مصنفِ نام و نسب کا کہنا ہے:
چونکہ حضرت امیرِ معاویہؓ کے عہدِ امارت میں خلافتِ راشدہ کی معنوی مشابہت پیدا نہ ہو سکی، اس لیے ان کا عہدِ امارت لائقِ اتباع نہیں، اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا دورِ خلافت چونکہ خلافتِ راشدہ کی مکمل تصویر تھا، اس لیے فَعَلَيكُم بِسُنَّتِی وَ سُنَّة الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ المَهدِيِّينَ کے مطابق ان کی سنت کا اتباع ضروری ہو گا۔
(ملخص نام و نسب: صفحہ 554، 555)
الجواب: سب سے پہلے تو خلافتِ راشدہ کی وضاحت ہونی چاہیے کہ وہ کیا ہے؟ امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبد الشکور صاحب لکھنوی فاروقی مجددی قدس سرہ (متوفی 1383ھ) فرماتے ہیں:
ہمارے پیغمبرﷺ کی خلافت ایک بڑا عظیم الشان کام ہے، جن کی قابلیت لوگوں میں متفاوت ہوتی ہے۔ لہٰذا علمائے محققین نے حسبِ ذیل مدارج بیان کیے ہیں:
درجہ اول: خلافتِ راشدہ خاصہ، جس کو خلافت علی منہاج النبوۃ بھی کہتے ہیں یہ درجہ خلافت کا سوائے ان لوگوں کے جو مہاجرینِ اولین میں سے ہوں اور آنحضرتﷺ کے ہمراہ تمام مشاہدِ خیر مثلِ بدر و حدیبیہ و تبوک وغیرہ میں شریک رہے ہوں، اور آیاتِ الہٰی کے وعدوں کے موعود لہم ہوں، اور آنحضرتﷺ نے ان کا عالی مرتبہ ہونا بیان فرمایا ہو، اور ان کا مستحقِ خلافت ہونا بھی ارشاد کیا ہو، اور ان کا خلیفہ بنانا بھی امت پر لازم کیا ہو، اور دینِ الہٰی کی تمکین ان کے ہاتھوں سے ہوئی ہو، کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہو سکتا۔
تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے اور علمائے محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ درجہ خلافت کا خلفائے ثلاثہؓ کو حاصل تھا اور انہی پر ختم ہو گیا۔
(حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ متوفی 1176ھ فرماتے ہیں:
بموت حضرت عثمانؓ خلافت خاصہ منقطع گشت و اکثر احادیث بہمیں مضمون وارد شدہ
(ازالۃ الخفاء: مقصد اول صفحہ 61)
سیدنا عثمانؓ کی وفات سے خلافتِ خاصہ منقطع ہو گئی اور اکثر حدیثیں اسی مضمون کی وارد ہوئی ہیں۔)
ان تینوں خلافتوں میں نبوت کا رنگ اس قدر غالب تھا کہ گویا آنحضرتﷺ پسِ پردہ بیٹھے ہوئے ہیں، اور یہ خلفاء (حضرت ابوبکر، حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہم) مثلِ بے جان لکڑی کے آپ کے ہاتھ میں ہیں آپ جس طرح چاہتے ہیں، یہ تینوں خلفاء مثلِ گراموفون کے ہیں کہ ان میں آنحضرتﷺ کی مقدس اور جان سے زیادہ پیاری آواز بھری ہوئی ہے جو آواز ان سے نکل رہی ہے وہ ان کی آواز نہیں بلکہ سردارِ انبیاءﷺ کی آواز ہے:
او بجز نائی و ماجز نئے نائم
دمے بے ماؤ مابے وی نائم
ان تینوں خلافتوں میں بھی حضراتِ شیخینؓ کی خلافت کا درجہ بہت عالی ہے۔
درجہ دوم:خلافتِ راشدہ مطلقہ یہ درجہ خلافت کا گو پہلے درجے سے رتبے میں کم ہے مگر اس کی شان بھی بہت ارفع و اعلیٰ ہے:
