حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابیسلسلہ نسب: عبداللہ بن سعد بن ابی سرح بن حارث بن حبیب بن حذافہ بن مالک بن حِسْل بن عامر بن لوی القرشی العامری۔
(الاصابۃ: (4729)
مؤرخین عام طور سے جب حضرت عبداللہ بن سعدؓ اور عہدِ عثمانی میں مصر پر ان کے گورنر بنائے جانے کا تذکرہ کرتے ہیں تو خاص کر یہ عبارت استعمال کرتے ہیں: ’’حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے رضاعی بھائی حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو مصر کا گورنر مقرر کیا۔‘‘
"(دیکھیے: الکامل: ابن اثیر: جلد 3 صفحہ 88)
مصر پر بحیثیت گورنر تقرری کے ساتھ ساتھ رضاعی بھائی ہونے کا تذکرہ بعض مؤرخین کی جانب سے حضرت عثمان غنیؓ پر اس اتہام کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اس منصب کے قابل نہ تھے، لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے محض رضاعی بھائی ہونے کی وجہ سے اتنا عظیم منصب انہیں عطا کر دیا۔ لیکن مؤرخین کا یہ خیال محض غلط ہے اس میں ذرا بھی صداقت نہیں۔ ہم امیر المؤمنین عثمان غنیؓ پر اس اتہام کی تردید کے لیے بنو عامر بن لوی کے اس مرد مجاہد (فصل الخطاب فی مواقف الاصحاب: صفحہ 77) حضرت عبداللہ بن سعدؓ کی خدمات اور کارناموں کا تذکرہ کریں گے۔ آپ کو مصر اور اس کے اطراف کا اچھا خاصا تجربہ حاصل تھا، کیوں کہ آپ عمرو بن العاصؓ کے ساتھ مصر کی فتح میں شریک تھے، اور خلافت فاروقی میں مصر کے بعض علاقوں کی امارت بھی سنبھال چکے تھے، چنانچہ ’’صعید‘‘ مصر کے آپ امیر تھے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: صفحہ 418)
اسی طرح خلافتِ عثمانی کے ابتدائی دور میں بھی آپ صعید مصر کے امیر تھے، جس کی وجہ سے آپ کے اندر یہ اہلیت پیدا ہو چکی تھی کہ آپ پورے مصر کی امارت عامہ کو سنبھال سکیں۔ ان تجربات کی وجہ سے حضرت عمرو بن العاصؓ کے بعد آپ اس منصب کے لیے سب سے قوی ترین امیدوار تھے۔ حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے خراج مصر کو منظم کرنے میں کامیابی حاصل کی، یہاں تک کہ خراج کا محصول آپ کے دور میں حضرت عمرو بن العاصؓ کے زمانے سے زیادہ جمع ہونے لگا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آپ نے اخراجات کے سلسلہ میں نئی سیاست اختیار کی جو حضرت عمرو بن العاصؓ کی سیاست سے مختلف تھی، جس کے نتیجہ میں اموال خراج میں اضافہ ہوا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 180)
حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے مختلف مقامات پر علمِ جہاد بلند کیا، اور متعدد فتوحات ہوئیں جو عظمت کی حامل رہیں، آپ کے معرکوں میں سے افریقہ (تونس) کا معرکہ عظیم 27ھ میں پیش آیا، فتح و کامیابی سے ہمکنار ہوئے، اور اس کے بادشاہ جرجیر کو قتل کیا، آپ کے ساتھ اس معرکہ میں بہت سے صحابہ شریک تھے جن میں عبداللہ بن زبیر، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمرو بن العاص وغیرہم رضی اللہ عنہم سر فہرست ہیں، اور آخرکار مسلمانوں کو جزیہ کی ادائیگی پر افریقہ کے پادری کے ساتھ مصالحت ہوئی
(فتوح مصر و اخبارہا: صفحہ 183، الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 180)
اور 33ھ میں حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ دوبارہ افریقہ پہنچے اور وہاں اسلام کی ساخت مضبوط کی۔
(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 80)
حضرت عبداللہ بن سعدؓ کے اہم کارناموں میں سے معرکہ نوبہ ہے جس کو بعض مؤرخین نے معرکہ ’’اساودہ‘‘ یا معرکہ ’’حبشہ‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ معرکہ 31ھ میں پیش آیا، مسلمانوں اور نوبیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی اس میں بہت سے مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، کیوں کہ نوبی تیر اندازی میں ماہر تھے۔ آخرکار مصالحت پر یہ بات طے ہو گئی کہ نوبی مقررہ جزیہ مسلمانوں کو ادا کرتے رہیں گے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 181، فتوح مصر و اخبارہا: صفحہ 188)
حقیقت میں حضرت عبداللہ بن سعدؓ پہلے مسلم جرنیل ہیں جنھوں نے نوبہ پر حملہ کیا، اور ان سے قتال کر کے ان پر جزیہ عائد کیا، آپ کے دور امارت میں یہی حالت رہی اور نوبی برابر جزیہ ادا کرتے رہے۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن سعدؓ کے اہم ترین جنگی کارناموں میں سے معرکہ ذات الصواری ہے، جس میں مسلمانوں کو رومیوں پر فتح حاصل ہوئی۔ مصریوں کے نزدیک آپ کا دور امارت عام طور سے قابل تعریف رہا، کوئی ناپسندیدہ بات پیش نہ آئی، سبھی خوش رہے۔ مقریزی کا بیان ہے:
’’حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کی پوری مدت میں آپؓ امیر رہے اور پوری مدتِ امارت آپؓ کی تعریف کی جاتی رہی۔‘‘
(الخطط: جلد 1 صفحہ 299)
امام ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں:
’’پوری مدتِ امارت میں کوئی قابل گرفت کام نہ کیا کہ جسے ناپسند کیا جائے۔ آپ عقلاء اور سخی لوگوں میں سے ایک تھے۔‘‘
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 34)
مصر کی امارت ابتداء میں بڑی پرسکون تھی، امن و استقرار کا دور دورہ تھا، یہاں تک کہ عبداللہ بن سبا جیسے فتنہ پرداز وہاں پہنچے، اور لوگوں کو بھڑکانا شروع کیا، ان سبائیوں اور ان سے متاثر افراد کا حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت میں اہم رول رہا، اور اس طرح مصر کے حالات وہاں سے شرعی والی کو نکال دینے اور غیر شرعی طریقہ پر دوسرے لوگوں کے قابض ہو جانے کی وجہ سے مضطرب ہو گئے تھے، اور اس مدت میں یہ لوگ خلیفہ راشد حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف لوگوں کے دلوں میں بغض و کراہیت پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے، ان کی دسیسہ کاریوں اور من گھڑت افواہوں اور اکاذیب کے نتیجہ میں ایسا ہوا۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 186)
اس کی تفصیل ان شاء اللہ عنقریب آئے گی۔ جب شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ کا فتنہ رونما ہوا تو حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے مصر کو چھوڑ کر فلسطین میں ’’عسقلان‘‘ یا ’’رملہ‘‘ میں سکونت اختیار کر لی۔ امام بغویؒ نے بہ سند صحیح یزید بن ابی حبیب سے روایت کی ہے:
’’عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ (فلسطین) چلے گئے، اور صبح کے وقت یہ دعا کی اے اللہ! صبح کی نماز کو میرا آخری عمل بنا دے، وضو کیا پھر نماز پڑھی، دائیں جانب سلام پھیرا، بائیں طرف سلام پھیرنے لگے کہ اتنے میں اللہ نے روح قبض کر لی۔‘‘
(الاصابۃ: 4729، سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 35)