحرا رفت و ما در کوچہ ہا رسوا شدیم
اور یہ بات حقیقت ہے کہ شیعیت و سبائیت اور مستشرقین حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف لوگوں کے اذہان میں وہ نقوش نہیں جما سکے جو تنہا مودودی کی اس کتاب نے جمایا ہے میں یہاں اس بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ مودودی نے اپنے اس استشراقی افسانے میں بزعمِ خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر جو اعتراضات کیے ہیں ان کی تاریخی وقعت اور تحقیقی حیثیت کیا ہے، اور جناب نے اس کتاب میں دیانت و امانت کے تقاضوں کا کیا اور کتنا پاس و لحاظ رکھا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں ان نفوسِ قدسیہ پر کسی درجے میں بھی اعتراض و تنقید کا حق حاصل ہے؟ بفضلہ تعالیٰ علمائے امت اس کی حقیقت کو واضح کر چکے ہیں اور خلافت و ملوکیت کا مدلل اور مُسکِت جواب دے چکے ہیں۔
(مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت کے جواب کے لیے ملاحظہ فرمائیے حضرت امیرِ معاویہؓ اور تاریخی حقائق از شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم عادلانہ دفاع از حضرت مولانا سید نوار الحسن بخاریؒ اور شواہد تقدس اور تردید الزامات از حضرت مولانا محمد میاں انصاریؒ)
ان کی طرف رجوع کر لیا جائے سرِ دست خلافت و ملوکیت کے اندازِ تحقیق و تالیف پر مودودی ہی کا ایک اقتباس پڑھیے:
میں نے ان (قابلِ اعتماد بزرگانِ دین) پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی آزادانہ رائے قائم کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ320 تحت وکالت کی بنیاد)
میرا خیال ہے کہ مودودی کے اس اقتباس کے بعد مجھے مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں محولہ بالا عبارات مذکورہ کتاب کی تحقیقی و تصنیفی لیاقت کی خود آئینہ دار ہیں۔