آسماں نسبت بعرش آمد فرود
ورنہ بس عالی است پیشِ خاکِ تود
یہ درجہ خلافت کا ان لوگوں کے لیے ہے جن کا مستحقِ خلافت ہونا اور صاحبِ فضائل ہونا آنحضرتﷺ نے بیان فرمایا ہے، مگر امت پر ان کا خلیفہ بنانا لازم نہ کیا۔
یہ درجہ عالی خلافت کا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو حاصل تھا اور چھے مہینے حضرت حسن مجتبیٰؓ کو حاصل رہا اور ان پر ختم ہو گیا۔ آنحضرتﷺ نے جو یہ بیان فرمایا کہ میرے بعد خلافت تیس (30) برس تک رہے گی، اس سے مراد یہی دونوں قسمیں خلافت کی ہیں۔
قسم سوم:خلافتِ عادلہ یہ درجہ پہلے دونوں درجوں سے بہت گھٹا ہوا ہے اور اس درجے کے حاصل ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ خلیفہ جامع الشرائط ہو اور مقاصدِ خلافت اس سے فوت نہ ہوتے ہوں اس کی ضرورت نہیں کہ آنحضرتﷺ نے اس کا استحقاقِ خلافت بیان فرمایا ہو حضرت امیرِ معاویہؓ کی خلافت اسی میں داخل ہے۔
خلافت کی یہ اقسام اور ان کا تفصیلی بیان حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ (متوفی 1176ھ) کی شہرہ آفاق کتاب ازالۃ الخفاء مقصد اول میں دیکھنا چاہیے۔
(تحفہ خلافت: صفحہ82، 84 چند ضروری مسائل)
اسی طرح شیخ الاسلام حضرت مولانا ظفر احمد عثمانیؒ متوفی 1394ھ فرماتے ہیں:
جو لوگ ترمذی کی حدیث الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ کہ خلافت میرے بعد تیس سال رہے گی سے حضرت امیرِ معاویہؓ کی خلافت کو ملوکیت قرار دیتے ہیں، وہ ذرا اس حدیث پر بھی غور فرمائیں جس کو امامِ ترمذیؒ و ابوداؤدؒ نے حضرت ابوبکرہؓ سے روایت کیا ہے:
ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے کہا، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک ترازو آسمان سے اتری اور آپﷺ اور حضرت ابوبکرؓ تولے گئے تو آپﷺ کا وزن زیادہ رہا، پھر سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ تولے گئے تو حضرت ابوبکرؓ (کا وزن) زیادہ رہا، پھر حضرت عمرؓ و حضرت عثمانؓ تولے گئے تو حضرت عمرؓ کا وزن زیادہ رہا۔ پھر وہ ترازو اٹھا لی گئی اس خواب کو سن کر رسول اللہﷺ رنجیدہ ہوئے اور فرمایا:
خلافۃ نبوۃ ثم یوتی اللہ الملک من یشاء
(مشکوٰۃ: باب مناقب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما)
ترجمہ: یہ خلافتِ نبوت ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بادشاہت عطاء فرمائے گا۔
اس حدیث کے متعلق چند معروضات ہیں:
1: اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ کے بعد خلافت حضرت عثمانؓ کا درجہ ہے، جس سے ان لوگوں کا خیال رد ہو گیا کہ حضرت عمرؓ کے بعد حضرت علیؓ کو خلیفہ بنانا اچھا ہوتا۔
2: حضرت عثمانؓ کے بعد ملوکیت ہو گی ہرچند کہ خلافتِ راشدہ کا اختتام سیدنا حضرت علیؓ پر ہوتا ہے، اور بالاتفاق آپ کی خلافت بھی خلافتِ راشدہ ہے، لیکن نبی کریمﷺ کے اس ارشاد سے حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی خلافت تک خلافتِ راشدہ کا ایک خاص اعلیٰ درجہ تھا جسے لسانِ نبوت نے خلافتِ نبوت فرمایا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی اصطلاح میں اس کا نام خلافتِ راشدہ خاصہ ہے جو حضرت عثمانؓ پر ختم ہو گئی۔
