حضرت عبدالرحمٰن بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہ عہد عثمانی کا ایک ممتاز جرنیل
علی محمد الصلابیحضرت عبدالرحمٰن بن ربیعہ باہلی رضی اللہ عنہ حق پرست اور بلند پایہ جرنیل تھے۔ عقیدہ کے ساتھ شدید تمسک کی وجہ سے اپنے روساء اور ماتحتوں کے نزدیک ہر طرح قابلِ اعتماد رہے، مزید برآں شجاعت و بہادری، پیش قدمی اور دینی احکام و مسائل کے علم کا ان پر کافی اثر رہا، اسی لیے سراقہ بن عمروؓ کے انتقال کے بعد سے لے کر اپنی شہادت تک ’’باب الابواب‘‘ علاقہ کے والی اور کمانڈر رہے۔ خلفاء اور کوفہ میں والیان اور کمانڈروں کی تبدیلی کے باوجود آپ اپنے منصب سے معزول نہ کیے گئے جب کہ آپ کوفہ کی ولایت کے تابع تھے۔ عبدالرحمٰن بہادری کی جنگ کے وسائل پر ایمان رکھتے تھے اسی لیے نہ خیانت کرتے نہ غداری کرتے اور نہ پیچھے سے مارتے۔
(قادۃ الفتح الاسلامی ارمینیۃ: صفحہ 155)
آپ کے بلند کردار اور اچھی سیرت کا ’’باب الابواب‘‘ اور ’’بحر خزر‘‘ کے جنوب و مغرب کے علاقے میں امن و استقرار اور نظام کے استحکام کے سلسلہ میں بہت بہترین اور لاجواب اثر رہا۔ شمال میں اسلام کی نشر و اشاعت اور فتوحات کے لیے یہ علاقہ مرکز ثابت ہوا چنانچہ مختلف آزمائشوں اور مخالف لہروں کے باوجود چودہ سو سال سے آج تک یہ دُور دراز کے علاقے اسلام پر ثابت قدم رہیں۔
(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 156)
تاریخ کے صفحات پر آپ نے ہمیشہ باقی رہنے والے جو نقوش چھوڑے ہیں ان میں سے یہ بھی ایک ہے کہ جب آپ لوگوں کو لے کر ’’باب‘‘ سے آگے نکلے تو سلطان شہریار نے کہا تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ فرمایا: میرا مقصود ’’بلنجر‘‘ اور ’’ترک‘‘ ہیں، اس نے کہا: ہم تو اتنے میں خوش ہیں کہ وہ ہمیں ’’باب‘‘ کے پیچھے چھوڑ رکھیں ادھر کا رخ نہ کریں، عبدالرحمٰن نے کہا: لیکن ہم اس سے خوش نہیں جب تک کہ میں ان کے ملک میں گھس نہ جاؤں، اللہ کی قسم ہمارے ساتھ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہمارا امیر اجازت دے دے تو ہم ان کے ذریعہ سے ردم (یعنی سدّ ذوالقرنین) تک پہنچ جائیں۔ سلطان نے کہا وہ کون ہیں؟ عبدالرحمٰن نے کہا وہ وہ لوگ ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مشرف ہیں، اور پورے عزم و اخلاص کے ساتھ اس دین میں داخل ہوئے ہیں، دورِ جاہلیت میں وہ حیا و شرافت کے حامل تھے، اسلام لانے کے بعد ان کی حیاء و شرافت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہ دین ان کے لیے برابر قائم رہے گا، اللہ کی مدد و نصرت ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی جب تک دوسرے ان کے اندر تبدیلی نہ رونما کر دیں اور یہ اپنی حالت سے پھر نہ جائیں۔
(الکامل، ابن اثیر: جلد 3 صفحہ 29، 30، تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 146)
عبدالرحمٰن نے بلنجر پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں چڑھائی کی تو ترکوں نے کہا: اس شخص کو ہم پر چڑھائی کرنے کی جرأت اسی لیے ہوئی کہ اس کے ساتھ فرشتوں کی جماعت ہے جو انہیں موت سے بچاتی ہے چنانچہ ترک ان کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور قلعہ بند ہو گئے، اور آپ مال غنیمت اور فتح و نصرت کے ساتھ بلنجر سے دو سو فرسخ کے فاصلہ پر بیضاء میں اپنے شہسواروں کے ساتھ پہنچ کر واپس ہوئے، اس وقت آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی شہید نہ ہوا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 146)
