Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مصر

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاصؓ تھے، جنھوں نے تقریباً چار سال تک مصر پر حکومت کی۔

(النجوم الزاہرۃ فی ملوک مصر والقاہرۃ: دیکھیے۔جمال الدین بردي: جلد 1 صفحہ 77)

حضرت عمر فاروقؓ کی وفات کے وقت بھی آپ ہی مصر کے گورنر تھے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کی ابتداء میں ایک عرصہ تک ان کو ان کے عہدہ پر باقی رکھا اور مصر کے بعض علاقوں میں حضرت عبداللہ بن سعدؓ بن ابی سرح آپ کے معاون کی حیثیت سے تھے،

(سیر اعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 33) 

جو فلسطین کی فتوحات کے وقت ہی سے حضرت عمرو بن العاصؓ کے ساتھ تھے، اور آپ کے جرنیلوں میں سے ایک تھے اور مصر کی فتح میں حضرت عثمانؓ کے ساتھ شریک رہے۔

(ایضاً)

اور صعید مصر کی فتح کے بعد سیدنا عمر بن خطابؓ نے ان کو اس کے بعض علاقوں پر متعین فرما دیا تھا۔

(ولاۃ مصر: الکندی: صفحہ 33، فتوح مصر و اخبارہا: صفحہ 173)

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرو بن العاص اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہما کے مابین اختلاف رائے رونما ہوا جس کی وجہ سے بیعت خلافت کے بعد حضرت عثمانؓ کی خدمت میں حضرت عمرو بن العاصؓ حاضر ہوئے اور حضرت عثمانؓ سے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو ’’صعید‘‘ کی ولایت سے معزولی کا مطالبہ کیا، لیکن حضرت عثمانؓ نے منظور نہ کیا اور ان سے کہا کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو متعین کیا تھا اور اس نے ایسا کوئی فعل نہیں کیا ہے جو معزولی کا موجب ہو۔ لیکن حضرت عمرو بن العاصؓ ان کی معزولی کے لیے مصر رہے اور حضرت عثمانؓ عدم معزولی کے مؤقف پر قائم رہے۔ طرفین کے اس اصرار کے نتیجہ میں حضرت عثمانؓ نے مناسب یہ سمجھا کہ حضرت عمرو بن العاصؓ کو ہی معزول کر دیا جائے چنانچہ ان کو مصر کی گورنری سے معزول کر کے ان کی جگہ حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو مصر کا گورنر مقرر فرما دیا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 178) 

انہی حالات میں رومیوں نے اسکندریہ پر حملہ آور ہو کر اس پر قبضہ کر لیا، اور وہاں موجود تمام مسلمانوں کو شہید کر دیا، اس کے پیشِ نظر حضرت عثمانؓ نے اسکندریہ کو دوبارہ فتح کرنے اور رومی فوج کو ختم کرنے کے لیے حضرت عمرو بن العاصؓ کو مصری افواج کا کمانڈر اِن چیف مقرر فرمایا

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 178، 179) 

اس کی تفصیل ہم فتوحات کے ضمن میں بیان کر چکے ہیں، پھر حضرت عثمانؓ کا ارادہ ہوا کہ حضرت عمرو بن العاصؓ کو لشکر مصر اور جنگ پر مقرر کر دیں، اور حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو خراج کی وصولی پر، لیکن حضرت عمرو بن العاصؓ نے اس کو قبول کرنے سے معذرت کر دی۔ عہدِ عثمانی میں تاریخ کے صفحات میں حضرت عمرو بن العاصؓ کا ذکر بحیثیت گورنر تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، صرف اسکندریہ سے رومی افواج کے مار بھگانے، مصر میں امن و امان بحال کرنے اور خراج سے متعلق جو اختلاف رائے عثمان اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے مابین رونما ہوا اسی کا ذکر ملتا ہے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 179، فتوح البلدان: صفحہ 216) 

 حضرت عمرو بن العاصؓ کی معذرت کے بعد حضرت عثمانؓ نے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو مصر پر بحیثیت گورنر متعین کر دیا، اور مصر کے سرکاری گورنر وہی رہے، لشکر جہاد و خراج اور دیگر تمام امور انہی کے سپرد رہے۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 179)

مصر میں امن و امان بحال رہا، لیکن حضرت عثمانؓ کے آخری دور میں جب فتنہ پرور وہاں پہنچے اور عبداللہ بن سبا کی تحریک نے وہاں اپنے پنجے جمائے تو وہاں کا امن و استقرار پامال ہوا، اور سبائی تحریک اور اس سے متاثر افراد کا حضرت عثمانؓ کی شہادت میں اہم کردار رہا۔

(الولایۃ علی البلدان: جلد 1 صفحہ 186)

اس کی تفصیل ان شاء اللہ اپنے مقام پر آئے گی۔