3: اگرچہ یہ ایک صحابی کا خواب ہے مگر رسول اللہﷺ نے اس کو رد نہیں فرمایا بلکہ اس کو صحیح مان کر اس کی تعبیر بھی ارشاد فرمائی، اس لیے اس کے حجت ہونے میں کلام نہیں ہو سکتا۔
4: رسول اللہﷺ اس خواب کو سن کر رنجیدہ کیوں ہوئے؟ اس کا سبب واللہ اعلم یہ ہے کہ حضورِ اکرمﷺ کو یہ معلوم کر کے رنج ہوا کہ خلافتِ راشدہ خاصہ کی مدت تین خلفاء پر ختم ہو جائے گی اس کے بعد خلافت کی وہ شان نہ رہے گی جو خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں تھی۔ چنانچہ اس کے بعد مسلمان کافروں سے لڑنے کے بجائے آپس میں لڑنے لگے، تا آنکہ حضرت حسنؓ نے خلافت کی باگ ڈور حضرت امیرِ معاویہؓ کے ہاتھ میں دے دی تو پھر بحر و بر میں اسلامی جھنڈا لہراتا ہوا نظر آنے لگا اور فتوحاتِ اسلامیہ کا دروازہ کھل گیا۔
(برأت عثمان: صفحہ63، 64، تحت: برأت عثمان)
اور ایک مقام پر حضرت شیخ الاسلامؒ فرماتے ہیں:
کہا جاتا ہے کہ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ:
الخلافۃ بعدی ثلاثون سنۃ ثم تکون ملکاً
ترجمہ: میرے بعد خلافت تیس سال رہے گی، پھر بادشاہی ہو گی۔
اگر اس حدیث کے ضعف سے قطع نظر کر لی جائے جیسا کہ ناقدینِ حدیث نے تصریح کی ہے، تو ایک دوسری حدیث میں یہ بھی ہے:
تدور رحی الاسلام لخمس وثلاثین او ست وثلاثین او سبع وثلاثین
(رواہ ابوداؤد، مشکوٰۃ: صفحہ 465)
اسلام کی چکی میرے بعد پینتیس یا چھتیس سال یا سینتیس سال تک چلتی رہے گی اس کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ سینتیس سال کے بعد حکومتِ اسلام ختم ہو جائے گی، یہ تو واقعے کے خلاف ہے بس یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ اسلام اپنی پوری شان کے ساتھ صحیح طریقے پر اپنی مدت تک رہے گا، تو اس میں سات سال خلافتِ امیرِ معاویہؓ کے بھی شامل ہیں پھر ان کو خلفاء سے الگ کیونکر کیا جا سکتا ہے؟ نیز مسلم شریف کی حدیثِ صحیح میں حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
لا یزال ہذا الدین عزیزاً منیعاً الی اثناء عشر خلیفۃ کلہم من قریش۔
(مسلم: جلد2 صفحہ119)
ترجمہ: یہ دینِ اسلام معزز اور مضبوط رہے گا بارہ خلفاء تک جو سب قریش سے ہوں گے۔
ان بارہ میں حضرت امیرِ معاویہؓ یقیناً داخل ہیں کہ وہ یقیناً صحابی ہیں اور ان کی خلافت میں اسلام کو عروج بھی بہت تھا، فتوحات بھی ہوئیں حدیث میں ان کو بارہ خلیفہ کہا گیا ہے، ملک نہیں کہا گیا مجمع الزوائد اور جامع صغیر میں ہے:
ان عدۃ الخلفاء بعدی عدۃ نقباء موسیٰ
ترجمہ: میرے خلفاء کی تعداد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نقباء کے برابر ہے اس سے بھی بارہ خلفاء کا خلیفہ ہونا ثابت ہے قرآن میں بھی آیا ہے کہ:
وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَىۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا
(سورۃ المائدۃ: آیت 12)
ترجمہ: ہم نے قومِ موسیٰ میں بارہ نقیب مقرر کیے تھے۔
(ایضاً: صفحہ 45، 46 تحت: مطالب قصاص کا حق)
ان تمام ابحاث و تصریحات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کا شمار خلفائے اسلام میں ہے اور حدیثِ سفینہؓ سے مراد یہ لینا کہ خلافتِ راشدہ کے بعد کا دور سراسر غیر اسلامی دور ہے، جیسا کہ مصنفِ نام و نسب کا خیال ہے، قرینِ انصاف و دانش مندی نہیں جس طرح خود خلافتِ راشدہ کا پورا عہد یکساں نہیں تھا بلکہ اس کا اول اس کے آخر سے کئی حیثیتوں سے ممتاز تھا، اسی طرح سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کا عہدِ خلافت کم و بیش فرق کے ساتھ ٹھیٹھ اسلامی عہد تھا پھر خلافتِ راشدہ کے عہد میں شامل نہ ہونے کی بناء پر کوئی خلیفہ موجبِ طعن نہیں ٹھہر سکتا، یہ تو ایک تکوینی امر ہے سیدنا علی المرتضیٰؓ کا اپنا دورِ خلافت خلافتِ راشدہ مطلقہ کا دور کہلاتا ہے تو کیا یہ بات نعوذ باللہ سیدنا علیؓ کے حق میں موجبِ قدح ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ اس میں تو انسانی عقل و ہمت اور جہد و سعی کا دخل ہی نہیں ہے۔ یہ بات تو ذٰلِكَ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ کے زمرے میں آتی ہے۔
ہماری ان تمام باتوں سے یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ ہم خلفائے راشدینؓ کے عہدِ خلافت کو سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے برابر ٹھہرا رہے ہیں۔ حاشا و کلا۔ ہم اس بات کا کھلے لفظوں میں اقرار کرتے ہیں کہ عہدِ خلافتِ امیرِ معاویہؓ اور خلافتِ راشدہ میں فرق تو بے شک تھا، لیکن یہ فرق ظلم و عدل، فسق و تقویٰ، کذب و صداقت یا امانت و خیانت کا فرق نہیں تھا، بلکہ یہ فرق عزیمت و رخصت کا، تقویٰ و مباحات کا، اور احتیاط و توسع کا اور اصابتِ رائے و قصورِ اجتہاد کا فرق تھا اور جن حضرات کو سیدنا امیرِ معاویہؓ کے عہدِ خلافت میں کچھ کمی نظر آتی تھی، وہ خلفائے راشدینؓ مہدیین کی نسبت سے نظر آتی تھی بقول شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم:
لیکن اس سے اس بات کا کوئی جواز نہیں نکلتا کہ ساڑھے تیرہ سو برس کے بعد کوئی شخص بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اس تاثر کو بنیاد بنا کر حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہدِ حکومت میں آج کی گندی سیاست کے تمام مظاہرے تلاش کرنے شروع کر دے اور تحقیق کے بغیر ان پر جھوٹ، خیانت، رشوت، اخلاقی پستی، ظلم و جور، بے حمیتی اور سیاسی بازی گری کے وہ تمام الزامات عائد کر ڈالے جو آج کے سیاست دانوں میں نظر آتے ہیں واقعہ یہ ہے کہ خلافتِ راشدہ کی نسبت سے اس عہدِ حکومت میں فرق ضرور تھا، لیکن فسق و معصیت اور ظلم و جور کی حد تک نہیں پہنچا تھا۔ ان کی حکومت، حکومتِ عادلہ ہی تھی۔
