Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ کی چوتھی دلیل

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

 قال النبیﷺ يا ايها الناس انی تارك فيكم الثقلين كتاب الله و عشرتی ان تمسكتم بهما لن تضلوا بعدی۔

ترجمہ: حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا میں چھوڑے جاتا ہوں تم میں دو وزنی چیزیں کتاب اللہ اور اپنے اقارب کو اگر تم ان کی اتباع کرو گے میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہو گے۔

اس حدیث سے بھی شیعہ سیدنا امیرؓ (سیدنا علیؓ) کی خلافت بلافصل کا استدلال کرتے ہیں حالانکہ اس حدیث میں بھی کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس سے خلافت آں جناب پر دلالت ہو۔

ہاں یہ امر تنقیح طلب ہے کہ شیعہ و سنی ہر دو فریق سے کون فریق کتاب اللہ اور عترتِ رسول کی عزت کرتا ہے اور ان سے تمسک کرتا ہے اور کون فریق ان سے کوسوں دور پڑا ہے؟ 

ثقل اکبر: قرآنِ پاک کی عزت اہلِ سنت و الجماعت کے دلوں میں ہے وہ اس کی تلاوت میں شب و روز مصروف ہیں حفظِ قرآن اہلِ سنت کے مردوں عورتوں بچوں بوڑھوں کا معمول ہے برخلاف اس کے شیعہ حضرات اس کو صحیح ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کو محرفِ ناقص پر از اغلاط سمجھتے ہیں۔ جس قرآن کےی انتظار میں ہیں اس کی زیارت خواب میں بھی نصیب نہیں غرض شیعہ کے دلوں میں بوجہ عناد جامع القرآن حضرت عثمانِ غنیؓ کی بالکل عزت نہیں ہے اس لیے حفظِ قرآن کی نعمت سے بالکل محروم ہیں برخلاف اس کے کہ اہلِ سنت میں ہزاروں حافظِ قرآن موجود ہیں جو رات دن تلاوتِ قرآن میں مصروف رہتے ہیں اور سال بھر میں نماز تراویح میں سنیوں کی ہر ایک مسجد میں قرآن ہوتا ہے لیکن شیعہ تراویح کے سرے سے ہی منکر ہیں اس لیے ختمِ قرآن کیوں کریں۔

ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ الخ۔

(سورۃ المائدہ: آیت 54)

ثقل اصغر: عترتِ رسول کی عزت اہلِ سنت و الجماعت کے دلوں میں ہے۔ ہم عترتِ رسولﷺ سے محبت رکھنا اپنا دین اور ایمان سمجھتے ہیں اور کسی بزرگ پر طعن دراز کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔ لعنت تبرا بازوں کو مبارک ہو۔ ہم تو رحمۃ للعلمینﷺ کی امت ہیں۔ کسی کو برا کہنا ہمارا شیوہ نہیں ہے۔ اہلِ سنت کا دل آئینہ کی طرح صاف و شفاف ہے کہ زنگ کینہ و بغض اس کو مکدر کر نہیں کر سکتا۔

کفر است در طریقت ماکینه داشتن 

آئین ماست سینه چو آئینه داشتن 

ہاں روافض کی زبانِ طعن سے نہ اپنا بچ سکتا ہے نہ بیگانہ۔ عترتِ رسولﷺ سے جو سلوک کرتے ہیں اس سے توبہ۔