Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خراسان میں جبل الاشل کی جنگ میں حکم بن عمرو غفاری کی طرف سے مال غنیمت کی تقسیم

  علی محمد الصلابی

الرابع عشر: خراسان میں جبل الاشل کی جنگ میں حکم بن عمرو غفاری کی طرف سے مال غنیمت کی تقسیم

عبدالرحمٰن بن صبح کہتے ہیں: میں خراسان میں حکم بن عمرو کے ساتھ تھا، زیاد نے انہیں لکھا کہ جبل اشل کے رہنے والوں کا ہتھیار مٹی (یعنی وہ دشمن کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مٹی میں چھپ جاتے ہیں) اور ان کے برتن سونے کے ہیں۔ (یہ ان کی مال داری اور خوشحالی کی دلیل ہے۔)

عمرو نے ان سے جنگ کی تو انہوں نے گھاٹیوں اور گزرگاہوں میں چھپ کر ان کا گھیراؤ کر لیا اور وہ بے بس ہو کر رہ گئے۔ مہلب بھی جنگ سے پیچھے ہٹ گئے مگر وہ حیلہ گری سے کام لیتے رہے یہاں تک کہ اس نے ان کے ایک بڑے آدمی کو گرفتار کر لیا۔ مہلب اس سے کہنے لگا: دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کر لے، یا تو میں تجھے قتل کر ڈالوں گا یا پھر ہمیں اس گھاٹی سے باہر نکال دے۔ اس نے انہیں اس کی ایک ترکیب بتائی انہوں نے اس پر عمل کیا اور اس طرح وہ ان سے بچ نکلنے میں کامیاب بھی ہو گئے اور بہت سارا مال غنیمت بھی ان کے ہاتھ لگ گیا۔ زیاد نے اس کے نام خط لکھا کہ امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھا ہے کہ میں ان کے لیے سونا، چاندی اور مال غنیمت میں سے عمدہ اشیاء منتخب کر لوں، لہٰذا ان چیزوں کو الگ کرنے سے پہلے کسی چیز کو حرکت نہ دینا۔ زیاد کے خط کا عمرو نے یہ جواب لکھا: مجھے تیرا وہ خط مل گیا ہے جس میں تو نے یہ بتایا ہے کہ امیر المؤمنین کا حکم ہے کہ میں ان کے لیے سونا، چاندی اور عمدہ مال غنیمت الگ کر دوں اور اس سے قبل کسی چیز کو حرکت نہ دوں، تو یاد رہے کہ اللہ کی کتاب امیر المؤمنین کی کتاب پر مقدم ہے۔ اللہ کی قسم! اگر آسمان اور زمین اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے بندے پر بند ہو جائیں تو بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لے گا، پھر انہوں نے لوگوں سے فرمایا: اپنا اپنا مال غنیمت وصول کرنے کے لیے آؤ۔ وہ آئے تو آپ نے خمس الگ کر کے باقی مال غنیمت ان میں تقسیم کر دیا۔ راوی کہتا ہے: حکم کہنے لگے: یا اللہ! اگر تیرے پاس میرے لیے کوئی خیر ہے تو میری روح قبض کر لے چنانچہ وہ خراسان میں مرو کے مقام پر فوت ہو گئے۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 476)

حکم بن عمرو غفاریؓ کی طرف سے مال غنیمت تقسیم کرنے کے اس واقعہ کو ابن عبدالبر

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 167)،

ابن جوزی(الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 357)

ابن الاثیر (المنتظم: جلد 5 صفحہ 230)

اور ابن کثیر (الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 476)

نے ذکر کیا ہے۔ ان مصادر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کے لیے سونا چاندی الگ کرنے اور اسے لشکر میں تقسیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا مگر انہوں نے اس خبر کو صحیح سند کے ساتھ ذکر نہیں کیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 217)

جبکہ ابن کثیرؒ نے اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے سونا اور چاندی بیت المال میں بھجوانے کا مطالبہ کیا۔

(ایضاً)

میں اس جگہ اس بات کی یاددہانی ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام میں مال غنیمت کے مصارف کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں واضح فرما دیا ہے:

وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَا غَنِمۡتُمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوۡلِ وَلِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ  ۞

(سورۃ الأنفال آیت 41)

ترجمہ: اور (مسلمانو) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مال غنیمت حاصل کرو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول اور ان کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے (جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے) 

اس کا مطلب یہ ہے کہ اموال غنیمت کے چار حصے لشکر میں تقسیم کیے جائیں گے اور بچ جانے والا پانچواں حصہ اس آیت کریمہ کی روشنی میں تقسیم کیا جائے گا اور یہ حکم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر مخفی نہیں تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی دین داری اور عدل ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ردّ کرنے سے مانع تھی۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 352، 351)

طبری کی روایت کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم بن عمرو غفاریؓ نے اخذ کردہ مال غنیمت لشکر میں فوراً تقسیم نہیں کیا تھا۔ اگرچہ اس بارے شریعت کا حکم بالکل واضح تھا۔ بلکہ اس بارے میں ان کے اور زیاد کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ مال غنیمت کی تقسیم میں اس تاخیر کے کئی احتمالات ہیں جن سے روایت میں وارد غموض کے ازالہ کو ممکن بنایا جا سکتا ہے اور وہ احتمالات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بات میں دلچسپی تھی کہ مال غنیمت کا خمس جس کی تقسیم امام المسلمین کیا کرتا ہے، سونے اور چاندی پر مشتمل ہو۔

2۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بات میں دلچسپی تھی کہ سونے اور چاندی پر مشتمل مال غنیمت کو اس سے خمس الگ کرنے اور اسے تقسیم کرنے سے پہلے اسے ہندوستان لے جا کر مہنگے داموں وہاں فروخت کر دیا جائے

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ  352)

اور بعد ازاں خمس اس کی قیمت سے نکالا جائے جس سے سب کا فائدہ ہو۔

(ایضاً: صفحہ 352)

3۔ بیت المال میں اچانک کمی واقع ہو گئی ہو اور اس بنا پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ ایک طے شدہ وقت تک وہ مال غنیمت قرض کے طور پر حاصل کر لیا جائے جو حکم بن عمرو کے لشکر نے حاصل کیا تھا اور یہ کہ لشکر میں اس کی تقسیم کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔

(ایضاً: صفحہ 352)

اگر یہ روایت ثابت ہو جائے تو اس سے ہمیں یہ اہم سبق ملتا ہے کہ حکم بن عمرو غفاریؓ اس اصول کا بڑی شدت کے ساتھ التزام کرتے تھے کہ: ’’خالق کی نافرمانی کر کے مخلوق کی اطاعت ناروا ہے، اور یہ کہ وہ اموال غنیمت کی تقسیم میں ادائیگی امانت کے حکم پر عمل پیرا تھے، وہ مال غنیمت میں غلول کے مرتکب نہیں ہوئے اور خمس الگ کرنے کے بعد اسے لشکر میں تقسیم کر دیا۔‘‘

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 352)