(حضرتِ معاویہؓ نئے اور تاریخی حقائق: صفحہ146 تحت: حضرتِ معاویہؓ کی عہدِ حکومت کی صحیح حیثیت)
حافظ ابنِ تیمیہؒ (متوفی 728ھ) فرماتے ہیں:
فَلَم یَکُن مِن مُلُوکِ المُسلِمِینَ مَلِکٌ خَیرٌ مِن مُعَاوِیَۃَ، وَلَا کَانَ النَّاسُ فِی زَمَانِ مَلِکٍ مِنَ المُلُوکِ خَیرًا مِنهُم فِی زَمَنِ مُعَاوِیَۃَ، إِذَا نُسِبَت أَیَّامُهُ إِلَی أَیَّامِ مَن بَعدَهُ، وَأَمَّا إِذَا نُسِبَت إِلَی أَیَّامِ أَبِی بَکرٍ وَعُمَرَ ظَهَرَ التَّفَاضُلُ۔
(منہاج السنۃ: جلد3 صفحہ 185، فصل: والقاعدۃ الکلیۃ فی ہٰذا ان لا نعتقد ان احداً معصوم بعد النبی الخ، تحت: السبب السابع)
مسلمان بادشاہوں میں سے کوئی بھی حضرت امیرِ معاویہؓ سے بہتر نہیں ہوا، اور اگر ان کے زمانے کا مقابلہ بعد کے زمانوں سے کیا جائے تو عوام کسی بادشاہ کے زمانے میں اتنے خوش نہیں رہے جتنے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہاں! اگر ان کے زمانے کا مقابلہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے زمانوں سے کیا جائے تو فضیلت کا فرق ظاہر ہو جائے گا۔
اب عہدِ خلافتِ راشدہ اور عہدِ خلافتِ سیدنا امیرِ معاویہؓ میں جو فرق تھا، اسے علمِ عقائد کے مشہور عالمِ دین علامہ عبد العزیز فرہارویؒ (متوفی 1240ھ) کی زبانی سنیں:
قُلتُ لِأَهلِ الخَیرِ مَرَاتِبُ بَعضُهَا فَوقَ بَعضٍ، وَکُلُّ مَرتَبَةٍ مِنهَا یَکُونُ مَحَلَّ قَدحٍ بِالنِّسبَةِ إِلَی الَّتِی فَوقَهَا وَلِذَا قِیلَ حَسَنَاتُ الأَبرَارِ سَیِّئَاتُ المُقَرَّبِینَ، وَفَسَّرَ بَعضُ الکُبَرَاءِ قَولَهُ عَلَیہِ الصَّلَوۃُ وَالسَّلَامُ: إِنِّی لَأَستَغفِرُ اللهَ فِی الیَومِ أَکثَرَ مِن سَبعِینَ مَرَّةً، بِأَنَّهُ کَانَ دَائِمَ التَّرَقِّی، وَکُلَّمَا کَانَ یَتَرَقَّی إِلَی مَرتَبَةٍ استَغفَرَ عَنِ المَرتَبَةِ الَّتِی قَبلَهَا وَإِذَا تَقَرَّرَ ذَلِکَ فَنَقُولُ: کَانَ الخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ لَم یَتَوَسَّعُوا فِی المُبَاحَاتِ، وَکَانَت سِیرَتُهُم سِیرَةَ النَّبِیِّﷺ فِی الصَّبرِ عَلَی ضِیقِ العَیشِ وَالجَهدِ وَأَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَهُوَ إِن لَم یَرتَکِب مُنکَرًا لَکِنَّهُ تَوَسَّعَ فِی المُبَاحَاتِ، وَلَم یَکُن فِی دَرَجَةِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِینَ فِی أَدَاءِ حُقُوقِ الخِلَافَةِ، لَکِنَّ عَدَمَ المُسَاوَاۃِ بِهِم لَا یُوجِبُ قَدحًا فِیہِ۔
(النبراس علی شرح العقائد: صفحہ309 نصب الامام واجب بالاجماع)
