عہد خلافت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لائقِ اتباع نہ…

عہد خلافت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لائقِ اتباع نہ ہونے کا الزام

  محمد ظفر اقبال

صفحہ 1 از 4

مصنفِ نام و نسب کا کہنا ہے:  

چونکہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے عہدِ امارت میں خلافتِ راشدہ کی معنوی مشابہت پیدا نہ ہو سکی، اس لیے ان کا عہدِ امارت لائقِ اتباع نہیں، اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا دورِ خلافت چونکہ خلافتِ راشدہ کی مکمل تصویر تھا، اس لیے فَعَلَيكُم بِسُنَّتِی وَ سُنَّة الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهدِيِّينَ کے مطابق ان کی سنت کا اتباع ضروری ہو گا۔

(ملخص نام و نسب: صفحہ 554، 555)

الجواب: سب سے پہلے تو خلافتِ راشدہ کی وضاحت ہونی چاہیے کہ وہ کیا ہے؟ امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبد الشکور صاحب لکھنوی فاروقی مجددی قدس سرہ (متوفی 1383ھ) فرماتے ہیں: 

ہمارے پیغمبرﷺ‏ کی خلافت ایک بڑا عظیم الشان کام ہے، جن کی قابلیت لوگوں میں متفاوت ہوتی ہے۔ لہٰذا علمائے محققین نے حسبِ ذیل مدارج بیان کیے ہیں:  

درجہ اول: خلافتِ راشدہ خاصہ، جس کو خلافت علی منہاج النبوۃ بھی کہتے ہیں یہ درجہ خلافت کا سوائے ان لوگوں کے جو مہاجرینِ اولین میں سے ہوں اور آنحضرتﷺ کے ہمراہ تمام مشاہدِ خیر مثلِ بدر و حدیبیہ و تبوک وغیرہ میں شریک رہے ہوں، اور آیاتِ الہٰی کے وعدوں کے موعود لہم ہوں، اور آنحضرتﷺ نے ان کا عالی مرتبہ ہونا بیان فرمایا ہو، اور ان کا مستحقِ خلافت ہونا بھی ارشاد کیا ہو، اور ان کا خلیفہ بنانا بھی امت پر لازم کیا ہو، اور دینِ الہٰی کی تمکین ان کے ہاتھوں سے ہوئی ہو، کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہو سکتا۔

تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے اور علمائے محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ درجہ خلافت کا خلفائے ثلاثہؓ کو حاصل تھا اور انہی پر ختم ہو گیا۔

(حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ متوفی 1176ھ فرماتے ہیں:

بموت حضرت عثمانؓ خلافت خاصہ منقطع گشت و اکثر احادیث بہمیں مضمون وارد شدہ 

(ازالۃ الخفاء: مقصد اول  صفحہ 61) 

سیدنا عثمانؓ کی وفات سے خلافتِ خاصہ منقطع ہو گئی اور اکثر حدیثیں اسی مضمون کی وارد ہوئی ہیں۔) 

ان تینوں خلافتوں میں نبوت کا رنگ اس قدر غالب تھا کہ گویا آنحضرتﷺ پسِ پردہ بیٹھے ہوئے ہیں، اور یہ خلفاء (حضرت ابوبکر، حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہم) مثلِ بے جان لکڑی کے آپ کے ہاتھ میں ہیں آپ جس طرح چاہتے ہیں، یہ تینوں خلفاء مثلِ گراموفون کے ہیں کہ ان میں آنحضرتﷺ کی مقدس اور جان سے زیادہ پیاری آواز بھری ہوئی ہے جو آواز ان سے نکل رہی ہے وہ ان کی آواز نہیں بلکہ سردارِ انبیاءﷺ کی آواز ہے:  

او بجز نائی و ماجز نئے نائم

دمے بے ماؤ مابے وی نائم

ان تینوں خلافتوں میں بھی حضراتِ شیخینؓ کی خلافت کا درجہ بہت عالی ہے۔

درجہ دوم:خلافتِ راشدہ مطلقہ یہ درجہ خلافت کا گو پہلے درجے سے رتبے میں کم ہے مگر اس کی شان بھی بہت ارفع و اعلیٰ ہے:  

