سیدنا علی رضی اللہ عنہ، عہد عثمانی میں سیدنا عثمان رضی اللہ…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ، عہد عثمانی میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت

  علی محمد محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروقؓ کی تدفین کے فوراً بعد شوریٰ کی منتخب کمیٹی اور اس کے اعلیٰ ممبران ام المؤمنین سیدہ عائشہؓ کے گھر میں جمع ہوئے اور بعض روایات کے مطابق ضحاک بن قیس کی بہن فاطمہ بنت قیس کے گھر جمع ہوئے تاکہ حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد مسلمانوں کی زندگی میں جو سب سے اہم معاملہ درپیش ہے، اسے حل کیا جائے تمام ممبران نے اپنی اپنی رائے نہایت وضاحت و تفصیل سے پیش کیں، اور اللہ کے فضل سے جس نتیجہ پر پہنچے عوام و خواص سب نے اسے خوشی خوشی تسلیم کیا

(عثمان بن عفان: صادق عرجون: صفحہ 62، 63) 

 مجلس شوریٰ کی کارروائی کی نگرانی اور خلیفہ کے انتخاب میں عبدالرحمٰن بن عوفؓ سب سے اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ خلافت کی ذمہ داریاں کون سنبھالے گا اور مسلمانوں کے معاملات کی تدبیر و سیاست کون کرے گا، اس کے لیے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے منظم شورائیت کا واضح ترین نمونہ پیش کیا اور اپنی عظیم ذمہ داری کو بحسن و خوبی نبھانے کے لے نہایت صبر و ضبط، جہد مسلسل اور حسن تدبیر سے کام لیا اور کامیاب ہوئے۔

(عثمان بن عفان: 70، 71)۔

 یقیناً جتنی جانفشانی اور مہارت سے حضرت علیؓ نے قافلۂ شوریٰ کی قیادت کی اس پر آپ قابل مبارکباد ہیں۔ 

(مجلۃ البحوث الإسلامیۃ: عدد 10 صفحہ 255)۔

امام ذہبی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا افضل ترین عمل یہ رہا کہ آپ نے شوری کے وقت خود کو استحقاقِ خلافت سے الگ رکھا، اور اہل حل و عقد کے مشورہ کے مطابق خلیفہ کا انتخاب کیا۔ اور امت مسلمہ کو حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت پر متحد کرنے کے لیے نہایت مستعدی اور ہوشمندی کا ثبوت دیا، اس سلسلہ میں اگر حضرت علیؓ جانبدار ہوتے تو منصبِ خلافت کو خود لے لیتے، یا اپنے عم زاد بھائی، اور ممبران کمیٹی میں اپنے قریبی حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو اس پر بیٹھا دیتے۔‘‘ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 86)۔

لیکن آپ نے ایسا نہ کیا اور بالآخر ذوالحجہ 23ھ کے آخری دن مطابق 6 نومبر 644ء کو سب نے بالاتفاق سیدنا عثمان غنیؓ کے ہاتھ پر بیعت کر کے انھیں اپنا خلیفہ منتخب کر لیا۔ صہیب رومیؓ انتخابِ خلیفہ تک مدینہ کے عارضی امام تھے۔ مجلس شوریٰ کے ممبران منبر رسول اللہﷺ کے پاس جمع ہوئے، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ تشریف لائے، آپؓ کے سر پر وہ پگڑی تھی جسے دستِ رسولﷺ نے کبھی آپ کے سرپر باندھا تھا۔ آپ نے موجود مہاجرین، انصار اور فوجی سربراہوں کو یعنی شام کے امیر معاویہؓ، حمص کے امیر عمیر بن سعد اور مصر کے امیر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کو بلوایا۔ یہ لوگ حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ حج میں شریک ہوئے تھے اور آپ ہی کی معیت میں مدینہ آئے تھے۔ (شہید الدار: صفحہ 37)

صحیح بخاری کی روایت ہے کہ جب لوگوں نے صبح کی نماز پڑھ لی، تو یہ (چھ اشخاص) منبر کے پاس جمع ہو گئے، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے مدینہ میں موجود سب مہاجرین و انصار کو بلایا بھیجا، اور ان فوجی سربراہوں کو بھی جنھوں نے حضرت عمرؓ کے ساتھ حج ادا کیا تھا، اور موجود تھے، جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے خطبہ مسنونہ پڑھا، پھر کہنے لگے: علی تم برا نہ ماننا میں نے سب لوگوں سے اس معاملہ میں گفتگو کی وہ حضرت عثمانؓ کو مقدم رکھتے ہیں، ان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، اس لیے آپ اپنے دل میں کوئی میل نہ پیدا کریں، پھر حضرت عثمانؓ سے کہا: میں تم سے اللہ کے دین، اس کے رسولﷺ کی سنت اور اس کے بعد دونوں خلفاء کے طریق پر بیعت کرتا ہوں، یہ کہہ کر حضرت عبدالرحمٰنؓ نے بیعت کی اور جتنے مہاجرین و انصار، فوجی سربراہ اور عام مسلمان وہاں موجود تھے سب نے بیعت کر لی۔

(صحیح البخاری: الأحکام حدیث نمبر 7207)۔

اور ’’التمہید والبیان‘‘ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے بعد سب سے پہلے سیدنا علیؓ نے بیعت کی۔ 

(التمہید والبیان: صفحہ 26)۔