ترجمہ: اہلِ خیر کے مختلف مراتب ہوتے ہیں، جن میں سے بعض دوسرے بعض سے بلند ہوتے ہیں ان میں سے ہر مرتبہ اپنے سے فائق مرتبے کے اعتبار سے محلِ قدح ہوتا ہے اسی لیے مشہور مقولہ ہے: نیک لوگوں کے حسنات مقربین کی برائیاں ہوتی ہیں اور آنحضرتﷺ سے یہ جو ارشاد مروی ہے کہ میں دن میں ستر سے زائد بار اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، اس حدیث کی تشریح بعض اکابر نے یوں بیان کی ہے کہ آپﷺ کے درجاتِ عالیہ میں ہر آن ترقی ہوتی رہتی تھی اور آپ جب بھی ترقی کا کوئی اگلا درجہ حاصل کرتے تو پچھلے درجے سے استغفار فرماتے تھے جب یہ بات طے ہو گئی تو ہم یہ کہتے ہیں کہ خلفائے راشدینؓ نے مباحات میں توسع سے کام نہیں لیا تھا اور تنگیِ عیش پر صبر و جہد کے معاملے میں ان کی سیرت سرورِ دو عالمﷺ کی سیرت سے مشابہ تھی رہی بات حضرت امیرِ معاویہؓ کی، سو اگرچہ وہ کسی منکر کے مرتکب تو نہیں ہوئے لیکن انہوں نے مباحات میں (قدرے) توسع سے کام لیا اور حقوقِ خلافت کی ادائیگی میں وہ خلفائے راشدینؓ کے درجے میں نہیں تھے، لیکن ان کی برابری نہ کر سکنا ان کے لیے (کسی طرح بھی) موجبِ قدح نہیں ہے۔
اس ناکارہ کے مخدوم و کریم بزرگ مفکرِ اسلام، سلطان المتکلمین، امام المناظرین حضرتِ اقدس علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب اطال اللہ حیاتہ نے بھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کے عہدِ خلافت پر جس مدلل انداز میں جامع تبصرہ فرمایا ہے، وہ آپ ہی پر بس ہے، اسے ملاحظہ فرمائیے:
حضرت امیرِ معاویہؓ کا دورِ حکومت خلافتِ راشدہ اور خلافتِ عامہ کے مابین کا عبوری دور ہے آپ کی حکومت خلافتِ عادلہ تھی جس میں کتاب و سنت کو آئینی بالا دستی حاصل تھی اور عدل و انصاف کی حدود قائم تھیں، لیکن اس کا معیار خلافتِ راشدہ کے دوسرے درجے پر تھا خلفائے راشدین سیرتِ نبویﷺ کے بہت زیادہ قریب تھے روزمرہ کی زندگی میں صبر و ایثار کا پیمانہ تھا بشری تقاضوں میں وہ جہد و مشقت سے گزرتے تھے اور مباح امور میں وہ توسع و فراخی کی راہ سے نہیں، ترک و تقویٰ کی راہوں پر چلتے تھے حضرت امیرِ معاویہؓ گو اپنے پورے دورِ خلافت میں کسی خلافِ شرع راہ پر نہیں چلے، لیکن مباح امور میں وہ کبھی وسعت سے بھی کام لیتے تھے، اور وقت گزرنے سے اس توسع کا اوپر کے حلقے میں آ جانا ایک فطری امر تھا حق یہ ہے کہ آپ کا دورِ حکومت خلافت تھا آپ نے حکومت کسی سے وراثت میں نہ لی تھی سیاسی راہ سے آپ اقتدار پر آئے تھے آپ کا پہلا دورِ حکومت حضرتِ عمرؓ و حضرت عثمانؓ کی نیابت میں تھا اور دوسرا دور حضرت حسنؓ کی صلح سے شروع ہوتا ہے جو ملک کی قومی و سیاسی سطح پر قائم ہوا تھا۔ ثم ملکاً (کہ خلافت پھر ملوکیت ہو جائے گی) میں لفظ ثم یعنی (پھر اس کے بعد) غور طلب ہے، اور اس سے وہ حکومت مراد ہو گی جو اس تیس سال کے بعد شروع ہو، اور حضرت امیرِ معاویہؓ کی حکومت تو تیس سال کے اندر سے شروع ہو چکی تھی، گو وہ خلافتِ تامہ کی صورت میں نہ تھی ہاں، خلافت علی منہاج النبوۃ کے حکمران خلفائے اربعہ ہی ہیں خلافتِ راشدہ اور خلافتِ عادلہ کے اس فرق کو عقائدِ نسفی کی شرح نبراس میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔
اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مباح امور میں خلفائے اربعہ تحرز و اجتناب کی راہ سے چلے اور یہ عزیمت کی راہ تھی، اور سیدنا امیرِ معاویہؓ نے ایسے کئی مواقع پر توسع و رخصت کی راہ اختیار فرمائی۔
(مباحات میں توسع کی وجہ بیان کرتے ہوئے حضرت علامہ عبد العزیز فرہاروی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:
وَلَعَلَّ تَوَسُّعَهُ فِیهَا لِقُصُورِ هِم سَائِرِ أَبنَاءِ الزَّمَانِ، وَإِن لَم یُوجَد فِیهِ ذَلِکَ کَمَا عَلِمتَ، وَأَمَّا رُجحَانُ الخُلَفَاءِ الأَربَعَةِ فِی العِبَادَاتِ وَالمُعَامَلَاتِ فَظَاهِرٌ لَا خَفَاءَ فِیهِ۔
(الناہیہ: صفحہ 46 تحت: فصل فی الاجوبۃ عن مطاعنہ)
ترجمہ: اور شاید ان کا مباحات میں توسع اختیار کرنا ابنائے زمانہ کے قصورِ ہمت کی بناء پر تھا، اگرچہ خود ان کی ذات میں یہ چیز نہیں تھی جیسا کہ معلوم ہو چکا ہے باقی خلفائے اربعہ کا عبادات و معاملات میں رجحان بالکل ظاہر ہے، جس میں کوئی خفا نہیں۔)
اور یہ کسی پہلو سے محلِ اعتراض و موجبِ طعن نہیں ہاں، افضلیت اور بات ہے آپ کی حکومت کو اگر کسی پہلو سے ملوکیت بھی کہا جائے تو یہ ایسی ملوکیت تھی جس سے خلافت کی نفی نہیں کی جا سکتی اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سیدنا حسنؓ خلافت کو ملوکیت کے سپرد کر دیں اس جہت سے تو ملوکیت کے بانی حضرت حسن رضی اللہ عنہ ہو جائیں گے کہ انہوں نے خلافت کو ملوکیت کے سپرد کیا، اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں ان کا یہ اقدام محلِ مدح نہ رہے گا، حالانکہ آپﷺ نے اپنی ایک پیشین گوئی میں حضرت حسنؓ کے اس اقدام کو محلِ مدح میں ذکر کیا ہے کہ اس امت کے دو فریقِ عظیمہ آپؓ کے اس اقدام یعنی صلح سے ایک ہو جائیں گے۔ واللہ اعلم و علمہ اتم و احکم۔
(عبقات: صفحہ422، 423)
یہ ہے عہدِ خلافتِ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی صحیح حیثیت البتہ یہاں ایک شبہ وارد ہوتا ہے، اس کا ازالہ بھی ضروری ہے، وہ یہ کہ بعض علماء نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کو ملوک (بادشاہ) کہہ کر خطاب کیا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟
علامہ ابنِ حجر ہیتمی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
جو شخص حضرت امیرِ معاویہؓ کی حکومت پر ملوکیت کے لفظ کا اطلاق کرتا ہے اس سے اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ان کی حکومت میں مذکورہ اجتہادات واقع ہوئے، اور جو شخص اسے خلافت قرار دیتا ہے اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی دستبرداری اور اہلِ حل و عقد کے اتفاق کے بعد وہ خلیفہ برحق واجب الاطاعت تھے اور اطاعت کے لحاظ سے لوگوں پر ان کے وہی حقوق تھے جو ان سے پہلے خلفائے راشدینؓ کو حاصل تھے۔
(الصواعق المحرقۃ: صفحہ 219 فی بیان اعتقاد و اہل السنت والجماعت فی الصحابہ)