آسماں نسبت بعرش آمد فرود  

ورنہ بس عالی است پیشِ خاکِ تود

یہ درجہ خلافت کا ان لوگوں کے لیے ہے جن کا مستحقِ خلافت ہونا اور صاحبِ فضائل ہونا آنحضرتﷺ نے بیان فرمایا ہے، مگر امت پر ان کا خلیفہ بنانا لازم نہ کیا۔ 

یہ درجہ عالی خلافت کا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حاصل تھا اور چھے مہینے حضرت حسن مجتبیٰؓ کو حاصل رہا اور ان پر ختم ہو گیا۔ آنحضرتﷺ نے جو یہ بیان فرمایا کہ میرے بعد خلافت تیس (30) برس تک رہے گی، اس سے مراد یہی دونوں قسمیں خلافت کی ہیں۔

قسم سوم:خلافتِ عادلہ یہ درجہ پہلے دونوں درجوں سے بہت گھٹا ہوا ہے اور اس درجے کے حاصل ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ خلیفہ جامع الشرائط ہو اور مقاصدِ خلافت اس سے فوت نہ ہوتے ہوں اس کی ضرورت نہیں کہ آنحضرتﷺ نے اس کا استحقاقِ خلافت بیان فرمایا ہو حضرت امیرِ معاویہؓ کی خلافت اسی میں داخل ہے۔

خلافت کی یہ اقسام اور ان کا تفصیلی بیان حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (متوفی 1176ھ) کی شہرہ آفاق کتاب ازالۃ الخفاء مقصد اول میں دیکھنا چاہیے۔

(تحفہ خلافت: صفحہ82، 84 چند ضروری مسائل)

اسی طرح شیخ الاسلام حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ متوفی 1394ھ فرماتے ہیں:  

جو لوگ ترمذی کی حدیث الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ کہ خلافت میرے بعد تیس سال رہے گی سے حضرت امیرِ معاویہؓ کی خلافت کو ملوکیت قرار دیتے ہیں، وہ ذرا اس حدیث پر بھی غور فرمائیں جس کو امامِ ترمذیؒ و ابوداؤدؒ نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کیا ہے: 

ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے کہا، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک ترازو آسمان سے اتری اور آپﷺ اور حضرت ابوبکرؓ تولے گئے تو آپﷺ کا وزن زیادہ رہا، پھر سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ تولے گئے تو حضرت ابوبکرؓ (کا وزن) زیادہ رہا، پھر حضرت عمرؓ و حضرت عثمانؓ تولے گئے تو حضرت عمرؓ کا وزن زیادہ رہا۔ پھر وہ ترازو اٹھا لی گئی اس خواب کو سن کر رسول اللہﷺ رنجیدہ ہوئے اور فرمایا: 

خلافۃ نبوۃ ثم یوتی اللہ الملک من یشاء

(مشکوٰۃ: باب مناقب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) 

ترجمہ: یہ خلافتِ نبوت ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت عطاء فرمائے گا۔

اس حدیث کے متعلق چند معروضات ہیں: 

1: اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ کے بعد خلافت حضرت عثمانؓ کا درجہ ہے، جس سے ان لوگوں کا خیال رد ہو گیا کہ حضرت عمرؓ کے بعد حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا اچھا ہوتا۔  

2: حضرت عثمانؓ کے بعد ملوکیت ہو گی ہرچند کہ خلافتِ راشدہ کا اختتام سیدنا حضرت علیؓ پر ہوتا ہے، اور بالاتفاق آپ کی خلافت بھی خلافتِ راشدہ ہے، لیکن نبی کریمﷺ کے اس ارشاد سے حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی خلافت تک خلافتِ راشدہ کا ایک خاص اعلیٰ درجہ تھا جسے لسانِ نبوت نے خلافتِ نبوت فرمایا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی اصطلاح میں اس کا نام خلافتِ راشدہ خاصہ ہے جو حضرت عثمانؓ پر ختم ہو گئی۔  

3: اگرچہ یہ ایک صحابی کا خواب ہے مگر رسول اللہﷺ نے اس کو رد نہیں فرمایا بلکہ اس کو صحیح مان کر اس کی تعبیر بھی ارشاد فرمائی، اس لیے اس کے حجت ہونے میں کلام نہیں ہو سکتا۔  

صفحہ 1 از 4