دین کے ساتھ پختہ وابستگی اور مسلسل فتوحات کی وجہ سے مسلمانوں کی ہمتیں انتہائی بلند اور دیگر اقوام کی ہمتیں انتہائی پست تھیں، کیوں کہ مسلمان جن اقوام سے قتال کرتے ان پر غالب آتے، اسی لیے ترک مسلمانوں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور قلعہ بند ہو گئے، چنانچہ اس معرکہ میں عملی طور پر لڑائی نہیں ہوئی، اور مسلمانوں میں سے کوئی شہید نہ ہوا۔
(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ 155)
عبدالرحمٰن بن ربیعہ الباہلیؓ عظیم تقویٰ اور انتہائی کریمانہ اخلاق کے حامل تھے، مغلوب اقوام کے ساتھ آپ کے برتاؤ سے امن و استقرار کے قیام اور اسلام کی نشر و اشاعت میں بڑا گہرا اثر رہا۔ آپؓ انتہائی وفادار اور حد درجہ کے امین تھے۔ باب کے بادشاہ نے، مسلمانوں کے اس علاقہ کو فتح کرنے سے قبل اپنا ایک ایلچی ہدیہ وغیرہ کے ساتھ چین کے بادشاہ کے پاس روانہ کیا۔ اتفاق سے یہ ایلچی اس وقت واپس ہوا جب یہ علاقہ مسلمان فتح کر چکے تھے، اس کے ساتھ چین کے بادشاہ کی جانب سے باب کے بادشاہ کے لیے ہدیہ تھا جس میں ایک قیمتی سرخ یاقوت تھا، ایلچی کی واپسی کے وقت بادشاہ عبدالرحمٰن باہلیؓ کی مجلس میں موجود تھا۔ بادشاہ نے اپنے ایلچی سے اس یاقوت کو لیا، پھر اسے عبدالرحمٰنؓ کو پیش کیا۔ عبدالرحمٰنؓ نے اسے دیکھ کر فوراً بادشاہ کو واپس کر دیا۔ اس سے بادشاہ اس قدر متاثر ہو کر پکار اٹھا کہ ’’یہ یاقوت اس ملک (باب الابواب) سے زیادہ قیمتی ہے۔ اللہ کی قسم آپ لوگ آل کسریٰ سے زیادہ میرے نزدیک محبوب حکام ہو، اگر میں ان کی سلطنت میں ہوتا اور ان کو اس کی خبر ملی ہوتی تو وہ اسے مجھ سے ضرور چھین لیتے۔ اللہ کی قسم اگر تم اور تمہارا سلطان اکبر اسی طرح وفاداری کرتے رہے تو تمھیں کوئی زیر نہیں کر سکتا۔
(تاریخ الطبری: جلد 15 صفحہ 148)
مسلم جرنیل کی امانت اور وفاداری پر ’’الباب‘‘ کے بادشاہ کا شدید تعجب و حیرت کا شکار ہونا بجا تھا کیوں کہ اس نے اپنی پوری عمر خیانت و غداری کے ماحول میں گزاری تھی، پھر جب اس نے مسلمانوں کی مثالی امانت داری اور وفاداری کا مشاہدہ کیا تو اپنے نفس پر ضبط نہ کر سکا اور اپنی ضائع شدہ سلطنت بھول گیا، اور امانت و وفاداری سے متاثر ہو کر اپنے دل کی گہرائیوں سے نکلے ہوئے کلمات کے ذریعہ سے اپنے شعور و احساس کی تعبیر پیش کی۔
(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ: صفحہ: 154)
حضرت عبدالرحمٰن باہلیؓ جانتے تھے کہ یہ یاقوت جس کی قیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اس پر قبضہ نہ ان کا شخصی حق ہے اور نہ مسلمانوں کے بیت المال کا حق ہے، لہٰذا ان کے نزدیک یاقوت اور مٹی کی حیثیت برابر تھی۔
حضرت عبدالرحمٰن باہلیؓ بڑے کریم اور مہمان نواز، خوددار و غیرت مند، پرہیزگار و متقی اور دین کی گہری بصیرت اور فہم رکھنے والے تھے، اکثر عمر مجاہد و والی کی حیثیت سے گزارنے کے باوجود دنیا کا مال و متاع اپنی ملکیت میں نہ رکھا، اور 32ھ میں بلنجر کے علاقہ میں جام شہادت نوش فرمایا۔
(قادۃ الفتح الاسلامی فی ارمینیۃ، محمود شیت خطاب: صفحہ 150)
حضرت عبدالرحمٰن بن ربیعہ الباہلیؓ عہدِ عثمانی کی فتوحات کے سپہ سالاروں میں سے ہیں، آپؓ کو صحابیت کا شرف حاصل ہے، آپؓ نے تاخیر سے اسلام قبول کیا تھا۔